ایران میں جنگ ختم کرنے کیلئے امریکہ کیا کرے؟
شیئر کریں
حاصل مطالعہ
عبدالرحیم
نیویارک ٹائمز کے کالم نویس بریٹ اسٹیفنز کا کہنا ہے کہ امریکہ کیلئے آبنائے ہرمز کو کھولنے کا سب سے آسان طریقہ ایرانی خام تیل لے جانے والے ٹینکرز کو پکڑنا شروع کرنا ہے جب وہ بحیرہ عرب میں پہنچ جائیں۔اصول یہ ہوگا کہ آبنائے ہرمز یا تو سب استعمال کریں یا کوئی بھی نہ کرے۔توانائی یاتو آبنائے ہر مز سے آزادی سے بہے گی یا بالکل نہیں بہے گی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی اپنی ناکہ بندی کے پوائنٹ کو فاکس نیوز کی ماریہ بارٹی رومو سے یوں بیان کیا کہ یہ آپ کا دوست نہیں ہوگا،اس ملک کی طرح جو آپ کا حلیف ہے۔صدر ٹرمپنے ایران کا ٹینکروں کو محفوظ گزرنے دینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جو اس کا تیل لے کر جا رہے ہوں یا انہوں نے محصول راہداری ادا کیا ہو۔ یہ سب کچھ ہے یا بالکل نہیں ہے۔صدر ٹرمپ اچھا مشورہ قبول کر رہے ہیں۔اس نے ٹرمپ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ایرانی حکومت کے سامنے بنیادی چوائس رکھنا ہوگا۔ یا توایرانی حکومت بڑی معیشت رکھے یا پھرایٹمی پروگرام رکھے اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز کوکنٹرول کرنے کی کوشش کرے لیکن وہ دونوں نہیں رکھ سکتا۔
تائیوان کی اپوزیشن لیڈر کا دورہ چین
تائیوان کی اپوزیشن راہنما چینگ لی وون نے دورہ چین کے دوران تائیوان جزیرہ کے مستقبل پر طویل المدت تنازع کے "پْر امن حل” کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم آبنائے تائیوان کو آبنائے ہرمز بننے کی اجازت نہیں دے سکتے۔
پوپ لیو نے ٹرمپ سے کہا ہے کہ میں آپ سے نہیں ڈرتا
ایک عالمی لیڈر ایسا ہے جو صدر ٹرمپ کی دھمکیوں سے محفوظ ہے۔اسے نہ تو یہ پریشانی ہے کہ اس پر کوئی ٹیرف لگائے گا۔ اس کی چھوٹی سی اسٹیٹ ایسی نہیں کہ ٹرمپ کا اس پر دل للچائے۔وینزویلا طرز کا اس کا اغوا انتہائی ناممکن ہے۔روحانی انداز میں ٹرمپ پر نکتہ چینی اس کے کام کا حصہ ہے۔ یہ سیاستدان پوپ لیوxiv یونیورسل چرچ کا سپریم پونٹف ہے۔
سوڈان میں انسانیت سوز مظالم
سوڈان میںایک نوجوان ماںآمنہ عثمان محمد ایک جھاڑی کے پیچھے چھپی ہوئی تھی جب اس نے دیکھا کہ جنگجو چار افراد کی ایک فیملی کو دھمکی دے رہے ہیں کہ ہم یا تو تمہاری لڑکیوں کی عزت لْوٹیں گے یا پھر تمھاری بیوی کو قتل کر دیں گے ۔اس نے سنا کہ ایک آدمی یہ بات کہہ رہا ہے۔ پھراس نے دیکھا کہ والد آگے بڑھا اور کہا کہ مجھے قتل کردو، میری فیملی کو نہیں۔پھر انہوں نے اسے گولی مار کر قتل کردیا، پھر اس کی بیوی کو بھی۔ اچانک ایک بیٹی نے گن لی،اپنی بہن کو گولی ماری اور پھر اسی سے اپنے آپ کو نشانہ بنایا۔اس طرح دونو ں بہنیں جنگجوئوں کی درندگی سے بچ گئیں۔یاد رہے ،سوڈان میں تین برسوں سے زیادہ عرصے سے خانہ جنگی جاری ہے۔
ایپل کے ملازم کیلئے،ایک عظیم آئیڈیا کے50 سال
1976 میں ایک ٹین ایجر نے اس کمپنی میں کام کرنا شروع کیا۔ کمپنی میں بڑی تبدیلیاں آئیں لیکن وہ اب بھی وہاں ہے۔1976 میں کرس ایسپی نوسا ہر بدھ کی سہ پہر کو ڈیڑھ میل اپنی موٹر سائیکل پر جاتا۔اسے کھڑی کرکے کام پر جاتا۔وہ محض 14 سال کا تھا۔اسے اب بھی اسکول جانا پڑتا تھا۔ اس کے پاس ڈرائیور لائسنس نہیں تھا۔لیکن اس کے مالک ایپل کمپیوٹر کے پاس ایسے گاہک تھے جواس کے سب سے ابتدائی کمپیوٹر کی آزمائش کرنا چاہتے تھے۔ایسپی نوسا اس کے عملی مظاہرے کا ذمہ دار تھا۔اس کے بعد50 برسوں میں ایسپی نوسا کے کام میں بہت سی تبدیلیاں آئیں لیکن وہ اب بھی ایپل کیلئے کام کرتا ہے۔ایسپی نوسا کی عمر اس وقت64 سال ہے۔ وہ آج کے دور میںایسی نادرنسل سے ہے جنہوںنے ایک کمپنی میں کام کرتے ہوئے اپنی تمام زندگی گزار دی ۔ سلیکون ویلی میں اس جیسا آدمی تلاش کرنا مشکل ہے جہاں کمپنیاں راتوں رات قائم اور بندہوتی ہیں اور سافٹ ویئر انجینئر،پروڈکٹ منیجرز اور دوسرے افراد ہر دو تین سال بعد اپنی ملازمتیں بدل لیتے ہیں۔ یکم اپریل کو ایپل کمپنی کو قائم ہوئے50 سال ہو گئے۔ بہت کم لوگ ایسے ہیں جنہوں نے کمپنی میں آنے والی تبدیلیوں کواتنے قریب سے دیکھا جتنا کہ ایسپی نوسا نے جس کی مدت ملازمت سب سے زیادہ ہے۔ جب اسٹیو جابز اور ایسٹیو ووزنیاک نے 1976 میں ایپل کمپنی قائم کی تو ایسپی نوسا اس فالتو ٹکڑوں پر مبنی کمپنی میں 8 واں ملازم تھا۔ وہ اسٹیو جابز کے بچپن کے گھر میں ہاتھ سے کمپیوٹرز کو اسمبل کرتا تھا۔ایسپی نوسا کا کہنا ہے کہ یہ زیادہ امکانات اور زیادہ گھبراہٹ کا سال تھا۔ایک بڑے آئیڈیا سے کمپنی کا آغاز کرنا،پھر گاہکوں کا نہ ملنا جس سے کاروبار کا ڈوبنا یا ترقی کو سنبھال نہ سکنا اور کاروبار کا ختم ہو جانا عام معمول تھا۔نصف صدی میں ایپل نے ترقی کی،پھر اوپر سے نیچے آگئی،دوبارہ ترقی کی۔اس وقت ایپل کی قیمت تقریباً4 ٹرلین ڈالر ہے۔ہر سال اس کے منافع میں100بلین ڈالر کا اضافہ ہوتا ہے اور دنیا بھر میں2.5 بلین ڈالر کے اس کے فونز، ٹیبلیٹس، کمپیوٹرز ، ائیر فونز اور اسمارٹ واچز استعمال میں ہیں۔ ان ڈیوائسزنے کمپیوٹنگ اور تفریح کی صنعتو ں کی تشکیل کی ہے۔ایپل اب عالمی ٹیکنالوجی کمپنی بن گئی ہے۔
٭٭٭


