آپ کے مسائل اور اُن کا حل
شیئر کریں
مفتی محمد وقاص رفیع
ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے کا حکم:
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے برے میں کہ اگر کسی گروہ کو حکومت وقت سے شکوہ شکایتیں ہوں اور وہ ان کے خلاف بغاوت پر اتر آئیں اور اُن کے مقابلے میں ہتھیار اُٹھالیں تو ان لوگوں کے ایسے اقدام کے بارے میں شریعت اسلام میں کیا حکم ہے؟
جواب:مسلمان ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانا، ریاست کے استحکام کو نقصان پہنچانا، قتل و غارت گری کرنا،ناقابل معافی جرم ہے، جس کی ازروئے شریعت کوئی اجازت نہیں۔
چناں چہ حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سناکہ ”تمہارے بہترین امام (حکم ران) وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں، تم ان کے لیے دعا کرو اور وہ تمہارے لیے دعا کریں۔ اور تمہارے بدترین امام وہ ہیں جن سے تم بغض رکھو اور وہ تم سے بغض رکھیں اور تم ان پر لعنت کرو اور وہ تم پر لعنت کریں۔” (حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے) کہا: صحابہ نے عرض کی: کیا ہم ایسے موقع پر ان کا ڈٹ کر مقابلہ نہ کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں، نہیں، جب تک وہ تم میں نماز قائم کرتے رہیں، سن رکھو! جس پر کسی شخص کو حاکم بنایا گیا، پھر اس نے اس حاکم کو اللہ کی کسی معصیت میں مبتلا دیکھا تو وہ اللہ کی اس معصیت کو برا جانے اور اس کی اطاعت سے ہرگز ہاتھ نہ کھینچے۔ (کتاب الإمارۃ،باب خیار الائمہ وشرارہم،1482/3)
بغیر اجازت کسی کے موبائل کا پرسنل ڈیٹا یا وٹس ایپ چیک کرنے کا حکم:
سوال: بغیر اجازت کسی کے موبائل کا پرسنل ڈیٹا یا وٹس ایپ چیک کرنا کیسا ہے؟
جواب: کسی کی اجازت کے بغیر اس کے موبائل کا پرسنل ڈیٹایا وٹس ایپ چیک کرنا تجسس کے زُمرے میں آتا ہے،جس سے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں منع فرمایا ہے۔لہذا کسی کی اجازت کے بغیر اس کے موبائل کا پرسنل ڈیٹایا وٹس ایپ چیک کرناجائز نہیں۔
البتہ اگر مربی (والد، استاذ وغیرہ) کو زیرِ تربیت فرد کی بے راہ روی کا کسی ٹھوس بنیاد پر شک ہو تو اس کے لیے تربیت کی غرض سے اپنے ماتحت کا موبائل فون چیک کرنے کی گنجائش ہوگی، بلکہ سرپرستوں کو وقتاً فوقتاً بچوں اور ان سے متعلقہ چیزوں پر نظر رکھنی چاہیے کہ کہیں وہ بے راہ روی کا شکار نہ ہوجائیں۔
موبائل میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت وضو کا اور اسکرین کو ہاتھ لگانے کا حکم:
سوال: آج کل ہمارے ہاں اکثر لوگ چھپا ہوا قرآنِ مجید ساتھ رکھنے کے بجائے موبائل ایپ میں تلاوت کرتے ہیں؛ بس اور ٹرین کے سفر میں، دفتر میں کام کے وقفے میں، اور کھیت یا کارخانے سے واپسی پر بھی۔ اکثر اوقات وضو نہیں ہوتا، اور تلاوت کے دوران انگلی سے اسکرین پر صفحہ بھی بدلنا پڑتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ بغیر وضو کے موبائل میں دیکھ کر تلاوت کرنا درست ہے یا نہیں؟ اور اس حالت میں موبائل کو ہاتھ لگانا اور اسکرین چھونا کیسا ہے؟
جواب:بے وضو شخص کے لیے زبانی تلاوت کرنا اور قرآنِ مجید کو دیکھ کر بغیر ہاتھ لگائے پڑھنا جائز ہے، اور اسی اصول پر موبائل ایپ میں دیکھ کر تلاوت کرنا بھی جائز ہے؛ چنانچہ سفر میں، دفتر میں یا کہیں بھی وضو کے بغیر موبائل میں تلاوت کی جا سکتی ہے۔
البتہ جس وقت اسکرین پر قرآنِ کریم کھلا ہوا ہو، اس وقت اسکرین کو چھونا شرعاً قرآن کو چھونے کے حکم میں ہے، اس لیے بے وضو اسکرین کو ہاتھ لگانا اور انگلی سے صفحہ بدلنے کی اجازت نہیں، ہاں موبائل کو کناروں اور دیگر اطراف سے پکڑنے اور اٹھانے میں کوئی حرج نہیں، اسی طرح کسی لکڑی یا قلم وغیرہ سے صفحہ بدلنے کی گنجائش ہے، کیوں کہ اس پر ”مس” یعنی چھونے کا اطلاق نہیں ہوتا۔ بہتر یہ ہی ہے کہ تلاوت کے لیے وضو کا اہتمام کیا جائے، تاکہ کلامِ الٰہی کی تعظیم بھی ادا ہو اور اسکرین چھونے میں بھی کوئی رکاوٹ نہ رہے۔
چوری کا موبائل فون خریدنے کا حکم:
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کسی ایسی دوکان یا مارکیٹ سے موبائل خریدنا کیساہے جہاں اکثر چوری، ڈکیتی کے موبائل آتے رہتے ہیں جائز ہے یا نہیں؟
جواب: کسی ایسی دوکان یا مارکیٹ سے موبائل فون خریدنا جہاں اکثر چوری، ڈکیتی کے موبائل فون بیچے جاتے ہیں، جائز نہیں ہے، ہاں! اگر اس دوکان یا مارکیٹ میں کچھ موبائل فون ڈکیتی کے ہوں اور باقی اکثر موبائل فون چوری ڈکیتی کے نہ ہوں تو اس صورت میں بھی جواز اس وقت ہے جب خریدار کو معلوم نہ ہو کہ چوری کیا ہوا موبائل فون خرید رہا ہوں، اگر خریدار کو معلوم ہو کہ میں جو موبائل فون خرید رہا ہوں وہ چوری کیا ہوا موبائل فون ہے تو اس کے لیے خریدنا ہرگز جائز نہیں۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم
معذور شخص کا پیمپر پہن کر مسجد میں نماز ادا کرنے کا حکم:
سوال:معذور شخص کے لیے پیمپر پہن کر مسجد جانا کیسا ہے؟
جواب:واضح رہے کہ شرعاً ”معذور ” ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جس کو وضو توڑنے کے اسباب میں سے کوئی سبب (مثلاً ریح،خون، قطرہ وغیرہ) مسلسل پیش آتا رہتا ہو اور کسی ایک نماز کے مکمل وقت میں اس کو اتنا وقت بھی نہ ملا ہو کہ وہ پاک ہو کر با وضو حالت میں وقتی فرض ادا کر سکے،
اگر کسی نماز کا مکمل وقت اس طرح گزر گیا تو یہ شرعی معذور بن جائے گا، پھر جب تک کسی نماز کا مکمل وقت اس عذر کے بغیر نہ گزر جائے یہ شخص معذور سمجھا جائے گا پس صورت مسؤلہ میں معذور شرعی کی تعریف کو سامنے رکھتے ہوئے مذکوہ شخص اپنے بارے میں معذور ہونے نہ ہونے کا خود فیصلہ کرسکتا ہے۔
اسی طرح جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا سنت مؤکدہ واجب کے قریب ہے،احادیث میں اس کی بہت تاکید آئی ہے اور نہ پڑھنے پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں،لہذا اگر کوئی شخص شرعی طور پر معذور ہو لیکن اس شخص کے لیے پیمپر پہن کر اس طور پر مسجد تک جانا ممکن ہو کہ مسجد کی تلویث کا اندیشہ نہ ہو اور نمازیوں کو تکلیف بھی نہ ہو،تو مذکورہ شخص کے لئے مسجد جاکر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا درست ہے۔البتہ اگر ناپاکی سے مسجد کی تلویث یا نمازیوں کو کسی قسم کی اذیت پہنچنے کا اندیشہ ہو تو مذکورہ شخص گھر میں نماز پڑھ لے۔
٭٭٭


