موت زندگی کی دشمن نہیں!
شیئر کریں
بے لگا م / ستارچوہدری
سوچیے ، اگر ایک صبح سورج معمول کے مطابق طلوع ہو، پرندے حسبِ عادت چہچہائیں، دفاتر کھل جائیں، بازار آباد ہوں، لیکن ایک فرق ہو۔ موت نے اعلان کردیا ہو کہ آج وہ چھٹی پر ہے ،صرف ایک دن کے لیے ، آج کوئی نہیں مرے گا،نہ اسپتال میں، نہ جنگ کے میدان میں، نہ سڑک پر، نہ بستر پر۔ پہلے پہل تو دنیا جشن منائے گی، نیوز چینلز بریکنگ نیوز چلائیں گے ، حکومتیں مبارک باد کے پیغامات جاری کریں گی، اور سوشل میڈیا پر خوشی کی لہر دوڑ جائے گی۔ لوگ کہیں گے کہ آخرکار انسانیت نے ایک ایسا دن دیکھ لیا جس میں کوئی جنازہ نہیں اٹھا، کوئی گھر ماتم کدہ نہیں بنا، اور کسی ماں کی گود خالی نہیں ہوئی۔
سب سے پہلے اسپتالوں میں ہلچل مچے گی، ڈاکٹر حیران ہوں گے کہ انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں پڑا وہ مریض، جس کے بارے میں چند گھنٹے پہلے کہا جارہا تھا کہ اب اس کے پاس صرف چند لمحے باقی ہیں، ابھی تک زندہ ہے ۔ حادثات ہوتے رہیں گے ، دل کے دورے پڑتے رہیں گے ، بیماریاں اپنا کام کرتی رہیں گی، مگر موت کہیں نظر نہیں آئے گی ۔پھر جنگ کے میدانوں میں عجیب منظر دکھائی دے گا۔ گولیاں چلیں گی، میزائل گریں گے ، دھماکے ہوں گے ، مگر کوئی نہیں مرے گا۔ شاید دنیا کے طاقتور حکمران پہلے اسے اپنی کامیابی سمجھیں، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوگا کہ جنگ کا خوف صرف ہتھیاروں سے نہیں، انجام سے پیدا ہوتا ہے ۔ جب انجام ہی ختم ہوجائے تو طاقت کی پوری نفسیات بدل جاتی ہے ۔ جیلوں میں قید عمر رسیدہ قیدی، بسترِ مرگ پر پڑے بوڑھے ، اور وہ لوگ جو ہر صبح اپنی آخری صبح سمجھ کر جاگتے تھے ، سب حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھیں گے ۔ کچھ خوش ہوں گے ، کچھ پریشان۔ کیونکہ انسان ہمیشہ زندگی نہیں چاہتا، وہ ایک باوقار اختتام بھی چاہتا ہے ۔ بعض اوقات موت تکلیف کا خاتمہ ہوتی ہے ، اور جب خاتمہ ہی نہ ہو تو تکلیف ایک نئے سوال میں بدل جاتی ہے ۔ شام ہوتے ہوتے دنیا کو اندازہ ہونا شروع ہوجائے گا کہ موت صرف زندگی کی دشمن نہیں تھی، بلکہ وہ اس کی حدود متعین کرنے والی قوت بھی تھی۔ اور جب حدود مٹ جائیں تو آزادی بھی بے معنی ہونے لگتی ہے ۔
اور پھر رات کے قریب ایک اور عجیب تبدیلی رونما ہوگی۔ دنیا کے مالیاتی مراکز، اسٹاک ایکسچینج، انشورنس کمپنیاں اور ادویات بنانے والی بڑی بڑی کارپوریشنیں اپنے حساب کتاب دوبارہ کھولیں گی۔ آخر ان کے بہت سے منصوبے تو اس مفروضے پر کھڑے تھے کہ انسان فانی ہے ۔موت نہ ہو تو وراثت کا نظام رک جائے ، انشورنس کے فارمولے بکھر جائیں، اور بہت سی صنعتوں کی بنیادیں ہلنے لگیں ۔اور وہ عام آدمی جو ہر روز وقت کی کمی کا رونا روتا تھا، شاید پہلی بار سمجھے گا کہ مسئلہ وقت کی کمی نہیں، نیت کی کمی ہے ،کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو حرکت میں رکھنے والی سب سے بڑی طاقت امید نہیں، بلکہ وقت کی محدودیت بھی ہے ، ہم جانتے ہیں کہ ایک دن جانا ہے ، اسی لیے کچھ بنانے ، کچھ سیکھنے ، کچھ کہنے اور کسی سے محبت کرنے کی جلدی رہتی ہے ، اگر موت ایک دن کے لیے غائب ہوجائے تو شاید انسان کو پہلی بار احساس ہو کہ اس کی زندگی کی قیمت اس کی طوالت میں نہیں، اس کی محدودیت میں پوشیدہ ہے ۔
اب ذرا تصور کیجیے کہ اس دن دنیا کے تمام قبرستان خاموش ہوں گے ۔،کوئی نئی قبر نہیں کھودی جائے گی، کوئی جنازہ نہیں اٹھے گا، کوئی تعزیتی
مجلس نہیں ہوگی۔ بظاہر یہ ایک خوشی کا دن ہوگا، مگر شام ڈھلتے ڈھلتے لوگوں کے دلوں میں ایک عجیب سی بے چینی جنم لینے لگے گی۔ کیونکہ
انسان صرف اپنی زندگی سے نہیں، اپنی موت سے بھی معنی حاصل کرتا ہے ۔ ایک شاعر سوچے گا کہ اگر ہمیشہ زندہ رہنا ہے تو پھر آج شعر کیوں
لکھوں؟ ایک مصور اپنے خالی کینوس کو دیکھے گا اور کہے گا کہ کل بھی تو موجود ہے ۔،ایک مصنف اپنے ادھورے مسودے کو بند کرکے رکھ دے
گا کہ ابھی کیا جلدی ہے ۔ اور یہی ” کل ” آہستہ آہستہ زندگی کے سب سے بڑے دشمن میں تبدیل ہونے لگے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی بیشتر عظیم تخلیقات وقت کی قلت نے پیدا کی ہیں۔ اہرام مصر سے لے کر خلائی جہازوں تک، کتابوں سے لے کر ایجادات تک، ہر جگہ ایک خاموش احساس کام کرتا رہا ہے ” وقت کم ہے ، کچھ کرجاؤ”۔جب یہ احساس ختم ہوجائے تو زندگی ایک لمبی سڑک بن جاتی ہے جس کا کوئی اختتام نظر نہیں آتا۔ اور جس سفر کا اختتام نظر نہ آئے ، اس میں رفتار بھی کم ہوجاتی ہے اور مقصد بھی دھندلا جاتا ہے ۔
پھر رات کے آخری پہر، جب دنیا اس غیر معمولی دن کے اختتام کے قریب ہوگی، انسان شاید پہلی بار موت کو ایک دشمن نہیں، ایک ذمہ
داری کے طور پر دیکھنا شروع کردے گا، کیونکہ پورا دن گزرنے کے بعد اسے احساس ہوگا کہ موت صرف جانیں نہیں لیتی، وہ جگہ بھی خالی
کرتی ہے ۔ پرانی نسلیں رخصت ہوتی ہیں تو نئی نسلوں کو آگے آنے کا موقع ملتا ہے ۔ پرانے خیالات جاتے ہیں تو نئے خیالات جنم لیتے
ہیں۔ فطرت کا ہر موسم اس اصول پر چلتا ہے کہ کچھ ختم ہوگا، تبھی کچھ نیا شروع ہوگا۔اور پھر جیسے ہی گھڑی بارہ بجانے لگے ، دنیا بھر کے لوگ ایک عجیب کیفیت میں مبتلا ہوں گے ۔ وہ اس دن کے ختم ہونے کا انتظار بھی کر رہے ہوں گے اور اس سے خوفزدہ بھی ہوں گے ۔ کیونکہ انہیں معلوم ہوگا کہ چند لمحوں بعد موت دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر واپس آجائے گی۔ اور جب موت اپنی ایک دن کی چھٹی ختم کرکے واپس آئے گی تو شاید دنیا پہلی بار اس کا استقبال نفرت سے نہیں، فہم کے ساتھ کرے گی ،کیونکہ لوگ جان چکے ہوں گے کہ مسئلہ موت کا وجود نہیں، بلکہ زندگی کا ضیاع ہے ۔ اصل المیہ مر جانا نہیں، بلکہ زندہ رہ کر نہ جینا ہے ۔ اصل خسارہ قبر نہیں، وہ خواب ہیں جو کبھی پورے نہ ہوسکے ، وہ محبتیں ہیں جو کبھی کہی نہ جاسکیں، اور وہ سچ ہیں جو ہمیشہ دل میں دفن رہے ۔
اگلی صبح دنیا معمول کے مطابق جاگے گی۔ اسپتال بھی وہی ہوں گے ، سڑکیں بھی، بازار بھی، اور لوگ بھی۔ مگر ایک چیز بدل چکی ہوگی،
انسان کی نگاہ۔کل تک وہ موت کو صرف ایک ظالم حقیقت سمجھتا تھا، آج وہ جان چکا ہوگا کہ زندگی کی قیمت کا تعین بھی اسی حقیقت سے ہوتا
ہے ۔ کیونکہ اگر موت نہ ہوتی تو شاید ماں اپنے بچے کو اتنی محبت سے نہ دیکھتی، شاید دوستوں کی ملاقاتیں اتنی قیمتی نہ ہوتیں، شاید کسی بوڑھے
باپ کا ہاتھ تھامنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی، اور شاید ہم سب اپنے خوابوں کو ہمیشہ کسی آنے والے کل کے لیے مؤخر کرتے رہتے ، موت کا
خوف انسان کو پریشان ضرور کرتا ہے ، مگر یہی خوف اسے یاد دلاتا ہے کہ وقت محدود ہے ، لہٰذا اسے ضائع نہ کرو، شاید اسی لیے دانش مند لوگ
لمبی زندگی کی دعا کم اور بامقصد زندگی کی دعا زیادہ کرتے ہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ موت آئے گی یا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کے آنے سے پہلے
ہم نے کیا کیا؟ کیا ہم نے کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیری۔؟ کیا ہم نے کسی بھوکے کو کھانا کھلایا۔؟ کیا ہم نے کوئی سچ بولا، کوئی خواب پورا کیا، کوئی محبت نبھائی؟ کیونکہ جب حساب ہوگا تو شاید یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ تم کتنے دن زندہ رہے ، بلکہ یہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنے دنوں کے ساتھ کیا ،کیا۔اور یہی وہ لمحہ ہوگا جب انسان سمجھے گا کہ موت زندگی کی دشمن نہیں، بلکہ اس کی سب سے بڑی یاددہانی ہے کہ وقت کم ہے ، لہٰذا جیو۔ مگر ایسے کہ تمہارے جانے کے بعد بھی تمہاری انسانیت زندہ رہے ۔
٭٭٭


