میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

فیلڈ مارشل ٹرمپ رابطہ ،ایران امریکا مذاکرات کی تیاریاں، وفود کی آمد شروع

ویب ڈیسک
پیر, ۲۰ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع، اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ ، کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں، ریڈ زون کی سڑکیں عارضی طور پر بند، ذرائع
ایران سے ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ، میرے نمائندے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد میں کسی تاریخ کو چلا جائوں،امریکی صدر ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

عرب میڈیا نے دو پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اگلے ہفتے ہونے کا امکان ہے ،امریکی ایڈوانس ٹیم ایران سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے قبل پاکستان پہنچ گئی جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میرے نمائندے ایران کیساتھ مذاکرات کیلئے آج اسلام آباد پہنچ جائیں گے، میں شاید بعد میں کسی تاریخ کو چلا جائوں۔عرب میڈیا سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے کہا کہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ جمعہ سے پہلے متوقع ہے اور ان کا یہ اندازہ کئی عوامل پر مبنی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق امریکی ایڈوانس ٹیم ایران سے مذاکرات کے دوسرے مرحلے سے قبل پاکستان پہنچ گئی۔ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کیلئے غیر ملکی وفود کی ایڈوانس ٹیمیں اسلام آباد پہنچنا شروع ہوگئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکا کے دو لاجسٹک طیارے نور خان ائیر بیس پر اتر چکے ہیں، ائیرپورٹ سے اسلام آباد کے ریڈ زون تک جانے والی سڑکیں عارضی طور پر بند کر دی گئیں جو سکیورٹی کے سخت انتظامات کی نشاندہی کرتی ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ اسلام آباد کے ہوٹلز کو مہمانوں سے خالی کروانے کا فیصلہ کیا گیا ،جمعہ تک کسی نئی بکنگ کی اجازت نہیں۔ قبل ازیں ایران کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت گزشتہ روز سچویشن روم میں ہونے والے اجلاس میں صدر ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے فون پر بات کی۔ اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس بھی شریک تھے جنہوں نے اسلام آباد ٹاکس میں امریکی وفد کی قیادت کی تھی اور اگلے مذاکرات بھی انہی کی قیادت میں ہونے کاامکان ظاہر کیا گیاہے۔ اجلاس میں موجود دیگر شخصیات میں وزیر خارجہ مارکو رْوبیو، وزیر جنگ پیٹر ہیگستھ، وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ، وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز کے علاوہ امریکی صدر کے نمائندے اسٹیو وٹکوف، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف اور جوائنٹ چیفس کے چیئرمین ڈین کین بھی موجود تھے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اجلاس میں صدر ٹرمپ نے کم سے کم ایک مرتبہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور ایرانیوں سے فون پر بات کی۔واضح رہے کہ یہ اجلاس ایسے وقت منعقد کیا گیا جب 3 روز بعد امریکا ایران جنگ بندی کی 15 روزہ مدت ختم ہورہی ہے۔صدرٹرمپ نے کہا تھا کہ اسی ہفتے ڈیل متوقع ہے تاہم امریکا ایران مذاکرات کی نئی تاریخ تاحال طے نہیں کی جاسکی اہم امریکی عہدیدار نے بتایا کہ اگر مذاکرات میں بریک تھرو نہ ہوا تو آئندہ چند روز میں جنگ دوبارہ شروع ہوسکتی ہے۔ دریں اثناء امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کو دیے گئے ٹیلیفونک انٹرویو میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ایک یا دو دن میں معاہدہ طے پانے کا امکان ہے، امریکا اور ایران کے مذاکرات کار ممکنہ طور پر اسی ہفتے کے آخر میں ملاقات کریں گے، جہاں ایک حتمی معاہدے کو شکل دی جا سکتی ہے۔ٹرمپ کے مطابق یہ ممکنہ معاہدہ نہ صرف خطے میں کشیدگی کم کرے گا بلکہ اسرائیل کی سیکیورٹی کو بھی یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔امریکی صدر نے لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لبنان میں اسرائیلی حملے جنگ بندی کے حصے کے طور پر فوری بند ہوں۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اسرائیل کو اپنی کارروائیاں روکنا ہوں گی۔ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل عمارتوں کو تباہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھ سکتا اور امریکا اس کی اجازت نہیں دے گا۔بعد ازاں اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے ان کی ٹیم (آج)پیر کو اسلام آباد پہنچ رہی ہے۔ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں ٹرمپ نے لکھا کہ میرے نمائندے مذاکرات کیلئے اسلام آباد جا رہے ہیں جو (آج)پیر کی شام تک وہاں ہوں گے۔امریکی صدر نے لکھا کہ ایران نے گزشتہ روز آبنائے ہرمز میں گولیاں چلانے کا فیصلہ کیا جو جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے حال ہی میں اعلان کیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو بند کر رہے ہیں جو عجیب بات ہے کیونکہ ہماری ناکہ بندی کی وجہ سے وہ پہلے ہی بند ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے امریکہ کا کوئی نقصان نہیں ہو رہا۔انھوں نے لکھا کہ وہ انجانے میں ہماری مدد کر رہے ہیں، اور یہ گزرگاہ بند ہونے کی وجہ سے وہ روزانہ کی بنیاد پر اپنا 500 ملین ڈالر کا نقصان کر رہے ہیں۔صدر ٹرمپ نے اپنے پیغام میں ایران کو دھمکی دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کی ڈیل کو قبول کر لیں۔ٹرمپ نے لکھا کہ ہم ایران کو ایک مناسب اور معقول ڈیل کی پیشکش کر رہے ہیں اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ اسے قبول کر لیں گے کیونکہ اگر انھوں نے ایسا نہ کیا تو امریکہ ایران کے ہر پاور پلانٹ اور ہر پل کو تباہ کر دے گا۔ٹرمپ نے لکھا کہ اگر ایران نے ان کی ڈیل قبول نہ کی تو وہ ایران کے ساتھ وہ کریں گے جو گذشتہ 47 برس میں امریکہ کے سابق صدور کو کر دینا چاہیے تھا۔ دریں اثناء امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیو یارک پوسٹ اخبار کو بتایا ہے کہ ان کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطی سٹیو وٹکوف اور داماد جارڈ کشنر مذاکرات کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں