میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ

سرمایہ دارانہ نظام اور وقت کا فیصلہ

ویب ڈیسک
بدھ, ۲۲ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

ب نقاب /ایم آر ملک

ایران ،امریکہ جنگ نے امریکیت کے دعوئوں کی قلعی نہیں کھول دی کہ سرمایہ دارانہ نظام انسانی بقا کا آخری نظام ہے ؟
عالمی فورمز پر یہ بحث اب شدت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ اس جنگ کے بعد سپر پاور کا مستقبل کیا ہوگا ؟ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف 2000 کے عشرے میں ہونے والے پراگ کے مظاہروں جس میں لاکھوں کی تعداد میں مظاہرین نعرہ زن ہوئے کہ ”سرمایہ داری مارتی ہے سرمایہ داری کو مارو ”اپنا فیصلہ عالمی صفحہ قرطاس پر شدید احتجاج کی شکل میں صادر کردیاپھر یہ تسلسل چلا اور سیاٹل سے گوتھن برگ اور ڈیوس سے لندن تک لاکھوں کی تعداد میں افراد کا سیل رواں شاہرائوں پر نکلا۔
اس حقیقت سے انکار کسی بھی ذی شعور کو نہیں کہ سرمایہ داری دنیا کے غریب عوام پرمسلط کسی بڑی لعنت سے کم نہیں مگر اس کی رکھوالی اس
وقت امریکیت کا مقصد حیات ہے اور کیوں نہ ہو کہ امریکیت کی بقا اسی سراب پر قائم ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام انسانی حقوق کا محافظ آخری
نظام ہے ایک ایسا نظام دنیا بھر میں غربت کو جس نے سود کے مدوجذر سے پید اکیا اور آج تیسری دنیا کا ہر فرد قرضوں کے ایک ایسے جال
میں جکڑا ہوا ہے جس سے اُس کا نکلنا ناممکنات میں سے ہے ،مالیاتی سرمایہ داری کے خود کش حملہ نے دنیا کی اپنے وقت کی سب سے بڑی
سپر پاور روس میں مروجہ معاشی نظام کو پاش پاش کر دیا،امریکیت نے سرمایہ دارانہ نظام کو عالمی ساہو کار کی حیثیت سے حادثاتی طور پر
متعارف کرایاجس میں عالمی سرمایہ داروں کی ہوس شامل تھی جس نے نوع انسانیت کا لہو چوس لیا۔
یہ سرمایہ دارانہ نظام کا ہی خاصہ ہے کہ سماجی رشتے اور مقامی ثقافتیں زوال پذیر ہو گئیں ،دانشورانہ اور اخلاقی قدریں افلاس کی دلدل
میں دھنس گئیں ،تیسری دنیا کے غریب انسانوں کی منڈیاں سج گئیں اور اس لعنت نے ہر انسان کو فروخت ہونے کی ترغیب دی ،پاکستان میں
اِس کی واضح مثال معروف کرکٹر محمد یوسف کی دی جاسکتی ہے، ”آئی پی ایل ” میں ناکامی سے دوچار ہونے کی وجہ اُس نے یہ بتائی تھی کہ اُس
کی بولی اچھی نہ لگی لہٰذا وہ اچھے داموں نہ بک سکے ،کیونکہ اُنہیں اچھا گاہک نہ ملا ،سرمایہ دارانہ نظام کے پالن ہاروں نے کرکٹ کے شائقین کے اذہان میں یہ بات ڈالی کہ انسان کا فروخت ہونا کوئی بُری بات نہیں ۔
یہی وہ نظام ہے جس میں دنیا بھر کی خوبصورت عورتیں اپنا جسم سرمایہ داروں سے ڈیفائن کراتی ہیں ،یہی وہ نظام ہے جس میں غربت کی انتہا نے عورتوں کو جسم فروشی کے مذموم دھندے میں بے رحمانہ طریقے سے استعمال کیا ،یہی وہ نظام ہے جس نے تیسری دنیا کی عورتوں کے اجسام کو سیاحت سے ریونیو کمانے کا آپشن دیا اور یہی وہ نظام ہے کہ جس نے نوجوان اور مجبور عورتوں میں ایچ آئی وی پیدا کیا اور وہ تیسری دنیا کی مارکیٹوں میں سستے داموں بکنے پر مجبور ہو ئیں اور اسی نظام نے پسماندہ معاشروں کو ہمیشہ کیلئے غلاظت اور غربت کے سمندر میں دھکیل دیا ۔یہ سرمایہ دارانہ نظام کی ہی منطق ہے کہ عالمی سطح پر جمہوریت کا تماشا لگتا ہے اور اس تماشے کے علمبردار ”امریکیت ”ایجنڈے کے تحت یک زبان ہوکر عالمگیریت کے نفاذ کی کوششیں کرتے ہیں، دراصل امریکیت جمہوریت کی شکل میں آمریت کا تماشہ لگا کر دیا بھر میں نیو ورلڈ آرڈر کی تکمیل کی خواہش لیئے بائولے کتے کی طرح سرپٹ دوڑ تی رہی ، اسکے دماغ پر ایک فوج ،ایک اسٹیٹ ،ایک کرنسی بنانے کا خبط سوار رہا اور مسلم ممالک خاص طور پر اُس کا نشانہ رہے جہاں وہ حکمرانوں کی شکل میں اپنے من پسند مہرے لا تا رہا ، عراق ،لیبیا ،افغانستان ،مصر،پاکستان کی صورت حال اسکی عکاسی کرتی ہے، یہ سرمایہ دارانہ نظام کا شاخسانہ ہے پاکستان کا سرمایہ دارانہ نظام بھی امریکیت کے عزائم کی آبیاری کرتا رہا ہے ،یہاں روپے کی قدر کو دن بدن کم کیا جا تا رہا ، سرمایہ داروں کی دولت چونکہ ڈالروں کی شکل میں بیرونی مالیاتی اداروں میں پڑی ہے۔ اس لیے ڈالر کو پر لگ گئے اور جس ملک کی کرنسی کمزور ہو ،ملک کے باسیوں کا بال بال سرمایہ دار حکمرانوں کی عیاشیوں کی وجہ سے قرضوں میں جکڑا ہو تو بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے طاقتور کرنسی مقامی کرنسی کو یتیم اور بے یارو مددگار کر دیتی ہے اور مقامی ترقی کے راستے مسدود ہو جاتے ہیں اس کیلئے چائنا کی مثال دینا ضروری ہے جس نے قومی انرجی انڈسٹری کو تحفظ دیا اور بیرونی سرمایہ کاری کو محدود کر دیا ۔امریکہ نے جس شامت کو آواز دی ہے ،یہ آسانی سے ٹلنے والی نہیں۔ ایران کی للکار نے یہ واضح کر دیا ہے سرمایہ دارانہ نظام انسانیت کا قاتل نظام ہے، یہ نظام اپنے موت آپ مرنے والا ہے ،ڈالر کی جگہ یوآن لینے والا ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں