میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جناح اسپتال اور نجی لیبارٹریوں کا گٹھ جوڑ ،مریض لٹنے لگے

جناح اسپتال اور نجی لیبارٹریوں کا گٹھ جوڑ ،مریض لٹنے لگے

ویب ڈیسک
جمعرات, ۲۶ اکتوبر ۲۰۲۳

شیئر کریں

(رپورٹ: مسرور کھوڑو) جناح اسپتال اور نجی لیبارٹیوں کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا،اسپتال میں فری بلڈ بینک ہونے کے باوجود عملہ مریضوں کے ساتھ خود جا کر نجی لیبارٹیوں سے پیسوں میں خون خریدنے لگا، وارڈ میں جگہ نہ ہونے کا جواز بنا کر پہلے خاتون کو داخل کرنے سے انکار کیا گیا اور نجی اسپتال سے علاج کرانے کے لیے کہتے رہے۔رپورٹ کے مطابق ملیر کی رہائشی خاتون مریض منیرہ کو سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی سے جناح اسپتال کے گائنی وارڈ میں ریفر کیا گیا، جہاں پر عملے کی جانب سے داخل کرنے سے انکار کردیا گیا، تلخ کلامی کے بعد مریضہ کو داخل کیا گیا، عملہ نے اسپتال کی فری بلڈ بینک سے خون دینے کے بجائے تیماردار کو نجی لیبارٹری سے خون کی 8 بوتلیں خریدنے کے لیے کہا، جس کے بعد ایک نرس تیماردار کے ساتھ رکشہ میں جا کر نجی لیبارٹری سے 18ہزار روپے کے خون کی بوتلیں خرید کروائیں، مریض خاتون کے شوہر عدیل کا کہنا ہے کہ سندھ گورنمنٹ اسپتال کورنگی میں اہلیہ کی ڈلیوری ہوئی جس کے بعد انہوں نے جناح اسپتال ریفر کیا تو یہاں گائنی وارڈ کے عملہ نے داخل کرنے سے انکار کیا اور بدتمیزی کی، تلخ کلامی کے بعد داخل کیا گیا اور کہا گیا کہ جب پیسے ہیں تو نجی اسپتال جاؤ، یہاں کیوں آئے ہو، داخل ہونے کے بعد عملہ کہتا رہا کہ یہاں بھی خرچ ہوتا ہے، اس کے بعد ایک نرس نجی لیبارٹری پر ساتھ لے آئی وہاں سے 18ہزار روپے کے خون کی بوتلیں خرید کروائیں، جبکہ اہلیہ کو صرف ایک بوتل لگائی گئی، مریضہ کے تیماردارنے وزیر صحت سندھ سعد خالد نیاز اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ جناح اسپتال میں مریضوں و تیمارداروں کے ساتھ ہونے والے ظلم کا نوٹس لیا جائے، گائنی وارڈ کے ذمہ دار تمام عملے کے خلاف کارروائی کی جائے،پورا دن گزرنے کے باوجوداسپتال انتظامیہ کوئی کارروائی کرنے کے بجائے معاملے کو چھپاتی رہی پی آر او جہانگیر درانی نے کہا کہ اسپتال میں تین وارڈز ہیں پتہ نہیں معاملہ کہاں ہوا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں