اسرائیلی فوج میں خودکشی کا بڑھتا رجحان، 2025 میں 18 فوجیوں کی خودکشی
شیئر کریں
اسرائیلی فوجیوں کی خودکشیوں کا انکشاف خود قابض اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے کیا،مرکزاطلاعات فلسطین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قابض اسرائیلی فوج میں خودکشی کا بڑھتا رجحان اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ظلم و درندگی صرف مظلوموں کو نہیں، بلکہ ظالم کو بھی اندر سے توڑ ڈالتی ہے۔
سنہ2025 کے آغاز سے اب تک اسرائیلی فوج کے کم از کم 18 فوجی خودکشی کر چکے ہیں، جب کہ حقیقی اعداد و شمار کو خفیہ رکھنے کی کوششیں جاری ہیں۔
مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق یہ چونکا دینے والا انکشاف قابض اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے کیا ہے، جس کے مطابق رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 15 فوجیوں نے خودکشی کی، جب کہ صرف جولائی کے مہینے میں مزید 3 خودکشیاں رپورٹ ہو چکی ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق یہ تعداد پچھلے برس کے مقابلے میں دگنی ہے، جب سنہ2024 میں اسی مدت کے دوران 9 فوجیوں نے خودکشی کی تھی۔ یہاں تک کہ سنہ2023 کے پہلے چھ ماہ میں، جنگ سے قبل یہ تعداد صرف 11 تھی۔
یہ خودکشیاں صرف ایک ذہنی دبا کی علامت نہیں، بلکہ قابض اسرائیل کی غزہ میں جاری خونریزی اور انسانیت سوز مظالم کے براہ راست نتائج ہیں، جو خود ان کے فوجیوں کی نفسیات پر قہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں۔
قابض فوج کے ترجمان ایوی دوفرین نے جمعرات کے روز پریس کانفرنس میں اس موضوع پر بات کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ "ہر فوجی ہمارے لیے عزیز ہے، لیکن ہم ہر بات عوام کے سامنے نہیں لا سکتے، یہ فطری بات ہے۔ ان کے اس جواب نے صرف سچائی پر پردہ ڈالنے کا تاثر ہی نہیں دیا، بلکہ اس گہرے بحران کی نشاندہی بھی کی جو اندر ہی اندر اسرائیلی فوج کو کھا رہا ہے۔
نومبر میں شائع ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، تقریبا 5200 اسرائیلی فوجی، یعنی 43 فیصد زخمی فوجی، ایسے ذہنی و نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں جو جنگی صدمات کے بعد لاحق ہوتے ہیں۔
توقع کی جا رہی ہے کہ سنہ2030 تک یہ تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر جائے گی، جن میں کم از کم نصف افراد "صدمے کے بعد کے ذہنی خلل کا شکار ہوں گے۔
یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ظلم کی تلوار آخرکار اپنے ہی ہاتھ کو زخمی کرتی ہے۔ جو فوج آج فلسطینیوں کے گھروں کو ملبے میں بدل رہی ہے، وہ خود اپنے اندر ایک نفسیاتی کھنڈر میں تبدیل ہو رہی ہے۔


