سندھ بلڈنگ، پی آئی بی کالونی میں رہائشی پلاٹوں پر کمرشل تعمیرات کا بڑا سکینڈل
شیئر کریں
اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ کی سرپرستی،پراپرٹی مافیا نے منصوبہ بندی قوانین روند دیے
رہائشی پلاٹ 689اور 1002 پر بغیر نقشہ جات کے تعمیراتی سرگرمیاں ، مکینوں کا احتجاج
ضلع شرقی میں قائم پیر الہٰی بخش کالونی المعروف پی آئی بی کالونی میں بغیر منظور شدہ نقشہ جات اور دستاویزات کے رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن یونٹس کی تعمیر کا بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے ۔ذمہ دار حلقوں کا کہنا ہے کہ ان غیرقانونی سرگرمیوں میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ کی مبینہ سرپرستی شامل ہے ،پی آئی بی کالونی میں پلاٹ 689اور 1002رہائشی پلاٹوں کو تجارتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ دستاویزات کے مطابق، متعلقہ حکام نے ان تعمیرات کے لیے کوئی نقشہ جات یا منظوری دستاویزات پیش نہیں کی ہیں۔ رہائشی زون میں کمرشل سرگرمیاں، بغیر منظور شدہ بلڈنگ پلان کے تعمیر، مقامی قوانین اور شہری منصوبہ بندی کی خلاف ورزی، ماحول اور انفراسٹرکچر پر اضافی بوجھ،اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیرات کی سرپرستی میں ملوث ،شہری انتظامیہ کا موقف ہے کہ "معاملہ زیر تحقیق ہے کارروائی ہوگی”۔شہری انتظامیہ کے اندرونی ذرائع کے مطابق، تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے ۔ تاہم، اب تک کوئی سرکاری دستاویزات منظر عام پر نہیں آئی ہیں۔ عوامی سطح پر احتجاج اور شکایات میں اضافہ ہو رہا ہے ، جبکہ میڈیا کوریج میں واٹس ایپ تصاویر اور مقامی اخباری رپورٹس شامل ہیں۔جرأت سروے ٹیم سے بات کرتے ہوئے مقامی رہائشیوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ایک رہائشی عبدالخالق نے بتایا، "ہمارے علاقے میں نقل و حمل کے مسائل بڑھ گئے ہیں، پانی اور بجلی کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے "۔ رہائشیوں کا مطالبہ ہے کہ فوری تحقیقات کی جائیں اور غیرقانونی تعمیرات کو مسمار کیا جائے۔ ماہرین قانون کے مطابق اگر الزامات ثابت ہوئے تو معطل اسسٹنٹ ڈائریکٹر آصف شیخ کے خلاف کارروائی کے ساتھ ساتھ غیرقانونی تعمیرات کی مسماری کا عمل شروع کیا جا سکتا ہے ۔ تاہم، اگر تحقیقات غیر تسلی بخش رہیں تو عوامی احتجاج میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے ۔شہری انتظامیہ کے ترجمان نے بتایا کہ "ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور اگر کسی بھی افسر کی غلط کاری ثابت ہوئی تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔”یہ معاملہ نہ صرف تعمیراتی اسکینڈل ہے بلکہ شہری انتظامیہ کے ضابطوں اور احتساب کے نظام کا امتحان بھی ہے ۔


