کراچی میں غیر قانونی پارکنگ اور بچت بازاروں کے خلاف کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ
شیئر کریں
غیر قانونی فیس وصول کرنے والوں کی گرفتاریاں ہونگیں، 33 مقامات پر غیر قانونی چارج پارکنگ کی نشاندہی، 47 مقدمات درج
جہاں پارکنگ ممنوع قرار نہیں دی گئی وہاں شہریوں کے لیے مفت پارکنگ ہونی چاہیے
جہاں پارکنگ کی اجازت نہیں وہاں واضح ”نو پارکنگ” کے بورڈز نصب کیے جائیں،سید حسن نقوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے شہر میں ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور مسائل پر قابو پانے کے لیے غیر قانونی چارجڈ پارکنگ اور بغیر اجازت قائم بچت بازاروں کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کردی۔
کمشنر کراچی کی زیر صدارت اجلاس میں ڈپٹی کمشنرز، ٹریفک پولیس، بلدیہ عظمیٰ کراچی، ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشنز اور کنٹونمنٹ بورڈز کے افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ٹریفک کی روانی بہتر بنانے کے لیے متعلقہ ادارے مربوط کارروائیاں کریں گے اور خلاف ورزیوں کے دوبارہ وقوع پذیر ہونے کی روک تھام یقینی بنائی جائے گی۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کراچی میں غیر قانونی چارجڈ پارکنگ کے 33 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے، جن میں سے 20 مقامات سے غیر قانونی پارکنگ ختم کرادی گئی ہے۔
اگست اور ستمبر کے دوران کارروائیوں میں 47 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔جن مقامات سے غیر قانونی چارجڈ پارکنگ ختم کرائی گئی، ان میں خواجہ نظام الدین پارک، ڈینسو ہال سگنل تا ٹاور گلی، نیپئر روڈ، برنس گارڈن، لوہانی بلڈنگ کے قریب، گل تجارت، کوٹوال بلڈنگ، مچھی میانی مارکیٹ، پارک لینڈ اسپتال کے اطراف، گلاس ٹاور، یو بی ایل بینک بلاک 5 کلفٹن، پریڈی پولیس فلیٹس، نبی بخش تھانے اور ریگل چوک کے اطراف کے مقامات شامل ہیں۔
کمشنر کراچی نے کہا کہ جہاں پارکنگ ممنوع قرار نہیں دی گئی وہاں شہریوں کے لیے مفت پارکنگ ہونی چاہیے، جبکہ جہاں پارکنگ کی اجازت نہیں وہاں واضح ”نو پارکنگ” کے بورڈز نصب کیے جائیں۔
انہوں نے ڈبل اور ٹرپل پارکنگ کے خلاف بھی مؤثر کارروائی کی ہدایت کی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈبل پارکنگ کی ممانعت اور جرمانوں سے متعلق واضح سائن بورڈز ضرورت کے مطابق نصب کیے جائیں گے۔
کمشنر نے ہدایت کی کہ غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔کمشنر کو بتایا گیا کہ اماں ٹاور، زیب النسا اسٹریٹ اور عبداللہ ہارون روڈ کے درمیان بعض مقامات پر غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے کی شکایات اب بھی موصول ہورہی ہیں۔
انہوں نے متعلقہ افسران کو ان مقامات کی دوبارہ نگرانی اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی۔کمشنر کراچی نے طارق روڈ پر پارکنگ فیس وصول کیے جانے کی شکایت کا بھی نوٹس لیا اور ڈپٹی کمشنر شرقی اور ڈی آئی جی ٹریفک کو طارق روڈ پر مفت پارکنگ یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔
فیصلہ کیا گیا کہ اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میں متعلقہ پولیس اور ٹریفک پولیس کی نفری کے تعاون سے رات 8 بجے کے بعد کارروائی کی جائے گی اور شہریوں سے غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا۔
ڈی سی جنوبی جاوید نبی کھوسو نے اجلاس کو بتایا کہ ضلع جنوبی میں غیر قانونی پارکنگ فیس وصول کرنے والے تقریباً 15 سے 16 افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ طارق روڈ پر بھی اسی طرز کی کارروائی کی جائے گی اور ڈپٹی کمشنر کی جانب سے میڈیا کے ذریعے شہریوں کو آگاہ کیا جائے گا۔
اجلاس میں غیر قانونی بچت بازاروں کے خلاف کارروائیوں کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ ڈائریکٹر منصوبہ بندی کمشنر کراچی آفس نسیم بھٹو نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع وسطی میں 15 غیر قانونی بچت بازاروں کی نشاندہی کی گئی تھی، جن میں سے 11 ختم کیے جاچکے ہیں، جبکہ چار مقامات پر بازار دوبارہ قائم ہونے کی شکایات کے باعث نگرانی جاری ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع کورنگی اور شاہ فیصل کے علاقوں میں 26 غیر مجاز بچت بازاروں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز نے بتایا کہ غیر قانونی بچت بازاروں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور بعض مقامات پر مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔
کمشنر کراچی نے ہدایت کی کہ تمام اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اپنے اپنے علاقوں میں غیر قانونی بچت بازاروں کے خلاف جاری کارروائیاں 10 روز میں مکمل کریں۔ ڈی سی کیماڑی ستار ہکرو نے بتایا کہ ضلع کیماڑی میں قائم تین غیر قانونی بچت بازار ختم کرائے جاچکے ہیں۔اجلاس میں علاؤالدین پارک اور راشد منہاس روڈ کے قریب قائم بچت بازار کا بھی جائزہ لیا گیا۔
فیصلہ کیا گیا کہ تاریخی یا پہلے سے قائم بازار کو اگر قواعد کے تحت اجازت دی گئی ہو تو اسے بھی مقررہ حدود اور طے شدہ شرائط کی پابندی کرنا ہوگی۔


