ایمان مزاری اور عبدالہادی چٹھہ کی 17،17 سال قید کی سزا معطل، ضمانت منظور
شیئر کریں
سپریم کورٹ نے دونوں وکلا کو 2،2 لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دے دیا، اسلام آباد میں زیرالتوا اپیلوں کے فیصلے تک ضمانت منظور
……………………………………………………
سپریم کورٹ آف پاکستان نے وکلاء جوڑے ایمان زینب مزاری اور عبدالہادی چھٹہ کی ٹویٹ کیس میں ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی گئی 17سال قید کی سزامعطل کرتے ہوئے ضمانت منظور کرلی۔
عدالت نے دونوں درخواست گزاروں کو دو، دولاکھ روپے کے ذاتی مچلکے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس جمع کروانے کاحکم دیاہے۔ عدالت نے فیصلے میں قراردیا ہے کہ دونوں کی ضمانت اسلام آباد میں زیرالتوااپیلوں کے فیصلہ تک منظور کی جاتی ہے ، ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔
بینچ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسداللہ خان کی جانب سے درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض مسترد کر دیا۔ بینچ نے مختصر فیصلہ سنایا جبکہ تفصیلی وجوہات بعد میں جاری کی جائیں گی۔ جبکہ جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ ہم درخواست گزاروںسے ضمانتی مچلکے نہیں مانگ رہے بلکہ ذاتی مچلکے جمع کروانے کاحکم دے رہے ہیں۔
ہم وکلا کی عزت رکھ رہے ہیں، وہ بھی عدالتوں کے ڈیکورم کا احترام کریں، وکیل اپنے موئکلان کو بتادیں، عدالتوں کے ڈیکورم کو ملحوظ خاطر رکھیں، پھر ہی بہتری آئے گی۔درخواست گزار وکیل ہیں ان کا احترام کرتے ہوئے ضمانت دے رہے ہیں، امید ہے وہ بھی عدالتوں کا احترام کریں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ اپنے انداز سے سپریم کورٹ کو کام سے روک رہی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ ہر حکم میں سپریم کورٹ فیصلے کا حوالہ دیتی ہے تاہم آگے کچھ نہیں کرتے۔
جسٹس نعیم اختر افغان کی سربراہی میں جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل 2رکنی بینچ نے ایمان زینب مزاری اور عبدالہادی چٹھہ کی جانب سے ٹویٹ کیس میں سزامعطلی کی درخواستوں پر سماعت کی۔ درخواست گزاروں کی جانب سے فیصل صدیقی بطور وکیل پیش ہوئے جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانااسد اللہ خان پیش ہوئے۔
دوران سماعت ڈاکٹر شیریں ایم مزاری، سابق سینیٹرز فرحت اللہ بابر، افراسیاب خٹک، طاہرہ عبداللہ اور آمنہ مسعود جنجوعہ بھی موجودتھیں۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد اللہ خان نے موقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے ابھی مخالفت میں کوئی فیصلہ نہیں دیا ، ٹرائل کورٹ میں 7 مواقع فراہم کیے گئے تھے۔ سزا کی معطلی کا عدالتی فورم سیکشن 426 کے تحت ہائیکورٹ ہے ، اسلام آباد ہائیکورٹ نے پراسیکیوشن کو آخری موقع دے رکھا ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیئے کہ ہائیکورٹ کے جج صاحب آرڈر میں سپریم کورٹ کا حکم لکھتے ہیں تو کیس ملتوی ہوجاتا ہے ، پھر جب سپریم کورٹ میں کیس آتا ہے تو ہائیکورٹ میں نئی تاریخ آجاتی ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے مزید ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اپنے انداز میں سپریم کورٹ کو کام کرنے سے روک رہی ہے۔ انہوں نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کے پہلے حکم کے بعد کیا ہوا بتادیں۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہناتھا کہ ایک ، ایک آرڈر شیٹ پڑھیں کہ جج صاحب کیا کررہے ہیں۔ وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ 12 مئی کو آپ نے پہلا حکم جاری کیا، 12 مئی کو کیس 2 ہفتوں میں فیصلہ کی ہدایت کی گئی۔دوران سماعت عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی رانا اسد اللہ کان کو بیٹھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کھڑے تھک جائیں گے۔
رانااسداللہ خان نے اٹھ کرکہا کہ درخواست کے قابل سماعت ہونے کا بھی فیصلہ کردیں۔ اس پر جسٹس نعیم اخترافغان کاکہناتھا کہ وہ بھی دیکھ لیتے ہیں۔ جسٹس نعیم اخترافغان کا فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ ہم نے ہائی کورٹ کوہدایت دیتے ہوئے سزامعطلی کی استدعانہیں مانی جسے چیلنج کرنا چاہیئے تھا، درخواست گزارکیس ٹرائل کورٹ کوواپس بھجوانے کا کہہ رہے ہیں، ہم میرٹ پر جانے سے سختی سے بچ رہے ہیں کیوں کہ معاملہ ہائی کورٹ میں زیرالتواہے۔
فیصل صدیقی کاکہناتھا کہ میں صرف سزامعطلی کی استدعاکررہا ہوں۔ فیصل صدیقی کاکہناتھا کہ ایمان مزاری نے ٹویٹس کیں اور عبدالہادی چٹھہ نے اپنی بیوی کی ٹویٹس کوری تویٹ کیا، 30اکتوبر 2025کو درخواست گزاروں پر فرد جرم عائد ہوئی تھی۔
وکیل کا کہنا تھا کہ کچھ نامعلوم ایف آئی آرز درخواست گزاروں پر درج ہونا شروع ہوگئیں اور 23جنوری کوانہیں عدالت جاتے ہوئے گرفتارکرلیا۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہنا تھا کہ متعلقہ عدالت جانا تھا مگر نہیں گئے۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہنا تھا کہ فیصلہ کتنے صفحات کاہے۔ اس پر وکیل کاکہنا تھاکہ 22 صفحات کا۔ جسٹس نعیم اخترافغان کا کہنا تھا کہ اُسی دن بیان ریکارڈ ہوا، جرح ہوئی، 342کا بیان ہوااوراسی دن 22صفحات کافیصلہ بھی جاری ہوگیا۔
عدالتی حکم پر فیصل صدیقی نے ایمان مزاری اور عبدالہادی چھٹہ کی جانب سے 2021سے 2025تک کئے گئے ٹویٹس پڑھ کرسنائے۔ وکیل کا کہنا تھا کہ ٹویٹس پر 20 اگست 2025 کو ایف آئی آر کاٹی گئی۔
جسٹس نعیم اخترافغان کا کہنا تھا کہ ہمیں تویٹس دکھائیں، ہم نے دیکھنا ہے ایمان مزاری پر کیا الزام ہے، ہم نے وجوہات میں نہیں جانا، ٹویٹس دیکھنے ہیں تا کہ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ ہو۔ اس پر فیصل صدیقی نے مختلف تاریخوں کو کئے گئے ٹویٹ پر پڑھ کرسنائے۔ اس کے بعد بینچ نے ٹویٹ پڑھنے سے روک دیا۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے کہا کہ پہلے وکیل فیصل صدیقی کے دلائل سنیں گے، جس پر وکیل فیصل صدیقی نے مسکراتے ہوئے کہا کہ بالکل یہ بیٹھ جائیں، لیکن تھکا تو انہوں نے ہمیں دیا ہے۔
وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ سابقہ جج جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کہتے تھے صرف جج یا وکیل کے فوت ہونے پر ہی کیس ملتوی ہوگا۔ اس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے جواب دیا کہ ابھی وکیل بڑے جوان ہیں۔ اس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔
فیصل صدیقی کا کہنا تھا کہ ہماری جلد سماعت کی درخواست کو ہائیکورٹ رجسٹرار آفس نے مسترد کردیا، ہائیکورٹ میں جو کچھ ہوا وہ ہمارے لیے سرپرائز تھا۔اس پر جسٹس نعیم اختر افغان نے ریمارکس دیے کہ سرپرائز آتے رہیں گے۔
جسٹس نعیم اخترافغان کاکہناتھا کہ اگر ہائی کورٹ نے درخواست گزاروںکے خلاف کوئی حکم نہیں دیا توہم کیوں مداخلت کریں۔ فیصل صدیقی کاکہناتھا کہ میں چاہتا ہوںکہ ہائی کورٹ سزامعطلی کی درخواستیں سنے اور فیصلہ کرے۔
جسٹس نعیم اخترافغان کاکہناتھا کہ شاید یہ فسرٹ امپریشن کاکیس بن رہاہے۔ فیصل صدیقی کاکہناتھا کہ ڈیو پراسیس کاسوال ہے ، میرے پاس کوئی دادرسی نہیں ، یہ مسئلہ ہے۔
جسٹس نعیم اخترافغان نے رانا اسداللہ خان کوروسٹرم پر طلب کرتے ہوئے کہا کہ ہم صرف سزامعطلی کو کے حوالہ سے متفکر ہیں اور اسے وسیع تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
جسٹس نعیم اخترافغان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کو سزا، معطلی کی درخواستیں مسترد کرنے میں کیا قباحت ہے، دومنٹ میں مسترد کر دے۔ رانا اسداللہ خان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے استغاثہ کو 23 ستمبر کے لئے حتمی موقع دیا ہے،
اسلام آباد ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کیا۔ اس پر جسٹس نعیم اخترافغان کا کہنا تھا کہ ہوسکتاہے جج صاحب بیمارہوجائیں۔
بینچ نے مختصر حکمنامہ جاری کرتے ہوئے سزامعطلی کی درخواستیںمنظور کرلیں اور ٹرائل کورٹ کا فیصلہ معطل کردیا۔ عدالت نے وکلاء جوڑے کو دو، دولاکھ روپے کے ذاتی ضمانی مچلکے ایڈیشنل رجسٹرار سپریم کورٹ کے پاس جمع کروانے کاحکم دیا ہے۔
عدالت نے حکم میں یہ نہیں لکھوایا کہ اگردرخواست گزار کسی اور مقدمہ میں مطلوب نہ ہوں توانہیں فوری طور پر رہا کیا جائے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل جسٹس شاہدوحیدکی سربراہی میں بینچ نے ایمان مزاری اور عبدالہادی چٹھہ کی درخواستوں پر سماعت کی۔جسٹس شاہد وحید کا کہنا تھا کہ کیس غلطی سے تین رکنی بینچ کے سامنے لگ گیا، سپریم کورٹ کے آئی ٹی سیکشن میں آگ لگنے کے بعد غلطی سے کیس بینچ کے سامنے لگ گیا۔
اس پر جسٹس نعیم اختر افغان کا وکیل فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ہمارا دورکنی بینچ 1بجے کیسز کی سماعت کرے گا ، ہم 11:30 پر اس کیس کی سماعت کے لئے آجائیں گے۔ بینچ نے 11 بجکر40 منٹ پر کیس کی سماعت کا آغاز کیا۔


