خود شناسی سے خدا شناسی تک
شیئر کریں
محمد آصف
انسان اس کائنات کا سب سے حسین شاہکار ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بے شمار مخلوقات پر فضیلت عطا فرمائی اور قرآنِ کریم میں ارشاد
فرمایا :” لقد خلقنا النسان فی أحسن تقویم” یعنی ”بے شک ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا”۔یہی ”احسن تقویم”انسان کی
ظاہری خوبصورتی ہی نہیں بلکہ اس کی روحانی، اخلاقی اور فکری عظمت کا بھی اعلان ہے ۔ جب انسان اپنے وجود پر غور کرتا ہے تو درحقیقت وہ
اپنے رب کی نشانیوں کا مشاہدہ کر رہا ہوتا ہے ، کیونکہ انسان کا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت، حکمت اور محبت کا آئینہ دار ہے ۔
اپنے آپ کو جاننا دراصل اپنے رب کو پہچاننے کا ایک ذریعہ ہے ۔ انسان جب اپنی آنکھوں، کانوں، دل، دماغ اور اپنی پوری شخصیت پر
غور کرتا ہے تو اسے ہر طرف اللہ تعالیٰ کی صناعی اور تخلیقی کمالات نظر آتے ہیں۔ ہماری آنکھیں صرف دیکھنے کا ذریعہ نہیں بلکہ خدا کی اس عظیم
نعمت کی یاد دلاتی ہیں جس کے بغیر دنیا تاریکی میں ڈوب جائے ۔ ہماری زبان صرف گفتگو کا وسیلہ نہیں بلکہ وہ ذریعہ ہے جس سے ہم اللہ کا
ذکر کرتے ہیں، حق بیان کرتے ہیں اور محبت و خیر بانٹتے ہیں۔ اسی لیے اپنے وجود پر غور کرنا خدا کی قدرت کے مظاہر کو تلاش کرنا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان محض گوشت، ہڈیوں اور خون کا مجموعہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کا ظہور ہے ۔ اللہ نے انسان کو محض اتفاقاً پیدا
نہیں کیا بلکہ اسے اپنے علم، حکمت اور مشیت کے تحت وجود بخشا۔ انسان کی تخلیق پہلے اللہ کے ارادے میں تھی، پھر وہ ارادہ تدریجاً تکمیل پاتا
گیا اور انسان اپنے موجودہ وجود میں سامنے آیا۔ اس لیے انسان کی اصل حقیقت اس کے جسم سے کہیں بلند ہے ۔ وہ اللہ کی چاہت، محبت
اور حکمت کا ایک زندہ مظہر ہے ۔جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اس کا وجود اللہ کی عطا ہے تو پھر وہ اپنے آپ کو حقیر نہیں سمجھتا بلکہ اپنی قدر کرتا
ہے ۔ اپنی قدر کرنا تکبر نہیں بلکہ اللہ کی نعمت کی قدر کرنا ہے ۔ جو شخص اپنے وجود کی عزت کرتا ہے ، اپنے کردار کو سنوارتا ہے ، اپنی زبان کو پاک
رکھتا ہے اور اپنے اعمال کو بہتر بناتا ہے ، وہ دراصل اللہ کی دی ہوئی امانت کی حفاظت کر رہا ہوتا ہے ۔ یہی احسن تقویم کا تقاضا ہے کہ انسان
اپنی ظاہری اور باطنی شخصیت کو بہتر سے بہتر بنائے ۔
احسن تقویم ایک عظیم راز ہے ۔ اس راز کا تعلق صرف جسمانی حسن سے نہیں بلکہ روحانی قوت اور اخلاقی استقامت سے بھی ہے ۔ تقویم کا
راز دراصل تقویت میں پوشیدہ ہے ۔ انسان کو اپنے نفس، ارادے اور کردار کو اتنا مضبوط بنانا چاہیے کہ حالات جیسے بھی ہوں، وہ اپنے نیک
ارادوں اور اعلیٰ مقاصد پر قائم رہے ۔ جو شخص مشکلات میں بھی حق اور خیر کا راستہ نہیں چھوڑتا، وہ احسن تقویم کے حقیقی مفہوم کو سمجھ لیتا ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اسی انسانی قالب میں اپنے محبوب حضرت محمد ۖ کو دنیا میں مبعوث فرمایا۔ یہ انسانی وجود اتنا معزز ہے کہ کائنات کی سب سے
عظیم ہستی ۖ نے اسی لباسِ بشر میں زندگی گزاری۔ اس حقیقت سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسانی وجود کتنا محترم اور مقدس ہے ۔ اس لیے اپنے
جسم، کردار اور شخصیت سے محبت کرنا دراصل صاحبِ خیر البشر ۖ سے محبت کی ایک ابتدائی نشانی ہے ۔ جو شخص اپنے وجود کو سنوارتا ہے ،
صفائی اختیار کرتا ہے ، حسنِ اخلاق اپناتا ہے اور اپنے کردار کو نکھارتا ہے ، وہ سنتِ نبوی ۖ کی پیروی کر رہا ہوتا ہے ۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو ایک خوبصورت تحفے کی طرح تیار کرے ، کیونکہ ایک دن اسے اپنے رب کے حضور حاضر ہونا ہے ۔ دنیا
کی زندگی دراصل تیاری کا میدان ہے ۔ ہم اپنے اعمال، اخلاق اور کردار کے ذریعے اپنے آپ کو اس ملاقات کے لیے تیار کرتے ہیں۔
ہمیشہ بہترین تحفہ پیش کیا جاتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے والا سب سے قیمتی تحفہ ایک پاکیزہ دل، روشن کردار اور سنوارا ہوا وجود
ہے ۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ ”تحفہ وہ دو جو خود پسند کرو۔” اگر انسان خود اپنی قدر نہ کرے ، خود کو بہتر بنانے کی کوشش نہ کرے تو پھر وہ اپنے
رب کی بارگاہ میں کیسے ایک خوبصورت امانت کے طور پر پیش ہو سکتا ہے ؟
یہ دنیا عارضی ہے اور ایک دن ہر انسان کو سپردِ خاک ہونا ہے ۔ لیکن مومن کا خاک میں جانا فنا نہیں بلکہ ایک نئی زندگی کا آغاز ہے ۔ انسان
کی یہ مٹی جب زمین کی مٹی میں ملتی ہے تو وہ بھی عزت پاتی ہے ۔ اسی لیے حدیث میں آیا ہے کہ مومن کی قبر جنت کے باغوں میں سے ایک
باغ بن سکتی ہے ۔ گویا انسان کا ظاہر و باطن اگر سنور جائے تو اس کے اثرات اس کی قبر تک پہنچتے ہیں اور اس کے اردگرد کی فضا بھی نور سے بھر
جاتی ہے ۔
انسان کی ظاہری اور باطنی اصلاح دونوں ضروری ہیں۔ بعض لوگ صرف دل کی پاکیزگی کو کافی سمجھتے ہیں، لیکن اسلام ظاہری صفائی اور
باطنی طہارت دونوں کا درس دیتا ہے ۔ اگر ظاہری صفائی کی اہمیت نہ ہوتی تو وضو فرض نہ کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے سے پہلے
جسم کی طہارت کا حکم اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جسم اور روح ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ روح جس لباس میں رہتی ہے ، اس
لباس کی صفائی اور خوبصورتی بھی روح کے حسن میں اضافہ کرتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، لیکن یہ عام مٹی نہیں بلکہ ایسی مٹی ہے جس میں زندگی کی کھنک اور محبت کی مہک ہے ۔ انسان کی
گفتگو، اس کا اخلاق، اس کی مسکراہٹ اور اس کا رویہ اسی مٹی کی خوشبو کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب انسان محبت، خیرخواہی اور حسنِ اخلاق کے
ساتھ زندگی گزارتا ہے تو اس کے وجود سے ایک ایسی خوشبو پھوٹتی ہے جو دلوں کو مسخر کر لیتی ہے ۔ یہی انسانی عظمت کا اصل حسن ہے ۔ اے
انسان! تو اپنے وجود کا نگہبان ہے ۔ تیرا جسم، تیری روح، تیرا دل اور تیری صلاحیتیں سب تیرے رب کی امانت ہیں۔ امانت کا حق یہ ہے کہ
اس کی حفاظت کی جائے ، اسے ضائع نہ کیا جائے اور اسے بہترین حالت میں واپس لوٹایا جائے ۔ اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا، اپنے اخلاق کو
بہتر بنانا، اپنے کردار کو بلند کرنا اور اپنی روح کو اللہ کی یاد سے منور کرنا اسی امانت داری کا حصہ ہے ۔
آخرکار یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ اپنی قدر کرنا دراصل قادرِ مطلق کی عطا کی قدر کرنا ہے ۔ جو شخص اپنے اندر اللہ کی نشانیوں کو پہچان
لیتا ہے ، وہ خود کو کمتر نہیں سمجھتا بلکہ شکر، محبت اور ذمہ داری کے ساتھ زندگی گزارتا ہے ۔ وہ جان لیتا ہے کہ اس کا وجود ایک معمولی حادثہ نہیں
بلکہ ربِ کائنات کی حکمت، محبت اور ارادے کا مظہر ہے ۔ اسی شعور کے ساتھ جینے والا انسان احسن تقویم کے راز کو پا لیتا ہے اور اس کی
زندگی خدا شناسی، خود شناسی اور عشقِ رسول ۖ کے نور سے منور ہو جاتی ہے۔
٭٭٭


