میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، اضافی منزلوں کی تعمیر، ناظم آباد کی پرانی عمارتیں خطرناک

سندھ بلڈنگ، اضافی منزلوں کی تعمیر، ناظم آباد کی پرانی عمارتیں خطرناک

جرات ڈیسک
جمعرات, ۱۷ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

نمبر 3 بلاک ڈی، پلاٹ 9/39پر پانچویں منزل تعمیر، مکینوں میں تشویش کی لہر

ڈائریکٹر فہیم صدیقی کی مبینہ چشم پوشی سے غیر قانونی تعمیرات کو فروغ ملنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناظم آباد نمبر 3 بلاک ڈی میں ایک پرانی عمارت پر مبینہ طور پر پانچویں منزل کی تعمیر نے مکینوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔ زمینی حقائق کے مطابق پلاٹ نمبر 9/39 پر قائم عمارت میں پانچویں منزل تعمیر کی تیاری شروع کر دی گئی ہے، جس کے باعث عمارت کی ساخت، اضافی بوجھ اور مکینوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ ناظم آباد میں متعدد پرانی عمارتیں وقت گزرنے کے ساتھ خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہیں، ایسے میں ان عمارتوں پر مزید منزلوں کی تعمیر سے عمارتوں پر اضافی بوجھ پڑنے کے ساتھ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے ۔

مکینوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ عمارت کا فوری تکنیکی معائنہ کرایا جائے اور پانچویں منزل کی تعمیر کی قانونی حیثیت، منظور شدہ نقشے اور عمارت کی ساختی مضبوطی کی جانچ کی جائے ۔ذرائع کے مطابق اضافی منزل کی تعمیر کے معاملے نے متعلقہ بلڈنگ کنٹرول حکام کی نگرانی کے نظام پر بھی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

علاقہ مکینوں اور ذرائع کا الزام ہے کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث ناظم آباد میں پرانی عمارتوں پر اضافی منزلوں کی تعمیر کا رجحان بڑھ رہا ہے ۔ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ڈائریکٹر فہیم صدیقی کی مبینہ چشم پوشی کے باعث علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کرنے والوں کو حوصلہ مل رہا ہے ، تاہم اس حوالے سے متعلقہ افسر کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

مکینوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ عمارت کی تعمیرات کا ریکارڈ، منظور شدہ نقشہ اور اضافی منزل کی اجازت کی مکمل چھان بین کی جائے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر تعمیرات قواعد و ضوابط کے برخلاف ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے تاکہ کسی ممکنہ حادثے سے قبل شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں