سائبر فراڈ کے مراکز میں کام کے لیے لوگوں کو ورغلانے کے رجحان میں اضافہ
شیئر کریں
ان افراد کو زیادہ تر جعلی ملازمت کے اشتہارات کے ذریعے ورغلایا جاتا ہے، اقوا م متحدہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہجرت سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے نے خبردار کیا ہے کہ مجرمانہ نیٹ ورکس لاکھوں افراد کی اسمگلنگ کر رہے ہیں جن میں سے اکثر اعلی تعلیم یافتہ اور روانی سے انگریزی بولنے والے ہیں تاکہ ان سے سائبر فراڈ کے مراکز میں کام لیا جا سکے،
مزید یہ کہ اس طرح کے کیسز کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم)نے وضاحت کی کہ متاثرہ افراد کو اکثر جعلی ملازمت کے اشتہارات کے ذریعے ورغلایا جاتا ہے، جو زیادہ تر سوشل میڈیا کے ذریعے شائع کیے جاتے ہیں اور ان میں بیرونِ ملک کام کا وعدہ کیا جاتا ہے۔
ان افراد کی شناختی دستاویزات ضبط کر لی جاتی ہیں اور تشدد، دھمکیوں اورقرضوں کی غلامی کے ذریعے سائبر فراڈ کی کارروائیوں میں حصہ لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی ڈائریکٹر جنرل ایمی پوپ نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایاہم اس وقت اس طرح کے کیسز کی بڑی تعداد سامنے آتے دیکھ رہے ہیں۔ ‘
ہم دیکھ رہے ہیں کہ 80 سے زائد مختلف ممالک کے متاثرین کو فراڈ کی کارروائیوں میں اسمگل کیا جا رہا ہے۔پوپ نے مزید کہا کہ وہ ایسے افراد کو بھرتی کر رہے ہیں جو روانی سے انگریزی بولتے ہیں اور اکثر اعلی ڈگریوں کے حامل ہوتے ہیں، یا ایک خاص تعلیمی معیار رکھتے ہیں۔ پوپ نے اشارہ کیا کہ یہ واقعاتخاص طور پر ایشیا میں پھیل رہے ہیں۔
ہجرت کے ادارے نے ڈرگز اینڈ کرائم پر اقوام متحدہ کے دفتر کے تخمینوں کا حوالہ دیا، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مشرقی ایشیا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں گذشتہ سال 114 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ خطے میں پھیلے ہوئیفراڈ کے کمپانڈز میں اسمگل کیے گئے لاکھوں کارکنان موجود ہو سکتے ہیں۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی رپورٹ کے مطابق اس نے 2022 اور 2025 کے درمیان جبری جرائم کے شکار 3500 سے زائد افراد کو امداد فراہم کی ہے، جن کے آبا و اجداد کا تعلق تقریبا 40 ممالک سے ہے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں انڈونیشیا، بھارت، سری لنکا، ایتھوپیا، کینیا اور بنگلہ دیش کے شہری شامل تھے۔


