سندھ میں رہائشی پلاٹس کی کمرشلائزیشن پر 7 سال بعد پابندی ختم
شیئر کریں
کراچی سمیت صوبے بھر میں زمین کے استعمال کی تبدیلی کی اجازت، انفرااسٹرکچر فیس کی تقسیم کا نیا فارمولا بھی نافذ
زمین کے استعمال میں تبدیلی کے لیے متعلقہ قوانین، زوننگ قواعد، ماسٹر پلان اور مجاز اتھارٹی سے باقاعدہ اجازت اور این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا، سینئر ڈائریکٹرسندھ ماسٹر پلان اتھارٹی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سندھ میں رہائشی پلاٹس کو کمرشل مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر عائد سات سالہ پابندی ختم کردی گئی ہے۔ سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی نے 2019 سے عائد پابندی کا نوٹیفکیشن منسوخ کرتے ہوئے کراچی اور حیدرآباد سمیت صوبے کے مختلف علاقوں میں زمین کے استعمال کی تبدیلی سے متعلق نیا طریقہ کار اور انفرااسٹرکچر فیس کی تقسیم کا فارمولا جاری کردیا۔
ماسٹر پلان اتھارٹی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سپریم کورٹ کے 2018 اور 2019 کے فیصلوں اور متعلقہ امتناعی نوٹیفکیشن کی روشنی میں سابقہ پابندی ختم کی گئی ہے اور تمام متعلقہ اداروں کو عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی ہدایت کی گئی ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ پابندی ختم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر رہائشی پلاٹ خودبخود کمرشل ہوجائے گا۔ زمین کے استعمال میں تبدیلی کے لیے متعلقہ قوانین، زوننگ قواعد، ماسٹر پلان اور مجاز اتھارٹی سے باقاعدہ اجازت اور این او سی حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی کے سینئر ڈائریکٹر شکیل صدیقی کے مطابق کراچی میں بیچ ایونیو روڈ، خیابان سعدی، خیابان رومی، نشتر روڈ، دھوراجی روڈ، عالمگیر روڈ، شاہراہ نور جہاں، اسٹیڈیم روڈ، شاہراہ عثمان، ٹیپو سلطان روڈ، شاہراہ ہمایوں، شاہراہ فیصل، طارق روڈ، راشد منہاس روڈ، یونیورسٹی روڈ، شاہراہ پاکستان، ناظم آباد اے روڈ، نارتھ ناظم آباد 300 فٹ، شاہراہ جہانگیر، خیابان اقبال، خیابان جامی، خالد بن ولید روڈ، جمال الدین افغانی روڈ، علامہ اقبال روڈ، سر سید احمد روڈ، شہید ملت روڈ اور چوہدری خلیق الزمان روڈ سمیت مختلف ڈیکلیئرڈ سڑکوں پر مقررہ ضوابط کے تحت کمرشلائزیشن ہوسکے گی۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ بلدیات اور ہاؤسنگ ٹاؤن پلاننگ نے زمین کے استعمال کی تبدیلی پر وصول ہونے والی انفرااسٹرکچر فیس کی مختلف بلدیاتی اداروں اور اتھارٹیز کے درمیان تقسیم کے لیے نیا فارمولا تیار کیا ہے، جس کے تحت سابقہ تمام احکامات اور نوٹیفکیشنز منسوخ کردیے گئے ہیں۔
نئے فارمولے کے مطابق کراچی ڈویژن اور حیدرآباد ضلع میں زمین کے استعمال کی تبدیلی پر وصول ہونے والی انفرااسٹرکچر فیس کا 45 فیصد متعلقہ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن، 25 فیصد سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی، 20 فیصد واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن جبکہ 10 فیصد میٹروپولیٹن یا میونسپل کارپوریشن کو دیا جائے گا۔
میرپورخاص، شہید بینظیر آباد، سکھر اور لاڑکانہ کے ڈویژنل ہیڈکوارٹرز کے شہری علاقوں میں بھی میونسپل کارپوریشن کی حدود کے اندر فیس کی تقسیم اسی تناسب سے ہوگی۔ تاہم ایسے علاقوں میں جہاں کارپوریشن کا دائرہ اختیار نہیں، وہاں مجموعی فیس کا 75 فیصد متعلقہ میونسپل کمیٹی، ٹاؤن کمیٹی یا ڈسٹرکٹ کونسل جبکہ 25 فیصد ماسٹر پلان اتھارٹی کو ملے گا۔
عدالتی فیصلوں کے تحت پارک، اسپتال، اسکول، مساجد، کھیل کے میدان اور قبرستان جیسے رفاہی پلاٹس کو کسی بھی صورت کمرشل یا رہائشی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جاسکے گا۔ رئیل اسٹیٹ شعبے کے نمائندوں نے پابندی ختم کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کئی برس سے زیر التوا منصوبوں کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔ چیئرمین آباد حسن بخشی نے کہا کہ فیصلے سے رئیل اسٹیٹ شعبے نے سکھ کا سانس لیا ہے۔
انہوں نے تاہم خبردار کیا کہ ٹھوس منصوبہ بندی اور انفرااسٹرکچر میں بہتری کے بغیر بڑے پیمانے پر کمرشلائزیشن سے ٹریفک، پانی، سیوریج اور دیگر شہری سہولیات پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 26 ڈیکلیئرڈ سڑکوں پر کمرشل سرگرمیوں کی اجازت سے روزگار کے مواقع بڑھنے اور شہریوں کے لیے کاروباری و تجارتی مقامات کے انتخاب میں اضافہ متوقع ہے۔


