میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایران مذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی امریکا ایران مذاکرات میں رکاوٹ ہے، فیلڈ مارشل کی ٹرمپ سے گفتگو

ویب ڈیسک
منگل, ۲۱ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

صورتحال اگر یہی برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی،عاصم منیر کے مشورے پر غور کروں گا( امریکی صدر) دونوں رہنماؤں میں خطے میں جاری کشیدگی پرگفتگو
آبنائے ہرمز، عالمی تیل کی ترسیل کاراستہ ، کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے،ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کا تسلسل امن مذاکرات کے امکانات کو کمزور کر رہا ہے، رائٹرز کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر دیے گئے مشورے پر غور کریں گے، جو ایران سے امن مذاکرات کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز نے ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو خطے میں جاری کشیدگی اور ممکنہ امن مذاکرات کے تناظر میں ہوئی۔ رائٹرزکے ذرائع کے مطابق آرمی چیف عاصم منیر نے امریکی صدر کو آگاہ کیا کہ آبنائے ہرمز میں جاری ناکہ بندی اور بحری راستوں کی بندش ایران کے ساتھ مذاکراتی عمل کو متاثر کر رہی ہے اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو امن کی کوششیں آگے نہیں بڑھ سکیں گی۔ اسی گفتگو میں امریکی صدر ٹرمپ نے اس مؤقف کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشورے پر غور کریں گے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے کردار کو اہمیت دے رہا ہے۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے اور آئندہ ممکنہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد میں انتظامات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے حالیہ ہفتوں میں دونوں فریقین کے درمیان رابطے میں سہولت کاری کی ہے، جس کے نتیجے میں ابتدائی سطح پر جنگ بندی اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، اس وقت کشیدگی کا مرکز بنی ہوئی ہے اور اس کی صورتحال عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ رائٹرز کے مطابق اسلام آباد میں متوقع مذاکراتی دور سے قبل اس سطح پر اعلیٰ رابطے پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی کردار کو ظاہر کرتے ہیں، تاہم اصل پیش رفت فریقین کے آئندہ فیصلوں پر منحصر ہوگی۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں