مجتبیٰ خامنہ ای منظرِ عام پر کیوں نہیں آ رہے؟احتیاط ، جنگی حکمت عملی یا کچھ اور!
شیئر کریں
باسط علی
۔۔۔۔۔۔
٭ایرانی رہبر اعلیٰ کی غیر حاضری اس لیے غیرمعمولی ہے کہ ایران میں رہبرِ اعلیٰ محض مذہبی علامت نہیں بلکہ ریاستی، عسکری اور خارجہ پالیسی کے اہم ترین فیصلوں کا آخری مرکز سمجھا جاتا ہے
٭مجتبیٰ خامنہ ای کی غیرحاضری پہلے ایک حفاظتی تدبیر ہو سکتی تھی، مگر چھ ماہ بعد یہ خود ایک سیاسی حقیقت بن گئی ہے ۔ ان کی مسلسل عدم موجودگی نے ایرانی قیادت کے مرکز میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے
٭ایران انٹرنیشنل کے ایک تجزیے کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی غیرحاضری نے ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں مختلف گروہ ان سے منسوب پیغامات کو اپنے سیاسی مؤقف کے حق میں استعمال کر سکتے ہیں
٭ ایرانی رہبر اعلیٰ کی نئی تصویر ، ویڈیو یا آواز نہ ہونے سے سوال اب ‘‘وہ کیوں چھپے ہوئے ہیں’’؟سے بڑھ کر یہ بن چکا ہے کہ ‘‘کیا نظام خود بھی نہیں چاہتا کہ عوام دیکھیں کہ وہ کس حالت میں ہیں’’؟
٭موجودہ ایران کو سمجھنے کے لیے بہترین اصطلاح ‘‘غائب رہبر’’ نہیں بلکہ ‘‘نظر نہ آنے والی قیادت’’ ہے ۔ایک ایسا نظام جس میں رہبر کی اتھارٹی موجود ہے ، مگر اس کا عملی اظہار دوسروں کے ذریعے ہو رہا ہے
(ایک ‘‘غائب رہبر’’ کے گرد ایرانی اقتدار، صحت، سلامتی اور فیصلہ سازی کی نئی بحث)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک تحریری پیغام، مگر خود رہبر کہاں ہیں؟
30 ؍اگست 2026 کو مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک نیا تحریری پیغام سامنے آیا جس میں انہوں نے مسلم ممالک، خصوصاً خلیجی ریاستوں، سے امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں اتحاد کی اپیل کی۔ پیغام ہفتہ وحدت کے موقع پر جاری کیا گیا اور اس میں مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو دشمنوں کے مفاد میں قرار دیا گیا۔لیکن اس پیغام کی اہمیت صرف اس کے سیاسی لب و لہجے میں نہیں۔ اصل سوال پھر وہی ہے :اگر مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے سپریم لیڈر ہیں تو وہ خود سامنے کیوں نہیں آتے ؟
چھ ماہ گزرنے کے باوجود ان کی کوئی نئی عوامی ویڈیو، آڈیو یا باقاعدہ تصویر سامنے نہیں آئی۔ حتیٰ کہ اپنے والد علی خامنہ ای کی تدفین کے اہم مواقع پر بھی ان کی غیرحاضری نے سوالات کو مزید بڑھایا۔یہ صورتحال اس لیے غیرمعمولی ہے کہ ایران میں رہبرِ اعلیٰ محض مذہبی علامت نہیں بلکہ ریاستی، عسکری اور خارجہ پالیسی کے اہم ترین فیصلوں کا آخری مرکز سمجھا جاتا ہے ۔
سب سے پہلے اصل واقعہ:مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ ہوا کیا تھا؟
دستیاب رپورٹوں کے مطابق 28 فروری 2026کو شروع ہونے والے امریکی و اسرائیلی حملوں میں علی خامنہ ای ہلاک ہوئے اور مجتبیٰ خامنہ ای بھی زخمی ہوئے ۔ آپ کے فراہم کردہ مضمون میں رائٹرز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کے چہرے اور ٹانگوں پر شدید چوٹیں آئیں، اگرچہ ان زخموں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ 8؍مارچ کو انہیں ایران کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا گیا۔یہ ایک انتہائی غیرمعمولی جانشینی تھی کیونکہ جنگ جاری تھی،سابق رہبر جان ہار گئے تھے ،اعلیٰ فوجی اور سیاسی شخصیات بھی ہدف بنے تھے۔،نئے رہبر خود بھی زخمی تھے، اور اس کے فوراً بعد وہ عوامی منظر سے غائب ہو گئے ۔یہاں سے ایک بنیادی فرق پیدا ہوتا ہے ۔مجتبیٰ خامنہ ای کی غیرحاضری پہلے ایک حفاظتی تدبیر ہو سکتی تھی، مگر چھ ماہ بعد یہ خود ایک سیاسی حقیقت بن گئی ہے ۔رائٹرز نے 28؍اگست کو بھی یہی نتیجہ اخذ کیا کہ چھ ماہ بعد ان کی مسلسل عدم موجودگی نے ایرانی قیادت کے مرکز میں ایک خلا پیدا کر دیا ہے ۔
سرکاری وضاحت کیا ہے ؟
ایرانی حکام کے مطابق بنیادی وجہ دو چیزیں ہیں:
اول:زخمی ہونے کے بعد صحت یابی۔حکام اور ان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہوئے تھے اور اب صحت یاب ہو رہے ہیں۔
دوم:دوبارہ ہدف بنائے جانے کا خوف۔ایرانی حکام کا استدلال ہے کہ اگر ان کا مقام، نقل و حرکت، آواز یا جسمانی حالت کے بارے میں معلومات منظر عام پر آئیں تو امریکہ یا اسرائیل کے لیے انہیں دوبارہ نشانہ بنانا آسان ہو سکتا ہے ۔
یہ دلیل اتنی اہم سمجھی گئی کہ ایرانی اخبار‘‘ہمشہری’’نے حتیٰ کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی آواز جاری نہ کرنے کو بھی ایک سکیورٹی مسئلہ قرار دیا۔ اس کی وضاحت میں کہا گیا کہ ایک آڈیو ریکارڈنگ بھی مقام، وقت، آلات اور حتیٰ کہ جسمانی حالت کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتی ہے ۔ یہ وضاحت مکمل طور پر ناقابلِ فہم نہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا چھ ماہ تک ایک سپریم لیڈر کو مکمل طور پر چھپانے کے لیے یہی کافی وجہ ہے ؟
دوسرا امکان:صحت کا مسئلہ محض ‘‘زخم’’ سے زیادہ سنگین ہے ؟
ایرانی حکام کہتے ہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں، باخبر ہیں اور اہم فیصلوں میں شریک ہیں۔ رائٹرز نے بھی ایرانی ذرائع کے حوالے سے یہی رپورٹ کیا ہے ۔ لیکن ان کی صحت کے بارے میں کوئی آزاد طبی ثبوت عوام کے سامنے نہیں رکھا گیا۔ یہی خلا افواہوں کو جنم دیتا ہے ۔ ایرانی اور بیرونِ ایران بعض حلقوں میں انتہائی سنگین قیاس آرائیاں بھی ہوئی ہیں حتیٰ کہ ان کی موت یا شدید دماغی نقصان تک کی باتیں۔ لیکن ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق موجود نہیں۔اس لیے تحقیقی اعتبار سے درست پوزیشن یہ ہے :‘‘مجتبیٰ خامنہ ای کے شدید زخمی ہونے کی متعدد رپورٹس موجود ہیں، مگر ان کی موجودہ طبی حالت معلوم نہیں۔ ان کی موت یا مستقل طور پر فیصلہ سازی سے معذوری کا دعویٰ ثابت شدہ حقیقت نہیں ہے ’’۔یہ امتیاز بہت اہم ہے ، کیونکہ ایرانی سیاست میں افواہ خود ایک سیاسی ہتھیار بن سکتی ہے ۔
پھر سوال یہ ہے کہ کم از کم ایک ویڈیو کیوں نہیں؟
یہ دراصل پوری کہانی کا سب سے مضبوط سوال ہے ۔اگر وہ واقعی حکومت کر رہے ہیں، تو ایک مختصر ویڈیو،ان کے زندہ ہونے کی تصدیق کر سکتی ہے ۔ان کی جسمانی حالت کے بارے میں بنیادی یقین پیدا کر سکتی ہے ۔ایرانی عوام کو براہِ راست مخاطب کر سکتی ہے ۔ریاستی اداروں کو ایک واضح مرکز فراہم کر سکتی ہے ۔اور افواہوں کا بڑا حصہ ختم کر سکتی ہے ۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔اس کے بجائے پیغامات تحریری شکل میں آتے ہیں۔واضح ہے کہ ایرانی رہبر اعلیٰ کی تقرری کے بعد سے ان کے تمام بیانات تحریری رہے ہیں اور کوئی نئی تصویر، آواز یا ویڈیو جاری نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ سوال اب ‘‘وہ کیوں چھپے ہوئے ہیں’’؟سے بڑھ کر یہ بن چکا ہے کہ ‘‘کیا نظام خود بھی نہیں چاہتا کہ عوام دیکھیں کہ وہ کس حالت میں ہیں’’؟
ایران کے اندر اس پر کیا بحث ہے ؟
یہاں صورتحال خاصی دلچسپ ہے ۔ایرانی معاشرہ اس معاملے پر ایک ہی رائے نہیں رکھتا، مگر بحث کو کم از کم چار سطحوں پر تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔
(الف) سخت گیر حلقہ:یہ سکیورٹی کا مسئلہ ہے ۔حکومت کے حامیوں کی بنیادی دلیل یہ ہے کہ موجودہ جنگی ماحول میں رہبر کو منظر عام پر لانا دشمن کو ہدف فراہم کرنا ہوگا۔یہ مؤقف سرکاری یا نیم سرکاری ذرائع میں مسلسل دہرایا جا رہا ہے ۔اس نقطۂ نظر میں مجتبیٰ کی غیرحاضری کمزوری نہیں بلکہ ‘‘احتیاط اور جنگی حکمت ِعملی’’ہے ۔
(ب) نظام کے اندر ایک دوسرا سوال:‘‘کیا اتنی غیرحاضری مناسب ہے ’’؟یہ بحث زیادہ حساس ہے ۔ایران میں حتیٰ کہ حکومت کے حامی حلقوں میں بھی یہ سوال اٹھا ہے کہ اگر عوام اپنے رہبر کو دیکھ یا سن نہیں سکتے تو ان کا اعتماد کیسے قائم رہے گا؟رائٹرز نے ایک بسیجی رکن کے حوالے سے بتایا کہ اگر عوام رہبر کی آواز سن سکیں یا ان کی موجودگی کا واضح ثبوت دیکھ سکیں تو اس سے قیادت پر اعتماد بڑھے گا۔یعنی مسئلہ صرف مخالفین نہیں اٹھا رہے ۔ریاست کے اپنے حامی بھی ‘‘نظر نہ آنے والے رہبر’’کے سیاسی نقصان کو محسوس کر رہے ہیں۔
ایرانی سوشل میڈیا میں طنز کیوں بڑھ رہا ہے ؟
یہ پہلو خاص طور پر اہم ہے ۔حالیہ ایرانی سوشل میڈیا بحث میں مجتبیٰ خامنہ ای کی غیرحاضری صرف سیاسی تنقید نہیں رہی بلکہ طنز اور مزاح کا موضوع بھی بن گئی ہے ۔ایران انٹرنیشنل نے 27؍اگست کو رپورٹ کیا کہ صارفین نے حتیٰ کہ یہ سوال بھی طنزیہ انداز میں اٹھایا کہ اب تحریری پیغامات بھی کیوں کم ہو گئے ہیں۔ بعض صارفین نے ‘‘سبسکرپشن ختم ہونے ’’ جیسی طنزیہ زبان استعمال کی۔یہ بظاہر معمولی بات لگ سکتی ہے ، مگر ایک ‘authoritarian’ نظام کے لیے ‘طنز کا پھیلنا ایک اہم سماجی اشارہ’ہوتا ہے ۔کیونکہ جب ایک مقدس یا انتہائی طاقتور سیاسی علامت مزاح کا موضوع بننے لگے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ ریاستی تقدس اور عوامی تصورکے درمیان فاصلہ بڑھ رہا ہے ۔
سب سے بڑا سیاسی مسئلہ:‘‘غائب رہبر’’ کی ہدایات کی تعبیر کون کرتا ہے ؟
یہ شاید پورے معاملے کا سب سے اہم پہلو ہے ۔ایک حاضر رہبر،حکم دیتا ہے فیصلہ واضح ہوتا ہے ، ادارے عمل کرتے ہیں۔ایک غیرحاضر رہبر کی صورت میں تحریری پیغام آتا ہے ، مختلف ادارے اس کی تعبیر کرتے ہیں ۔ہر طاقتور گروہ اپنی تعبیر کو ‘‘رہبر کی مرضی’’ قرار دے سکتا ہے ۔یہی خطرہ ایران کے موجودہ نظام میں پیدا ہو رہا ہے ۔ایران انٹرنیشنل کے ایک تجزیے کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کی غیرحاضری نے ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں مختلف گروہ ان سے منسوب پیغامات کو اپنے سیاسی مؤقف کے حق میں استعمال کر سکتے ہیں۔یہاں ‘‘اصل طاقت پیغام لکھنے والے سے زیادہ پیغام کی تعبیر کرنے والے کے پاس آ سکتی ہے ’’۔
تو پھر ایران حقیقتاً کون چلا رہا ہے ؟
ایران ایک شخص کے ذریعے نہیں بلکہ طاقتور اداروں کے ایک نیٹ ورک کے ذریعے چل رہا ہے ۔اس میں بنیادی کردار رکھنے والے حلقوں میں شامل ہیں، پاسدارانِ انقلاب،صدر مسعود پزشکیان،پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف،سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل،اعلیٰ فوجی کمانڈ،اور رہبر کے دفتر سے براہِ راست رابطہ رکھنے والے محدود افراد۔ روزمرہ اختیارات کا بڑا حصہ سینئر حکام کو منتقل کیا گیا ہے ، جبکہ بڑے تزویراتی فیصلوں میں آخری اختیار اب بھی مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب کیا جاتا ہے ۔ یہ دراصل ایک ‘‘اجتماعی لیڈر شپ ماڈل’’بنتا جا رہا ہے ۔
پاسدارانِ انقلاب کا کردار کیوں بڑھ رہا ہے ؟
جنگ نے ایرانی ریاست کے اندر طاقت کا توازن بدل دیا ہے ۔جنگ سے پہلے بھی پاسدارانِ انقلاب ایران کی طاقتور ترین ریاستی تنظیموں میں سے تھا، مگر جنگ کے بعدفوجی خطرہ بڑھا،اعلیٰ عسکری قیادت کو نقصان پہنچا،قومی سلامتی اولین ترجیح بن گئی،خارجہ پالیسی اور جنگی فیصلے زیادہ عسکری نوعیت اختیار کر گئے ۔اس لیے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل اور پاسدارانِ انقلاب کی اہمیت بڑھنا منطقی نتیجہ ہے ۔یوں ایران کی فیصلہ سازی پہلے کے مقابلے میں زیادہ ادارہ جاتی ہوئی ہے اور پاسدارانِ انقلاب کا کردار بڑھا ہے ۔
کیا مجتبیٰ خامنہ ای محض اب ایک علامتی رہبر ہیں؟
ابھی ایسا نتیجہ نکالنا قبل از وقت ہوگا۔ایرانی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بڑے فیصلوں کی حتمی منظوری اب بھی ان ہی سے آتی ہے ۔مثلاً:
مسعود پزشکیان نے مجتبیٰ سے طویل ملاقات کا دعویٰ کیا۔ان سے منسوب تقرریاں جاری ہوئیں۔قومی سلامتی کے معاملات پر ان کے پیغامات آتے رہے ۔محسن رضائی کو ان کا نمائندہ بنا کر سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں بھیجا گیا۔ لیکن یہاں ایک بنیادی طریقہ کار (methodological) کامسئلہ ہے ۔ہم یہ سب کچھ خود مجتبیٰ خامنہ ای کو دیکھ کر نہیں جانتے ۔ ہم یہ بات ایرانی حکام، سرکاری اعلانات اور ان کے نام سے جاری احکامات کے ذریعے جانتے ہیں۔یہ فرق معمولی نہیں۔
نیا پیغام:خلیج کے بارے میں لہجہ کیوں بدلا؟
30 ؍اگست کے نئے پیغام میں ایک اہم تبدیلی نظر آتی ہے ۔جنگ کے دوران ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان شدید کشیدگی ہوئی۔ ایران نے امریکی فوجی تنصیبات کے علاوہ بعض خلیجی مقامات کو بھی نشانہ بنایا، جبکہ آبنائے ہرمز کے بحران نے خلیجی معیشتوں اور عالمی توانائی تجارت کو متاثر کیا۔ اس پس منظر میں مجتبیٰ کا تازہ پیغام خلیجی حکمرانوں کو دشمن نہیں بلکہ ممکنہ ‘‘اسلامی اتحاد کے شریک’’کے طور پر مخاطب کرتا ہے۔یہ ایک اہم تبدیلی ہے ۔لیکن یہ مکمل مفاہمت نہیں۔کیونکہایرانی حملوں کا کوئی واضح اعتراف نہیں،خلیجی ریاستوں سے معذرت نہیں، تعلقات بحال کرنے کا عملی منصوبہ نہیں،بلکہ امریکہ اور اسرائیل کو مشترکہ ‘‘حقیقی دشمن’’ قرار دینے کی اپیل ہے ۔لہٰذا اسے ‘‘مکمل مفاہمت کے بجائے’’ strategic repositioningکہنا زیادہ مناسب ہوگا۔
پیغام کا اصل مخاطب صرف خلیج نہیں، خود ایران بھی ہے
نئے پیغام کا ایک اہم حصہ داخلی اتحاد پر بھی ہے ۔اس سے چند دن پہلے 28؍اگست کو مجتبیٰ خامنہ ای سے منسوب ایک اور پیغام سامنے آیا تھا جس میں ایرانی حکام کو ایسے بیانات سے گریز کا کہا گیا جو سماجی تقسیم یا عوامی حوصلہ شکنی کا باعث بنیں۔ یہ ترتیب معنی خیز ہے :پہلا پیغام: ایران کے اندر اتحاد۔دوسرا پیغام:مسلم دنیا، خصوصاً خلیج، کے ساتھ اتحاد۔یہ دونوں پیغامات ایک ہی بنیادی سیاسی ضرورت کو ظاہر کرتے ہیں۔جنگ، معاشی بحران اور داخلی اختلافات کے بعد حکومت کو ایک وسیع تر ‘‘اتحاد’’ کا بیانیہ درکار ہے ۔
مگر کیا یہ واقعی خلیج کے ساتھ تعلقات بہتر کر سکتا ہے ؟
یہ بہت مشکل ہوگا۔کیونکہ جنگ کے دوران خلیجی ممالک کو ایران کے حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور عمان سمیت جی سی سی کے تمام ارکان کسی نہ کسی شکل میں ایرانی کارروائیوں سے متاثر ہوئے ۔ لہٰذا تہران کے لیے اب اصل مسئلہ صرف بیان بدلنا نہیں بلکہ ‘‘اعتماد بحال کرنا’’ہے ۔اور اعتماد کے لیے شاید تین چیزیں درکار ہوں گی:
1۔خلیجی سرزمین کے خلاف حملوں سے گریز
2۔آبنائے ہرمز اور علاقائی تجارت کے بارے میں واضح یقین دہانی
3۔ایران-خلیج سکیورٹی مکالمہ۔
نئے پیغام میں ان میں سے کوئی مکمل عملی منصوبہ موجود نہیں۔
‘‘غائب رہبر’’ کا سب سے خطرناک اثر:طاقت کے متوازی مراکز
یہاں اصل خطرہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت نہیں بلکہ ‘‘اختیار کی تعبیر’’ہے ۔فرض کریں ایک مسئلہ پیدا ہوتا ہے :مذاکرات کرنے ہیں یا نہیں؟
ایک گروہ کہے :رہبر مذاکرات کے مخالف ہیں۔دوسرا کہے :رہبر نے مذاکرات کی اجازت دی ہے ۔اگر رہبر خود سامنے نہ آئے تو کون فیصلہ کرے گا کہ اصل بات کیا ہے ؟اسی لیے یہ خدشہ قطعی بے بنیاد نہیں کہ طویل غیرحاضری کی صورت میں مختلف طاقتور دھڑے اپنے اپنے موقف کو رہبر کی مرضی قرار دینے لگ سکتے ہیں۔ یہ درحقیقت بے قیادت سیاست(leaderless politics)نہیں بلکہ‘‘ غیر حاضر قیادت کے ذریعے چلنے والی گروہی سیاست( leader-mediated factional politics)ہے ۔یعنی رہبر موجود ہے ، مگر اس کی غیرحاضری میں دوسرے اس کے نام سے طاقت استعمال کرتے ہیں۔
کیا یہ ایرانی نظام کے لیے کمزوری ہے یا طاقت؟
دونوں امکانات موجود ہیں۔
مختصر مدت میں:طاقت۔
غیرحاضری حکومت کو یہ فائدہ دیتی ہے کہ دشمن کو رہبر کا مقام معلوم نہیں۔فیصلے اجتماعی اداروں کے ذریعے جاری رہ سکتے ہیں۔حساس فیصلوں کی ذمہ داری کئی اداروں میں تقسیم ہو جاتی ہے ۔حکومت ‘‘رہبر موجود ہیں’’ کا بیانیہ برقرار رکھ سکتی ہے ۔
طویل مدت میں:کمزوری
لیکن اگر یہی صورتحال برقرار رہی توعوامی اعتماد کم ہو سکتا ہے ۔رہبر کی قانونی و مذہبی اتھارٹی متاثر ہو سکتی ہے ۔طاقتور ادارے زیادہ خودمختار ہو سکتے ہیں۔مختلف گروہ ان کے نام سے مختلف پالیسیاں چلا سکتے ہیں۔اور جانشینی کا مسئلہ دوبارہ سر اٹھا سکتا ہے ۔
اسی لیے مجتبیٰ کی غیرحاضری کو صرف ‘‘حفاظتی تدابیر’’سمجھنا ناکافی ہے ۔یہ اب ایک ادارتی جوکھم( institutional risk)بھی بن چکاہے ۔
ایرانی عوام کے لیے اصل سوال ‘‘زندہ ہیں یا نہیں’’؟ سے آگے بڑھ چکا ہے
ابتدائی سوال تھا:مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں؟اب زیادہ سنجیدہ سوال ہے :اگر زندہ ہیں تو کس حد تک حکومت کر سکتے ہیں؟اور اس کے بعد:
اگر حکومت کر رہے ہیں تو فیصلے کیسے پہنچتے ہیں؟اور پھر:اگر فیصلے ان کے نام پر دوسرے لوگ کر رہے ہیں تو حقیقی طاقت کس کے پاس ہے ؟
یہی وجہ ہے کہ ان کی صحت کا مسئلہ دراصل ‘‘اقتدار کے ڈھانچے کا مسئلہ’’بن گیا ہے ۔
ایک اہم اشارہ:پزشکیان اور مجتبیٰ کی ملاقاتیں
ایرانی حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای فعال ہیں۔صدر مسعود پزشکیان نے ایک موقع پر ان کے ساتھ طویل ملاقات کا دعویٰ کیا، جبکہ دیگر ایرانی ذرائع بھی اعلیٰ حکام کے ان سے رابطے کی بات کرتے رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق ریاستی اداروں کا معمول کے مطابق چلنا اور خارجہ پالیسی میں تسلسل بھی اس بات کے حق میں استعمال کیا جا رہا ہے کہ رہبر فیصلہ سازی میں شریک ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ایک اہم انتباہی اعتراض بھی ہے :ان ملاقاتوں کا آزادانہ بصری یا آڈیو ثبوت موجود نہیں۔لہٰذا کسی بھی تجزیے میں دو متضاد امکانات بیک وقت کھلے رہتے ہیں۔
پہلاامکان ۔مجتبیٰ شدید زخمی مگر فعال ہیں، اور جان بوجھ کر زیرِزمین رہ کر حکومت کر رہے ہیں۔
دوسراامکان ۔ان کی صحت اتنی خراب ہے کہ حقیقی فیصلہ سازی محدود یا بالواسطہ ہو چکی ہے ، جبکہ نظام ان کے نام اور منصب کو مرکزی علامت کے طور پر استعمال کر رہا ہے ۔
موجودہ کھلے ذرائع میں ان دونوں میں سے کسی ایک کو قطعی طور پر ثابت کرنے کے لیے کافی شواہد نہیں۔
رہبر اعلیٰ کی عدم موجودگی نے جنگ کی سیاست کو کیسے متاثر کیا؟
یہ پہلو انتہائی اہم ہے ۔ایران کو اس وقت دو بنیادی راستوں کے درمیان انتخاب کرنا ہے :
راستہ اول:امریکہ کے ساتھ کوئی دیرپا معاہدہ۔جس کا مطلب ہوگا،جنگی دباؤ کم کرنا۔اقتصادی پابندیوں سے نکلنے کی کوشش۔آبنائے ہرمز کی صورتحال معمول پر لانا۔علاقائی کشیدگی کم کرنا۔
راستہ دوم:طویل مزاحمت۔جس کا مطلب ہوگا،عسکری بازدارندگی (Deterrence) بحال کرنا۔امریکی دباؤ کا مقابلہ۔اقتصادی قربانی برداشت کرنا۔خطے میں طاقت کا دباؤ برقرار رکھنا۔
یہاں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ دونوں راستوں میں رہبر کی واضح منظوری ضروری ہوگی۔ اوریہی وجہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی عدم موجودگی کو صرف ذاتی صحت کا معاملہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
معاشی بحران اسے مزید خطرناک بنا رہا ہے
ایران جنگ سے پہلے ہی شدید اقتصادی دباؤ میں تھا۔پھرجنگ کے بعدتیل کی برآمدات متاثر ہوئیں،پابندیاں بڑھیں،کرنسی پر دباؤ آیا،آبنائے ہرمز کے بحران نے تجارت کو نقصان پہنچایا،جنگی اخراجات بڑھے ۔ایرانی قیادت کی تین بڑی ترجیحات اب یہ ہیں:
1۔نظام کی بقا
2۔دفاعی اور بازدارانہ صلاحیت کی بحالی
3۔معاشی بحران کو سیاسی عدم استحکام میں تبدیل ہونے سے روکنا۔
یہاں ایک بنیادی تعلق بنتا ہے :
جتنی معاشی مشکلات بڑھیں گی، اتنی ہی داخلی سیاست میں یہ بحث بڑھے گی کہ ایران کو جنگ جاری رکھنی چاہیے یا سمجھوتہ کرنا چاہیے ۔اور جتنا مجتبیٰ غیرحاضر رہیں گے ، اتنا ہی یہ سوال اہم ہوگا کہ کس کی منظوری سے یہ فیصلہ ہو رہا ہے ؟
کیا مجتبیٰ خامنہ ای کی غیرحاضری خود ایک حکمتِ عملی بن چکی ہے ؟
دستیاب شواہد کی روشنی میں یہ ایک مضبوط امکان ہے ۔ایران انٹرنیشنل کے حالیہ تجزیوں میں بھی یہی سوال اٹھایا گیا ہے کہ ایک ‘‘غائب رہبر’’کی صورت حال اب محض عارضی سکیورٹی انتظام نہیں رہی بلکہ ایرانی حکمرانی کے طریقہ کار کا حصہ بنتی جا رہی ہے ۔اس حکمت ِعملی کے تین ممکنہ فوائد ہیں:
اول:دشمن کو ایک واضح انسانی ہدف نہ ملے ۔
دوم:ریاستی فیصلے اداروں میں تقسیم رہیں۔
سوم:رہبر کا نام ہر بڑے فیصلے کو حتمی قانونی حیثیت فراہم کرتا رہے ۔
مگر اس کا نقصان بھی اتنا ہی واضح ہے :
جس شخص کو دکھایا نہیں جا سکتا، اس کی اتھارٹی آہستہ آہستہ اس کے اردگرد موجود لوگوں کی تعبیر پر منحصر ہو جاتی ہے ۔
سب سے اہم نتیجہ: ایران میں ‘‘رہبر’’ اور ‘‘حکومت’’ الگ الگ چیزیں بنتی جا رہی ہیں
یہ شاید موجودہ بحران کی سب سے اہم سیاسی تشریح ہے ۔ایران کا نظام اس وقت بظاہر یوں کام کر رہا ہے :
مجتبیٰ خامنہ ای یعنی حتمی نظری و قانونی اختیار
جبکہ
پاسداران ، سکیورٹی کونسل ، صدر ، دیگر اعلیٰ ادارے یعنی عملی روزمرہ حکمرانی
یہ انتظام مختصر مدت میں مؤثر ہو سکتا ہے ۔لیکن طویل مدت میں سوال یہ پیدا ہوگا کہ اگر عملی طاقت اور رسمی اختیار الگ الگ ہو جائیں تو آخری فیصلہ کس کا ہوگا؟یہ سوال خاص طور پر اس وقت اہم ہوگا جب ایران کو امریکہ کے ساتھ کسی بڑے معاہدے ، جنگ بندی، جوہری پالیسی یا خلیجی ریاستوں کے ساتھ نئی سکیورٹی ترتیب کے بارے میں فیصلہ کرنا پڑے گا۔
آنے والے دنوں میں کن چیزوں پر نظر رکھنی چاہیے ؟
مجتبیٰ خامنہ ای کی حقیقی صورتحال سمجھنے کے لیے محض نئے تحریری پیغامات کافی نہیں ہوں گے ۔ پانچ اشارئیے سب سے زیادہ اہم ہوں گے :
1۔ کیا ان کی نئی تصویر جاری ہوتی ہے ؟ایک تازہ اور قابلِ تصدیق تصویر بہت سے سوالات ختم کر سکتی ہے ۔
2۔ کیا ان کی آواز پہلی بار نشر ہوتی ہے ؟آڈیو ان کی جسمانی اور ذہنی حالت کے بارے میں کم از کم بنیادی معلومات دے گی۔
3۔ کیا وہ براہِ راست عوام سے خطاب کرتے ہیں؟یہ سب سے مضبوط سیاسی اشارہ ہوگا۔
4۔ کیا اہم فوجی یا خارجہ پالیسی فیصلوں میں ان کا براہِ راست کردار نظر آتا ہے ؟محض تقرریاں کافی نہیں؛ اصل سوال فیصلہ کن لمحات ہیں۔
5۔ کیا پاسدارانِ انقلاب اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل مزید اختیارات حاصل کرتے ہیں؟اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ متوازی اجتماعی یا ادارہ جاتی قیادت مستقل شکل اختیار کر رہی ہے ۔
نئے خلیجی پیغام کو کیسے پڑھا جائے ؟
اس پیغام کو نہ تو مکمل مفاہمت سمجھنا چاہیے اور نہ ہی محض معمول کا مذہبی بیان۔یہ دراصل تین سطحوں پر پیغام ہے :
خلیج کو:امریکہ پر مکمل انحصار سے نکلیں اور ایران کو مشترکہ اسلامی طاقت کا حصہ سمجھیں۔
ایرانی عوام کو:جنگ کے بعد داخلی اختلافات نہ بڑھنے دیں۔
ریاستی اشرافیہ کو:بقا کے لیے داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر اتحاد ضروری ہے ۔
لیکن اس پیغام میں ایک بنیادی خلا موجود ہے :
اعتماد کی بحالی کا عملی طریقہ نہیں بتایا گیا۔اس لیے یہ ڈپلومیسی کا آغاز ہو سکتا ہے ، مگر ابھی ڈپلومیسی خود نہیں۔
نتیجہ: اصل راز مجتبیٰ کہاں ہیں نہیں، اصل سوال طاقت کہاں ہے
چھ ماہ بعد مجتبیٰ خامنہ ای کی مسلسل غیرحاضری کو صرف ‘‘زخموں سے صحت یابی’’ کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔دستیاب شواہد سے تین باتیں نسبتاً واضح ہیں:
اول:ایرانی ریاست انہیں زندہ اور فیصلہ سازی میں فعال رہبر کے طور پر پیش کر رہی ہے ۔
دوم:ان کی صحت، مقام اور حقیقی عملی کردار کے بارے میں آزادانہ عوامی ثبوت انتہائی محدود ہیں۔
سوم:ان کی غیرحاضری نے ایران میں اقتدار کو ایک زیادہ اجتماعی، ادارہ جاتی اور بالخصوص سکیورٹی اداروں پر منحصر شکل دے دی ہے ۔
اس لیے اصل سوال اب یہ نہیں کہ مجتبیٰ خامنہ ای کب سامنے آئیں گے ؟بلکہ زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر وہ سامنے نہیں آتے تو ان کے نام پر ایران کون چلا رہا ہے ؟
اور اس سے بھی بڑا سوال:جس دن ایران کو جنگ یا امن، امریکہ سے معاہدے یا طویل مزاحمت، اور خلیج کے ساتھ تصادم یا مفاہمت میں سے ایک راستہ چننا ہوگا، اس فیصلے پر آخری مہر کس کی ہوگی؟
یہی وہ مقام ہے جہاں مجتبیٰ خامنہ ای کی ذاتی غیرحاضری ‘‘ایرانی ریاست کے مستقبل کے سوال’’میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔30؍اگست کا تازہ پیغام اس بحران کو ختم نہیں کرتا، الٹا اسے مزید نمایاں کرتا ہے ۔ کیونکہ ایک طرف رہبر کا نام پہلے سے زیادہ سیاسی فیصلوں، تقرریوں اور بیانات کے ساتھ جڑا ہوا ہے ، اور دوسری طرف خود رہبر اب بھی عوام کی نظروں سے غائب ہیں۔ چنانچہ موجودہ ایران کو سمجھنے کے لیے شاید بہترین اصطلاح ‘‘غائب رہبر’’ نہیں بلکہ ‘‘نظر نہ آنے والی قیادت’’ ہے ۔ایک ایسا نظام جس میں رہبر کی اتھارٹی موجود ہے ، مگر اس اتھارٹی کا عملی اظہار دوسروں کے ذریعے ہو رہا ہے ۔یہی تضاد آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ایران کی سیاست کا سب سے اہم امتحان ہوگا۔
٭٭٭


