خیبر پختونخوا سینیٹ ٹکٹوں کی تقسیم پرپی ٹی آئی کارکنان کا حتجاج
شیئر کریں
قیادت پر منظور نظر افراد کو نوازنے کا الزام، سرمایہ کاروں کو ٹکٹ دے کر مخلص عرفان سلیم کو نظر انداز کیا
بند کمروں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کریں گے اور قیادت بھی ہم پر ایسے فیصلے مسلط نہ کرے، کارکنان
خیبر پختونخوا میں سینیٹ الیکشن اور ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد تحریک انصاف کے کارکنان نے قیادت پر مخلص افراد کو نظر انداز کرنے اور منظور نظر لوگوں کو نوازنے کا الزام عائد کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پی ٹی آئی پشاور کے کارکنان نے سینیٹ ٹکٹ کیلئے مقامی رہنما عرفان سلیم کو نظر اندا کرنے پر قیادت کے خلاف اور اُن کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔کارکنان نے کہا کہ علیمہ خان اور بیرسٹر سیف کے بیانات میں واضح تضاد ہے۔کارکنان نے کہا کہ سوچی سمجھی سازش کے تحت سینیٹ انتخابات سے عرفان سلیم کو باہر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ حقیقی کارکنوں کو نظر انداز کر کے سرمایہ داروں کو ٹکٹ دینے کا کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ جبکہ عرفان سلیم کی پارٹی کے لیے قربانیوں کا اعتراف صحافیوں اور کارکنوں نے بھی کیا ہے۔کارکنان نے واضح کیا کہ وہ بند کمروں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کریں گے اور قیادت بھی ہم پر ایسے فیصلے مسلط نہ کرے۔ عمران خان کے وفادار اور مخلص ساتھی عرفان سلیم کو سینیٹ الیکشن میں نظر انداز کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں ہے کیونکہ ان کے نام کی منظوری خود عمران خان نے دی تھی۔کارکنان نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کے بعد علیمہ خان نے واضح کیا کہ چیٔرمین کی ہدایت ہے کہ قیادت مشاورت سے امیدوار فائنل کرے، رات گئے عمران خان کے ایکس اکاؤنٹ سے علیمہ خان کے بیان کی توثیق بھی کر دی گئی ہے۔احتجاجی کارکنان نے کہا کہ بیرسٹر سیف نے جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد "خاص شخصیات” کے ناموں کی منظوری کا دعویٰ کیا۔


