ایران امریکہ معاہدہ ؟
شیئر کریں
محمد آصف
ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کی خبریں ایک ایسے وقت میں منظرِ عام پر آ رہی ہیں جب خطۂ مشرقِ وسطیٰ کئی برسوں سے
مسلسل کشیدگی، پراکسی جنگوں، معاشی پابندیوں اور سفارتی تناؤ کا شکار رہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق فریقین اصولی طور پر ایک بڑے فریم
ورک پر متفق ہو چکے ہیں اور آئندہ چوبیس سے اڑتالیس گھنٹوں میں ایک غیر معمولی اعلان متوقع ہے ۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے اور اسلام آباد کو
اس تاریخی پیش رفت کے لیے مقام کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری عالمی سیاست کے لیے ایک حیران کن اور
غیر معمولی واقعہ ہوگا۔ اس منظرنامے میں عالمی قیادت کی ایک بڑی تعداد کی ممکنہ شرکت کی بات کی جا رہی ہے ، جس میں امریکہ کے سابق
صدرڈونلڈ ٹرمپ، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، ترکیہ کے صدر رجب طیب اردگان اور اقوام متحدہ
کے سیکرٹری جنرل Antnio Guterres شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ تمام رہنما ایک ہی اسٹیج پر نظر آئیں تو یہ سفارت کاری کی تاریخ کا
ایک منفرد لمحہ ہوگا۔
اس مجوزہ معاہدے کا پس منظر ایران کی داخلی اور خارجی صورتحال سے جڑا ہوا ہے ۔ ایران ایک عرصے سے معاشی پابندیوں، علاقائی
تنازعات اور داخلی سیاسی اختلافات کا سامنا کر رہا ہے ۔ ایرانی نظام میں پارلیمانی سیاستدانوں اور پاسدارانِ انقلاب کے درمیان حکمتِ
عملی کے حوالے سے مختلف زاویہ ہائے نظر موجود رہے ہیں۔ ایک جانب سیاسی قیادت مستقل اور پائیدار حل کی خواہاں تھی تاکہ معیشت کو
استحکام مل سکے ، جبکہ دوسری جانب عسکری حلقے سخت مؤقف اپنائے ہوئے تھے ۔ یہی داخلی کشمکش ایران کی فیصلہ سازی کو متاثر کرتی رہی۔
پاسدارانِ انقلاب کی تنظیمی ساخت، جس میں مختلف صوبائی کمانڈرز کو خودمختاری حاصل ہے ، اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مرکزی قیادت کو
نقصان پہنچنے کی صورت میں بھی مزاحمت کا تسلسل برقرار رہے ۔اس حکمت ِعملی نے ایران کو بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن قائم رکھنے
میں مدد دی، تاہم اس کے ساتھ رابطہ کاری اور ہم آہنگی کے مسائل بھی سامنے آئے ۔ ان حالات میں پاکستانی عسکری قیادت کا کردار اہمیت
اختیار کرتا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق فیلڈ مارشل نے تہران میں متعدد اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کیں جن میں عسکری حکام بھی شامل تھے ۔ ان
ملاقاتوں کا مقصد داخلی اختلافات کو کم کرنا اور ممکنہ معاہدے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔ سفارتی سطح پر ایسی کوششیں عموماً خاموشی سے
کی جاتی ہیں، اور اگر واقعی پاکستان نے اس سلسلے میں اعتماد سازی کا کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔ یہ تاثر
بھی دیا جا رہا ہے کہ بعض ملاقاتوں کے دوران بیرونی طاقتوں کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ مذاکراتی عمل میں کسی قسم کی عسکری
کارروائی نہیں کی جائے گی، تاکہ بات چیت کا ماحول خراب نہ ہو۔
خطے کی مجموعی صورتحال بھی اس ممکنہ معاہدے سے جڑی ہوئی ہے ۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک نہایت اہم راستہ
ہے ، ہمیشہ سے جغرافیائی سیاست کا مرکز رہا ہے ۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم ہوتی ہے اور سمندری راستوں کی سلامتی پر
اتفاق رائے قائم ہوتا ہے تو عالمی منڈیوں میں استحکام آسکتا ہے ۔ اسی طرح لبنان اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں کمی، یا جنگ بندی کی
کسی شکل پر اتفاق، مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے ۔ البتہ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ علاقائی تنازعات کی
جڑیں گہری ہیں اور کسی ایک معاہدے سے تمام مسائل کا فوری حل ممکن نہیں ہوتا۔
امریکی داخلی سیاست بھی اس پیش رفت سے الگ نہیں۔ اگر امریکی قیادت کسی بڑے معاہدے کا اعلان کرتی ہے تو اس کا سیاسی فائدہ
داخلی سطح پر حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی، خصوصاً ایسے وقت میں جب انتخابی ماحول قریب ہو۔ اسی تناظر میں مذاکراتی ٹیم میں شامل
شخصیات، جیسے جیرڈ کشنر اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی نمائندہ، بحث کا موضوع بن سکتی ہیں۔ امریکہ کے اندر بعض حلقوں کی جانب سے
یہ مؤقف بھی سامنے آ سکتا ہے کہ واشنگٹن نے مذاکرات میں نرم رویہ اختیار کیا، جبکہ دیگر اسے سفارتی کامیابی قرار دیں گے ۔
پاکستان کے لیے اس ممکنہ معاہدے کی میزبانی ایک”گولڈن اپرچونٹی”ثابت ہو سکتی ہے ۔ اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات، پولیس کی
اضافی نفری، اور سرکاری و نجی ہوٹلوں کی تیاریوں کی خبریں اسی تناظر میں دیکھی جا رہی ہیں۔ اگر واقعی دس کے قریب سربراہانِ مملکت یا ان
کے مساوی سطح کے نمائندے پاکستان آئیں تو یہ1974 کی اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد ایک اور تاریخی لمحہ ہو سکتا ہے جب پاکستان
عالمی سفارت کاری کے مرکز میں تھا۔ ایسی پیش رفت پاکستان کے امیج، سرمایہ کاری کے امکانات اور خطے میں اس کے اسٹریٹیجک کردار کو
تقویت دے سکتی ہے ۔
تاہم اس پورے منظرنامے میں احتیاط اور حقیقت پسندی ضروری ہے ۔ بین الاقوامی سیاست میں اکثر اطلاعات قیاس آرائیوں پر مبنی
ہوتی ہیں اور حتمی اعلان سے قبل کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوتا ہے ۔ معاہدے کے خدوخال، ضمانتوں کی نوعیت، پابندیوں کے خاتمے یا
نرمی کی شرائط، اور علاقائی سلامتی کے انتظامات جیسے معاملات نہایت پیچیدہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح جنگی نقصانات کے حوالے سے گردش
کرنے والے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق بھی ضروری ہے ، کیونکہ جنگی ماحول میں معلومات کا بہاؤ اکثر متضاد اور مبالغہ آمیز ہوتا ہے ۔
اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے کئی ممکنہ اثرات ہوں گے ۔ ایران کو معاشی پابندیوں میں نرمی مل سکتی ہے ، جس سے اس کی معیشت کو
سہارا ملے گا اور تیل کی عالمی منڈی پر مثبت اثر پڑ سکتا ہے ۔ امریکہ کے لیے یہ ایک سفارتی کامیابی ہوگی جسے وہ علاقائی استحکام کے طور پر
پیش کرے گا۔ سعودی عرب اور ترکیہ جیسے ممالک کی شمولیت خطے میں ایک نئے توازنِ طاقت کی نشاندہی کر سکتی ہے ۔ اقوام متحدہ کی موجودگی
اس معاہدے کو عالمی قانونی اور اخلاقی جواز فراہم کرے گی۔
آخرکار، اگر اسلام آباد اس تاریخی لمحے کا دوبارہ میزبان بنتا ہے تو یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک سنگِ میل ہوگا۔ لیکن پائیدار
کامیابی کا انحصار صرف ایک تقریب یا اعلان پر نہیں بلکہ اس امر پر ہوگا کہ معاہدے پر کس حد تک عملدرآمد ہوتا ہے ، فریقین اپنے وعدوں کی
پاسداری کرتے ہیں یا نہیں، اور خطے میں دیرپا امن کے لیے عملی اقدامات کیے جاتے ہیں یا نہیں۔ عالمی سیاست میں اعلانات سے زیادہ
اہم ان کا تسلسل اور نتائج ہوتے ہیں۔ اگر اس بار واقعی تاریخ نے نیا رخ اختیار کیا تو اسے محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ خطے کے
کروڑوں عوام کے لیے امن اور استحکام کی امید کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ ذمہ داری، توازن اور حکمت
کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے تاکہ ممکنہ ”سرپرائز اعلان”محض خبر نہ رہے بلکہ ایک پائیدار حقیقت میں ڈھل سکے ۔


