کائنات انسانی خواہشات کے سامنے خاموش ہے!
شیئر کریں
"انسان حقیقت کو ویسا نہیں دیکھتا جیسی وہ ہے، بلکہ ویسا دیکھتا ہے جیسا وہ دیکھنا چاہتا ہے”۔ یہ خیال بیسویں صدی کے نفسیاتی علوم کا نچوڑ ہے، مگر اس کی جڑیں انسانی تاریخ کے آغاز تک جاتی ہیں۔ جب انسان نے پہلی بار آسمان پر چمکتے ستاروں کو دیکھا، تو اس نے ان میں کہانیاں تراش لیں؛ جب بجلی کڑکی تو اسے خداؤں کا غضب سمجھا اور جب قسمت نے چند بار ایک ہی رخ اختیار کیا تو اس نے یقین کر لیا کہ اب قدرت لازماً اس کا توازن بحال کرے گی۔ یہی وہ لمحہ تھا جہاں ایک خاموش مگر خطرناک ذہنی مغالطہ پیدا ہوا، جسے آج گیمبلر فالسی (Gambler’s Fallacy) کہا جاتا ہے۔یہ صرف جوئے کی میز پر بیٹھے ہوئے ایک کھلاڑی کی غلطی نہیں، بلکہ انسانی ذہن کی ان قدیم کمزوریوں میں سے ایک ہے جنہوں نے سلطنتیں گرائیں، معیشتیں تباہ کیں، جنگیں بھڑکائیں اور کروڑوں انسانوں کے فیصلوں کو غلط سمت میں دھکیلا۔ یہ وہ فریب ہے جس میں انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ اگر کوئی اتفاقی واقعہ مسلسل ایک ہی انداز میں پیش آیا ہے تو اب لازماً اس کے برعکس ہونا چاہیے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آزاد واقعات کا ایک دوسرے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔اگر ایک منصفانہ سکہ بیس مرتبہ مسلسل "ہیڈ” دکھائے تو اکیسویں بار بھی "ہیڈ” اور "ٹیل” دونوں کے امکانات برابر رہتے ہیں۔ مگر انسانی ذہن اس حقیقت کو قبول کرنے کے بجائے انصاف کی ایک فرضی دنیا تخلیق کر لیتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ قدرت ہر چیز کا حساب رکھتی ہے اور اب "باری بدلنے” والی ہے، حالانکہ فطرت نہ کسی سے انتقام لیتی ہے اور نہ کسی کو انعام دیتی ہے وہ صرف اپنے قوانین پر عمل کرتی ہے۔
اٹھارہویں صدی کے فرانس میں ایک مشہور واقعہ پیش آیا۔ پیرس کے ایک رولیٹ کیسینو میں گیند مسلسل چھبیس مرتبہ سیاہ خانے میں گری۔ لوگ دیوانہ وار سرخ خانے پر شرط لگاتے رہے، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اب سرخ کا آنا "ضروری” ہے۔ لیکن ہر نئے چکر میں امکان وہی تھا جو پہلے تھا۔ اس ایک رات میں بے شمار لوگ اپنی جمع پونجی ہار گئے۔ بعد میں ماہرینِ ریاضی نے واضح کیا کہ مشین نے کوئی بے انصافی نہیں کی تھی غلطی انسان کے ذہن نے کی تھی۔انیسویں صدی میں پیری سیمون لاپلاس نے احتمال کے اصولوں کو مضبوط سائنسی بنیاد دی، جبکہ بیسویں صدی میں ڈینیل کاہنیمن اور ایموس ٹورسکی نے اپنی انقلابی تحقیقات سے ثابت کیا کہ انسان بار بار ایسے ادراکی مغالطوں کا شکار ہوتا ہے۔ انہوں نے دکھایا کہ ہمارا دماغ حقیقت کو نہیں، بلکہ اس کہانی کو ترجیح دیتا ہے جو اسے زیادہ معقول محسوس ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بے ترتیب واقعات میں بھی ایک پوشیدہ نظم تلاش کرتے ہیں۔لیکن گیمبلر فالسی کی کہانی صرف ریاضی کی نہیں، تاریخ کی بھی ہے۔کتنے ہی بادشاہ اپنی مسلسل فتوحات کے نشے میں یہ سمجھ بیٹھے کہ اب شکست ان کا مقدر نہیں رہی۔ نپولین بوناپارٹ نے یورپ کی فتوحات کے بعد روس پر حملہ کیا۔ اسے یقین تھا کہ ماضی کی کامیابیاں مستقبل کی ضمانت ہیں۔ مگر روس کی برف، فاصلوں اور رسد کے بحران نے اس کی عظیم فوج کو تباہ کر دیا۔ اسی طرح اڈولف ہٹلر نے بھی مسلسل کامیابیوں کے بعد یہ سمجھ لیا کہ قسمت ہمیشہ اس کے ساتھ رہے گی، مگر اسٹالن گراڈ نے اس غرور کو تاریخ کے ملبے تلے دفن کر دیا۔
معیشت میں بھی یہی مغالطہ بار بار انسان کو تباہ کرتا ہے۔ سرمایہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ کسی کمپنی کے حصص مسلسل گر رہے ہیں، اس لیے اب لازماً اوپر جائیں گے، یا چونکہ قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، اس لیے یہ اضافہ ہمیشہ جاری رہے گا۔ 1929ء کا عظیم معاشی بحران ہو یا 2008ء کا عالمی مالیاتی بحران، دونوں نے ثابت کیا کہ بازار انسانی امیدوں کے مطابق نہیں بلکہ معاشی حقیقتوں کے مطابق حرکت کرتا ہے۔ سیاست میں قومیں بھی اکثر اسی فریب کا شکار ہوتی ہیں۔ لوگ سوچتے ہیں کہ چونکہ ظلم بہت طویل ہو چکا ہے، اس لیے اب انصاف خود بخود آ جائے گا۔ مگر تاریخ بتاتی ہے کہ انصاف کیلنڈر کے صفحات پلٹنے سے نہیں آتا۔ وہ شعور، اداروں، قانون، اجتماعی جدوجہد اور اخلاقی قیادت سے پیدا ہوتا ہے۔ وقت صرف گزرتا ہے تبدیلی انسان پیدا کرتا ہے۔فریڈرک نطشے نے کہا تھا: "بعض اوقات انسان سچ نہیں چاہتا، کیونکہ سچ اس کے وہم کو توڑ دیتا ہے”۔ گیمبلر فالسی بھی ایک ایسا ہی وہم ہے۔ یہ انسان کو یقین دلاتی ہے کہ کائنات اس کے لیے حساب رکھتی ہے، حالانکہ کائنات جذبات سے نہیں بلکہ قوانین سے چلتی ہے۔فیودور دوستوئیفسکی کے کردار اکثر اپنی خواہشات اور حقیقت کے درمیان پھنسے رہتے ہیں۔ وہ قسمت کو اپنے حق میں جھکانے کی کوشش کرتے ہیں، مگر آخرکار حقیقت انہیں اپنے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ یہی گیمبلر فالسی کا المیہ بھی ہے۔
انسان حقیقت کو بدل نہیں سکتا، اس لیے وہ اس کی ایک دلکش تشریح گھڑ لیتا ہے۔البرٹ کامو نے لکھا تھا کہ کائنات انسانی خواہشات کے سامنے خاموش ہے۔ اس خاموشی کو سمجھنا ہی بلوغت ہے۔ گیمبلر فالسی دراصل اسی خاموشی سے فرار کی ایک کوشش ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ قسمت ہمیں جواب دے، مگر احتمال کا کوئی ضمیر نہیں ہوتا، اس کے پاس صرف اعداد ہوتے ہیں۔روزمرہ زندگی میں بھی ہم اس مغالطے کے اسیر ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ غرور، وہم اور غلط اندازے اکثر طاقتور قوموں کو بھی مٹا دیتے ہیں۔گیمبلر فالسی ہمیں ایک گہرا فلسفیانہ سبق دیتی ہے۔ زندگی انصاف کے جذبات سے نہیں بلکہ اسباب اور نتائج کے رشتے سے چلتی ہے۔ اگر ہم ہر اتفاق میں تقدیر کا اشارہ تلاش کریں گے تو ہم حقیقت سے دور ہوتے جائیں گے۔ مگر اگر ہم شواہد، علم، تنقیدی سوچ اور عقل کو اپنا رہنما بنائیں گے تو شاید ہم اپنی غلطیوں کو کم کر سکیں۔ آخرکار، گیمبلر فالسی صرف احتمال کی ایک غلط فہمی نہیں، بلکہ انسانی فطرت کا آئینہ ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ انسان کو حقیقت سے زیادہ امید، منطق سے زیادہ کہانی، اور امکان سے زیادہ انصاف پر یقین کرنا پسند ہے۔ مگر تہذیبیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب وہ خواہشات کے بجائے حقائق کو بنیاد بناتی ہیں۔
تاریخ نے ہمیشہ انہی قوموں کو دوام دیا ہے جنہوں نے قسمت کے فریب پر نہیں، علم، تحقیق، عقل اور بصیرت پر اعتماد کیا۔گیمبلر فالسی صرف جواری کی میز تک محدود نہیں رہتی کبھی کبھی یہ ایوانِ اقتدار کی دیواروں میں بھی بسیرا کر لیتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ جواری اپنی دولت ہارتا ہے، جبکہ اقتدار کے اس مغالطے کی قیمت پوری قوم ادا کرتی ہے۔پاکستان کی تاریخ کو اگر نفسیات کی آنکھ سے دیکھا جائے تو ایک رویہ بار بار ابھرتا دکھائی دیتا ہے۔ مختلف ادوار، مختلف چہرے، مختلف نعرے اور مختلف جماعتیں آئیں، مگر اقتدار کی ایک نفسیات بارہا دہرائی گئی: "ریاست ہم سے ہے؛ اگر ہم نہیں تو کچھ بھی نہیں”۔ یہی وہ ذہنی کیفیت ہے جو حکمران کو ریاست کا محافظ نہیں بلکہ اس کا مترادف سمجھنے لگتی ہے۔ یہ نفسیات ایک خاموش جوا ہے۔ اقتدار ہر بار یہ شرط لگاتا ہے کہ اس بار بھی حالات اس کے حق میں رہیں گے، اس بار بھی عوام خاموش رہیں گے، اس بار بھی تاریخ وہی رخ اختیار کرے گی جس کی اسے امید ہے۔ لیکن تاریخ کبھی کسی کی مستقل ساتھی نہیں بنتی۔اقتدار کی سب سے بڑی نفسیاتی بیماری یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنی موجودگی کو ناگزیر سمجھنے لگتا ہے۔ آہستہ آہستہ ادارے ثانوی ہو جاتے ہیں، اصول پس منظر میں چلے جاتے ہیں، اور یہ احساس جنم لیتا ہے کہ گویا ریاست کی بقا ایک مخصوص اقتدار یا مخصوص طبقے سے وابستہ ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب ریاست کمزور اور اقتدار مضبوط نظر آنے لگتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔
گیمبلر فالسی انسان کو یہ یقین دلاتی ہے کہ چونکہ وہ اب تک بچتا آیا ہے، اس لیے آئندہ بھی بچ جائے گا۔ اقتدار بھی کبھی اسی فریب میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ چونکہ پہلے بحران گزر گئے، اس لیے آنے والے بھی خود بخود گزر جائیں گے؛ چونکہ پہلے فیصلوں کے نتائج برداشت ہو گئے، اس لیے آئندہ بھی ہو جائیں گے۔ مگر تاریخ کا حساب امکان سے نہیں، نتائج سے ہوتا ہے۔طاقت کی نفسیات انسان کو یہ بھی باور کراتی ہے کہ اختلاف خطرہ ہے، تنقید دشمنی ہے، اور خاموشی وفاداری۔ پھر خوشامد حقیقت کی جگہ لے لیتی ہے، اور ایوانوں میں وہی آوازیں باقی رہ جاتی ہیں جو اقتدار کو اس کے اپنے وہم سناتی رہتی ہیں۔ ایسے ماحول میں فیصلے حقیقت پر نہیں، خودساختہ یقین پر ہونے لگتے ہیں۔تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ ہر دور خود کو آخری اور ناگزیر سمجھتا ہے، مگر تاریخ کسی ایک دور، ایک جماعت، ایک ادارے یا ایک فرد کی جاگیر نہیں ہوتی۔ اقتدار آتا ہے، جاتا ہے؛ ریاستیں تبھی باقی رہتی ہیں جب ان کی بنیاد افراد پر نہیں بلکہ اداروں، قانون اور عوام کے اعتماد پر ہو۔جواری کی سب سے بڑی غلطی یہ نہیں کہ وہ شرط لگاتا ہے؛ اس کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ قسمت ہمیشہ اس کے حساب سے چلے گی۔ اقتدار کی سب سے بڑی غلطی بھی یہی ہے: یہ یقین کہ تاریخ ہمیشہ اس کی خواہش کے مطابق لکھی جائے گی۔لیکن تاریخ کا قلم کسی کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔ وہ صرف ایک سوال پوچھتی ہے: کیا اقتدار نے خود کو ریاست سمجھ لیا تھا، یا ریاست کو اپنے سے بڑا مانا تھا؟ اسی سوال کا جواب قوموں کی تقدیر بھی لکھتا ہے، اور حکمرانوں کی یاد بھی۔
٭٭٭


