جرمنی میں طالبان حکومت کے بعد پہلی بار مجرمانہ ریکارڈ کے بغیر افغانی ملک بدر
شیئر کریں
سیاسی پناہ کا دعویٰ ختم ہو جانے کے بعد اس شخص کی ملک بدری ضروری ہو گئی تھی،جرمن وزیرداخلہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیرِ داخلہ الیگزینڈر ڈوبرینڈ نے کہا ہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد جرمنی نے پہلی بار مجرمانہ ریکارڈ کے بغیر کسی افغان شہری کو ملک بدر کیا۔
ڈوبرینڈ کے مطابق سیاسی پناہ کا دعوی ختم ہو جانے کے بعد اس شخص کی ملک بدری ضروری ہو گئی تھی۔اس نے کسی دوسرے یورپی ملک میں آباد ہونے کی کوشش کی تھی لیکن وہ وہاں غیر قانونی طور پر مقیم پایا گیا۔ واپس جرمنی منتقل کر دینے کے بعد اسے افغانستان بھیج دیا گیا،
یہ شخص ان 31 افغان آدمیوں میں شامل تھا جنہیں گزشتہ روز ہوائی جہاز کے ذریعے ملک بدر کیا گیا۔ دیگر 30 کو مجرمانہ سزائیں سنائی گئیں۔افغانسان پر 2021 میں طالبان کے قبضے کے بعد افغانیوں کی ملک بدری متنازعہ رہی ہے جس میں انسانی حقوق اور واپس آنے والوں کے ساتھ بدسلوکی کے خدشات ہوتے ہیں۔دو سال قبل افغانستان ملک بدری کے دوبارہ شروع ہونے کے بعد سے جرمنی 200 سے زائد افراد کو واپس بھیج چکا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ملک بدری کے بعد کم از کم ایک شخص ہلاک ہو گیا۔


