آزادی کا خوف
شیئر کریں
ایرک فروم کی شہرۂ آفاق کتاب ‘‘فریڈم آف فیئر ’’ دراصل آزادی کی مخالفت نہیں، بلکہ انسان کے اندر چھپے ہوئے اس خوف کی تشریح ہے
جو اسے آزادی ملنے کے باوجود آزاد نہیں ہونے دیتا۔ فروم نے ایک نہایت تلخ انسانی حقیقت کو چھوا ہے: انسان صدیوں تک زنجیریں
توڑنے کے لیے لڑتا ہے، لیکن جب زنجیریں ٹوٹ جاتی ہیں تو اسے اپنی آزادی کا بوجھ اٹھانا مشکل محسوس ہونے لگتا ہے۔غلامی میں انسان
کے فیصلے کوئی دوسرا کرتا ہے؛ آزادی میں فیصلہ خود کرنا پڑتا ہے۔ غلامی میں ناکامی کا الزام مالک پر ڈالا جا سکتا ہے؛ آزادی میں انسان کو
اپنے آئینے کے سامنے کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انسان نے تاریخ میں صرف غلامی سے آزادی حاصل نہیں کی، بلکہ بار بار
آزادی سے بھی فرار اختیار کیا ہے۔
انسانی تاریخ دراصل آزادی اور خوف کے درمیان ایک طویل جنگ ہے۔قدیم انسان جب آسمانی بجلی، طوفان، زلزلے اور موت کے
سامنے بے بس ہوا تو اس نے دیوتا تراشے۔ اسے کسی ایسی طاقت کی ضرورت تھی جس کے سامنے وہ اپنے خوف کو رکھ سکے۔ پھر بادشاہ
آئے، جنہوں نے اپنے اقتدار کو آسمانی تقدیر کا لباس پہنایا۔ انسان نے سر جھکا دیا۔ اس نے اپنے فیصلے کی آزادی کے بدلے تحفظ خرید
لیا۔یہ انسانی نفسیات کا پہلا بڑا المیہ تھا: انسان کو ہمیشہ آزادی سے زیادہ یقین کی طلب رہی ہے۔سقراط نے اسی یقین کی دیوار میں پہلا بڑا
سوراخ کیا۔ اس نے ایتھنز سے کہا کہ سوال کرو، اپنے یقین کو عقل کی کسوٹی پر پرکھو، اپنے علم کے غرور کو پہچانو۔ مگر معاشرے کو سوال کرنے
والا انسان اکثر خطرناک لگتا ہے۔ سقراط کو زہر کا پیالہ دے دیا گیا۔ شاید اس لیے کہ اقتدار کو سب سے زیادہ خوف بندوق سے نہیں، آزاد
ذہن سے ہوتا ہے۔افلاطون کی غار کی تمثیل بھی اسی انسانی المیے کی ایک لازوال تصویر ہے۔ غار کے قیدی دیوار پر پڑنے والے سائے کو
حقیقت سمجھتے ہیں۔ جب کوئی شخص زنجیریں توڑ کر روشنی کی طرف جاتا ہے تو ابتدا میں روشنی اسے تکلیف دیتی ہے۔ جب وہ واپس آ کر
دوسروں کو حقیقت بتانے کی کوشش کرتا ہے تو وہ اس پر یقین نہیں کرتے۔یہ صرف فلسفہ نہیں، انسانی تہذیب کی تاریخ ہے۔
انسان کبھی کبھی جھوٹ کو اس لیے نہیں پکڑے رہتا کہ وہ جھوٹ کو سچ سمجھتا ہے، بلکہ اس لیے کہ سچ اس کی پوری دنیا چھین لیتا ہے۔نشاۃِ
ثانیہ نے انسان کو دوبارہ اپنے مرکز میں کھڑا کیا۔ سائنسی انقلاب نے آسمانوں کے رازوں پر سوال اٹھائے۔ روشن خیالی نے عقل کو اختیار کی
بنیاد بنانے کی کوشش کی۔ لاک نے فرد کے حقوق کی بات کی، روسو نے سماجی معاہدے کا تصور پیش کیا، کانٹ نے انسان کو اپنی عقل استعمال
کرنے کی دعوت دی۔ پھر انقلابِ فرانس نے بادشاہ کے سامنے انسان کو شہری بنا کر کھڑا کر دیا۔لیکن تاریخ نے فوراً ایک دوسرا سبق بھی دے
دیا: بادشاہ کو گرانا آسان ہے، بادشاہت کی نفسیات کو انسان کے اندر سے نکالنا مشکل۔فرانسیسی انقلاب کے بعد آزادی، مساوات اور
اخوت کے نعرے گونجے، مگر اسی انقلاب نے دہشت کا زمانہ بھی دیکھا۔ روسی انقلاب نے طبقاتی استحصال کے خلاف بغاوت کی، مگر بعد
میں ایک ایسا نظام پیدا ہوا جس میں فرد ریاستی طاقت کے سامنے بے بس ہو گیا۔ بیسویں صدی نے فاشزم اور نازی ازم کو دیکھا؛ لاکھوں
انسان ایسے رہنماؤں کے پیچھے چل پڑے جنہوں نے انہیں آزادی نہیں، اطاعت پیش کی۔ہٹلر نے جرمن انسان سے یہ نہیں کہا کہ میں
تمہیں آزاد کروں گا؛ اس نے اسے ایک عظیم اجتماعی شناخت، ایک دشمن اور ایک مقصد دیا۔ خوف، ذلت، معاشی بحران اور اجتماعی محرومی
نے انسان کو اپنی انفرادی آزادی بھلا کر ہجوم کا حصہ بننے پر آمادہ کر دیا۔یہاں فروم کا فلسفہ اپنی پوری شدت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔تنہا
انسان کو آزادی اکثر خلا محسوس ہوتی ہے، جبکہ آمریت اسے ایک جھوٹی معنویت عطا کرتی ہے۔نطشے نے انسان کے اندر موجود طاقت کی
خواہش کو دیکھا۔ دوستوئیفسکی نے انسان کے اس تضاد کو سمجھا کہ وہ آزادی چاہتا بھی ہے اور آزادی سے بھاگتا بھی ہے۔ کامو نے انسان کو
ایک بے معنی کائنات میں معنی تلاش کرتے دیکھا۔ سارتر نے کہا کہ انسان آزاد ہونے کے لیے مجبور ہے۔یعنی آزادی سے فرار بھی دراصل
ایک انتخاب ہے۔یہی انسانی المیہ ہے۔ہم اکثر کہتے ہیں کہ حالات نے ہمیں مجبور کیا، معاشرے نے ہمیں مجبور کیا، حکمران نے ہمیں مجبور
کیا، تاریخ نے ہمیں مجبور کیا۔ مگر فلسفہ ہمیں ایک زیادہ بے رحم سوال کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے:اگر ہم ہر انتخاب کی ذمہ داری کسی دوسرے پر
ڈال دیں تو پھر ہماری آزادی کہاں ہے؟آزادی کا سب سے مشکل پہلو یہی ہے کہ وہ انسان کو اس کے اپنے فیصلوں کے سامنے تنہا کر دیتی
ہے۔غلام کو مالک کی ضرورت ہوتی ہے؛ آزاد انسان کو اپنے ضمیر کی۔اور ضمیر ایک نہایت سخت مالک ہے۔پاکستانی انسان کی نفسیات کو بھی
اسی آئینے میں دیکھنا چاہیے۔ ہماری تاریخ میں جمہوریت آئی، فوجی حکومتیں آئیں، سیاسی حکومتیں آئیں، آئین بنے، آئین ٹوٹے، ادارے
مضبوط ہوئے، کمزور ہوئے، اقتدار کے مراکز بدلتے رہے، مگر ایک بنیادی مسئلہ اپنی جگہ موجود رہا: ہم نے شہری آزادی کو اکثر صرف اقتدار
کی تبدیلی سمجھا، ذہنی آزادی نہیں۔ہم نے حکمران بدلنے کی کوشش بہت کی، مگر حاکمیت کی نفسیات بدلنے کی کوشش کم کی۔ہم کبھی کسی طاقتور
شخصیت سے نجات چاہتے ہیں اور اگلے ہی لمحے کسی دوسری طاقتور شخصیت کے سامنے اپنی عقل رکھ دیتے ہیں۔ ہم آمریت کی مذمت کرتے
ہیں مگر اپنے چھوٹے چھوٹے دائروں میں آمریت پسند رویے پیدا کرتے ہیں۔ ہم آزادیِ اظہار کا مطالبہ کرتے ہیں، لیکن جب کوئی ہماری
رائے سے اختلاف کرے تو اسے دشمن، غدار یا جاہل قرار دینے میں دیر نہیں لگاتے۔یہ آزادی کا خوف ہے۔پاکستانی معاشرے میں سیاسی
وابستگی اکثر عقیدت کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ لیڈر انسان نہیں رہتا، علامت بن جاتا ہے؛ جماعت سیاسی تنظیم نہیں رہتی، شناخت بن جاتی
ہے؛ نظریہ دلیل نہیں رہتا، ایمان بن جاتا ہے۔ پھر سوال پوچھنا بغاوت محسوس ہوتا ہے۔یہی وہ لمحہ ہے جب انسان اپنی آزادی کسی
دوسرے کے ہاتھ میں دے دیتا ہے اور اسے وفاداری کا نام دے دیتا ہے۔ہماری تاریخ میں طاقتور ریاستی ڈھانچوں، غیر جمہوری
مداخلتوں، سیاسی موروثیت، جاگیردارانہ اثرات، کمزور اداروں اور معاشی نابرابری نے شہری کو بارہا اس مقام پر پہنچایا جہاں وہ ریاست یا
طاقتور شخصیت کو اپنا محافظ سمجھنے لگا۔ غربت اور بے یقینی بھی انسان کو آزادی سے زیادہ تحفظ کا محتاج بنا دیتی ہے۔بھوک سے دوچار انسان کے
لیے فلسفہ مشکل ہو جاتا ہے۔ جس کے پاس روزگار نہیں، وہ شاید آزادی کی پیچیدگی سے زیادہ روٹی کی ضمانت چاہتا ہے۔ جس معاشرے
میں انصاف مہنگا اور طاقت سستی ہو جائے، وہاں شہری آہستہ آہستہ قانون پر نہیں، تعلق پر یقین کرنا شروع کر دیتا ہے۔اور پھر ایک خطرناک
معاشرہ پیدا ہوتا ہے:جہاں انسان حق نہیں مانگتا، اپنا حصہ مانگتا ہے؛انصاف نہیں مانگتا، اپنے لیے رعایت مانگتا ہے؛آزادی نہیں مانگتا،
اپنے لیے طاقت مانگتا ہے۔یہیں پاکستانی انسان کا المیہ انسانی تاریخ کے بڑے المیے سے جڑ جاتا ہے۔اصل آزادی صرف یہ نہیں کہ
حکومت ہمیں بولنے دے۔ اصل آزادی یہ ہے کہ ہمارے اندر اتنی اخلاقی قوت بھی ہو کہ ہم دوسروں کو بولنے دیں۔اصل آزادی یہ نہیں کہ
ہمیں اپنی شناخت عزیز ہو؛ اصل آزادی یہ ہے کہ ہم دوسرے کی شناخت کو بھی انسانی حق سمجھیں۔اصل آزادی یہ نہیں کہ ہم اپنے مخالف کو
خاموش کرا دیں؛ اصل آزادی یہ ہے کہ ہم اختلاف سن کر بھی اپنے اندر انسان باقی رکھیں۔اسی لیے آزادی صرف سیاسی مسئلہ نہیں، ایک
اخلاقی اور نفسیاتی انقلاب ہے۔ایک غلام ذہن آزاد ملک میں بھی غلام رہ سکتا ہے، اور ایک آزاد ذہن جیل کی دیواروں کے اندر بھی آزادی
کی حفاظت کر سکتا ہے۔
دنیا کی تاریخ میں گلیلیو، سقراط، اسپینوزا، روسو، وکٹر ہیوگو، منڈیلا اور بے شمار دوسرے انسان ہمیں بتاتے ہیں کہ آزادی پہلے ذہن میں پیدا
ہوتی ہے، پھر معاشرے میں۔ جیلیں جسم کو قید کر سکتی ہیں، مگر خیال کو نہیں۔۔جب تک انسان خود اپنے خیال کا دروازہ بند نہ کر دے۔اور
شاید سب سے خوفناک جیل وہی ہے جس کی چابی خود قیدی کے ہاتھ میں ہو مگر وہ دروازہ کھولنے سے ڈرتا رہے۔ آج ہمیں خود سے یہ سوال
پوچھنا چاہیے:کیا ہم واقعی آزادی چاہتے ہیں؟ اگر آزادی کا مطلب صرف اپنی پسند کے حکمران کی حکومت ہے، تو یہ آزادی نہیں۔اگر
آزادی کا مطلب صرف اپنے مخالف کو خاموش کرانا ہے، تو یہ آزادی نہیں۔اگر آزادی کا مطلب صرف اپنے گروہ، اپنی زبان، اپنی
جماعت، اپنے نظریے اور اپنی شناخت کے لیے جگہ مانگنا ہے مگر دوسرے انسان کے لیے وہی حق تسلیم نہیں کرنا، تو یہ آزادی نہیں۔آزادی
تب شروع ہوتی ہے جب انسان اپنے اندر کے آمر کو پہچان لیتا ہے۔جب وہ اپنے تعصب پر سوال کرتا ہے۔جب وہ اپنے محبوب نظریے کو
بھی تنقید کی اجازت دیتا ہے۔جب وہ اپنے لیڈر سے اختلاف کرنے کے باوجود انسان رہتا ہے۔جب وہ طاقت کے سامنے جھکنے کے
بجائے اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔فروم کا Fear of Freedom اسی لیے آج بھی زندہ کتاب ہے۔ کیونکہ دنیا نے بادشاہ
بدل لیے، حکومتیں بدل لیں، نظام بدل لیے، مگر انسان کے اندر موجود خوف ابھی تک زندہ ہے۔
انسان اب بھی طاقتور مالک تلاش کرتا ہے۔اب بھی ہجوم میں اپنی شناخت کھوتا ہے۔اب بھی سوال سے ڈرتا ہے۔اب بھی تنہائی سے
گھبراتا ہے۔اب بھی اپنی ذمہ داری کسی دوسرے کے کندھے پر رکھ کر سکون تلاش کرتا ہے۔اور شاید انسانی تاریخ کا سب سے بڑا المیہ یہی
ہے کہ انسان نے غلامی کی زنجیریں توڑنا تو سیکھ لیا، مگر آزادی کی ذمہ داری اٹھانا ابھی پوری طرح نہیں سیکھا۔پاکستانی معاشرے کے لیے
بھی اصل سوال یہی ہے۔ہمیں صرف آزاد ریاست نہیں چاہیے؛ ہمیں آزاد انسان چاہیے۔ایسا انسان جو بھوک کے باوجود اپنی عزت نہ
بیچے، طاقت کے باوجود انصاف نہ بھولے، اختلاف کے باوجود نفرت نہ کرے، اور خوف کے باوجود سچ بولنے کی ہمت رکھے۔کیونکہ
ریاستیں صرف آئین سے آزاد نہیں ہوتیں، معاشرے صرف انتخابات سے آزاد نہیں ہوتے۔آزادی اس دن پیدا ہوتی ہے جب انسان
اپنے اندر بیٹھے ہوئے خوف سے کہتا ہے: اب میں تمہارا غلام نہیں۔اور شاید اسی لمحے انسان پہلی مرتبہ واقعی انسان بنتا ہے۔
٭٭٭


