میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سخت احکامات کے باوجود،عزیز آباد تھانے کی حدود میں گٹکا ماوا کا کاروبار عروج پر

سخت احکامات کے باوجود،عزیز آباد تھانے کی حدود میں گٹکا ماوا کا کاروبار عروج پر

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۲ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

گٹکا ماوا ڈیلر طاہر بوبی، عمیر عرف ببلو کا علاقے میں راج قائم ،گٹکا ماوا کی سپلائی فروخت مسلسل جاری
طاہر بوبی، عمیر ببلو، نعیم فرکی، آصف نیاپو، شعیب، کاشف، ریاض، جاوید شوکیا اور ابوبکر قانون کی گرفت سے دور

(رپورٹ؍ ایم جے کے)ضلع وسطی تھانہ عزیزآباد کی حدود میں عرصہ دراز سے گینگ آف عزیزآباد گٹکا ماوا کا راج قائم ہے جہاں بڑے بڑے گٹکا ماوا ڈیلر جن میں اول نمبر طاہر عرف بوبی دوئم نمبر عمیر عرف ببلو شامل ہیں جبکہ چھالیہ ڈیلروں میں جاوید شوکیا، ابوبکر شامل ہیں، روزنامہ جرات کی سماج دشمن عناصروں کے خلاف مسلسل خبر پر کچھ دن قبل ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ڈاکٹر محمد عمران خان کے احکامات جاری ہونے پر تھانہ عزیز آباد پولیس کی جانب سے منشیات و (گٹکا؍ماوا) کے خلاف کارروائیاں عمل میں لائی گئیں، عزیزآباد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ملزمان نعمان بندانی ولد محمد یونس اور سلمان عرف لڈو ولد محمد اشرف کو گرفتار کیا تھا، ملزمان کے خلاف مقدمہ نمبر 192؍2026 بجرم دفعہ 4؍8(1) گٹکا ماوا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا، اسی طرح خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے ملزم جنید ولد اسلم کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے خلاف مقدمہ نمبر 189؍2026 بجرم دفعہ 4؍8(1) گٹکا ماوا ایکٹ کے تحت درج کیا گیا، علاقہ مکین عزیزآباد کا کہنا ہے کہ پولیس ریکارڈ کے مطابق گینگ آف عزیزآباد کا اول نمبر گٹکا ماوا ڈیلر سماج دشمن عناصر طاہر عرف بوبی ولد محمد اقبال رہائش فلیٹ نمبر1، پلاٹ 95 محلہ میمن کالونی فیڈرل بی ایریا وسطی کراچی، جس پر تھانہ عزیزآباد میں 2020 اور 2025 میں گٹکا ماوا سپلائی اور فروخت کرنے کے جرم میں ایف آئی آر بھی درج ہوچکی ہیں یہ اور اس کے مزید کارندے جن میں آصف نیا پو، نعیم فرکی شامل ہیں اب تک قانون کی گرفت سے دور کیوں؟ طاہر عرف بوبی نے اپنے کارخانے میں جو کہ اوکھائی مسجد والی گلی میں یا اسکی والدہ کے گھر پر بتایا جاتا ہے وہاں سے روزانہ کی بنیاد پر 12 ہزار کیقریب گٹکا ماوا کے پیکٹ تیار کرکے علاقہ عزیزآباد میں اپنے درجن سے زائد کیبنوں پر سپلائی اور فروخت کروا رہا ہے، اسکے کیبن حسین آباد صفحہ مسجد کے سامنے، کراچی حلیم کے سامنے، کتیانہ ہسپتال کے برابر میں، یونائیٹڈ بیکری کے پاس، اوکھائی مسجد کے پاس، صدیق آباد، باٹوا ٹاؤن اور دیگر جگہ پر قائم ہیں، جبکہ دوئم نمبر گٹکا ماوا ڈیلر عمیر عرف ببلو اور اس کے کارندے شعیب اور کاشف بھی اب تک قانون کی گرفت سے دور ہیں؟ عمیر عرف ببلو کا گٹکے ماوے کا کارخانہ بھنگوریہ گوٹھ مکان نمبر 119 میں آباد ہے جہاں روزانہ ہزاروں کی تعداد میں گٹکے ماوے کی ترسیل جاری ہے اور بھاری مقدار میں چھالیہ بھی ذخیرہ کر رکھی ہیں، عمیر عرف ببلو نے علاقہ عزیزآباد میں پانچ سے زائد اپنے کیبن آباد کر لیے ہیں، گٹکا ماوا ڈیلر عمیر عرف ببلو کا پارٹنر جنید کی گرفتاری کے بعد شعیب اور کاشف نے عمیر عرف ببلو کے گٹکے ماوے کی سپلائی اور فروخت کے کام کی کمان سنبھال لی ہے بھنگوریہ گوٹھ، گلشن شمیم، محمدی کالونی، بھنگی پاڑا، بابا فش کے سامنے گلی اور جوہرآباد کے علاقے میں اسکا زہر نما گٹکا ماوا فروشی کا دھندا زور پکڑنے لگا ہے، ذرائع نے مزید بتایا کہ عزیزآباد میں مبینہ پولیس سرپرستی میں جرائم اور غیرقانونی وصولیاں بھی جاری ہیں ایس ایچ او شاہد تاج اور اس کی ٹیم میں شامل بیٹر پی سی کامل، ہیڈ کانسٹیبل فرحان چشتی، پی سی نبیل اور ہیڈ محرر ارشد پر الزام ہے کہ انہوں نے علاقے میں بدعنوانی کا بازار گرم کر رکھا ہے جہاں منشیات و گٹکا ماوا، اسمگلنگ کی گئی اشیاء اور جواء سٹہ جیسی سرگرمیاں مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض جاری ہیں، ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مختلف جرائم پیشہ عناصر سے لاکھوں روپے ہفتہ وار وصول کیے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں علاقے میں کھلی چھوٹ حاصل ہیں اطلاعات کے مطابق گٹکا ماوا اول نمبر ڈیلر طاہر عرف بوبی اور گٹکا ماوا دوئم نمبر ڈیلر عمیر عرف ببلو سے مبینہ طور پر تین، تین لاکھ روپے ہفتہ وصول کیے جاتے ہیں جبکہ ریاض ماوا والا، جاوید شوکیا چھالیہ ڈیلر، ابوبکر چھالیہ ڈیلر اور مرشد المعروف “بیٹل کنگ” سمیت دیگر عناصر جن میں آصف نیاپو، نعیم فرکی، شعیب، کاشف سے بھی مبینہ طور پر ہفتہ وار وصولیوں کا انکشاف ہے، مزید یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بعض شہریوں کو روزانہ کی بنیاد پر حراست میں لے کر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور بعد ازاں مبینہ طور پر رشوت وصول کر کے چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے علاقے میں خوف و ہراس کی فضا قائم ہو چکی ہے، علاقائی و سماجی حلقوں نے آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی ویسٹ زون اور ایس ایس پی سینٹرل سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لے کر شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں تاکہ قانون کی عملداری بحال ہو اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق سزا دی جاسکے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں