میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پی ای سی ایچ ایس، خفیہ کمرشلائزیشن کا جال، سندھ بلڈنگ قوانین بے اثر

پی ای سی ایچ ایس، خفیہ کمرشلائزیشن کا جال، سندھ بلڈنگ قوانین بے اثر

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۷ اپریل ۲۰۲۶

شیئر کریں

آصف شیخ کے سسٹم تلے امتیاز شیخ ، اورنگزیب کی سرپرستی، غیر قانونی تعمیرات کی کھلی چھٹی
بلاک 2 پلاٹ نمبر اے 231اور جی 131پر رہائشی نقشوں کی آڑ میں کمرشل یونٹس تعمیر

شہر قائد کے پوش رہائشی علاقے پی ای سی ایچ ایس میں غیر قانونی تعمیرات اور خفیہ کمرشلائزیشن کا ایک منظم نیٹ ورک سرگرم ہو چکا ہے ، جہاں مبینہ طور پر بااثر بلڈرز اور تعمیراتی مافیا سرکاری ضوابط کو نظر انداز کرتے ہوئے رہائشی پلاٹوں کو کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے اندر آصف شیخ کے رائج کردہ مبینہ سسٹم کے تحت اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز شیخ اور بلڈنگ انسپکٹر اورنگزیب علی خان کی سرپرستی میں یہ غیر قانونی سرگرمیاں بلا خوف و خطر جاری ہیں، جس کے باعث ادارہ جاتی کارروائیاں مکمل طور پر غیر مؤثر دکھائی دیتی ہیں۔معتبر اطلاعات کے مطابق مخصوص طریقہ کار کے تحت پہلے رہائشی نقشوں کی منظوری حاصل کی جاتی ہے ، تاہم تعمیر مکمل ہونے کے بعد عمارتوں کو خفیہ طور پر کمرشل یونٹس میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔ اس منظم دھوکہ دہی سے نہ صرف شہری قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں بلکہ علاقے کا بنیادی ڈھانچہ بھی شدید دباؤ کا شکار ہے ۔ ٹریفک کا نظام بدترین صورتحال اختیار کر چکا ہے ، پارکنگ کا بحران روز بروز بڑھ رہا ہے جبکہ سیکیورٹی خدشات نے علاقہ مکینوں کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے ۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ بلاک 2 میں واقع پلاٹ نمبر اے 231 اور جی 131 پر جاری خلاف ضابطہ تعمیرات کے خلاف ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی مزمل حسین ہالیپوٹو کو متعدد بار تحریری شکایات ارسال کی جا چکی ہیں، تاہم تاحال کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ شہریوں کے مطابق متعلقہ افسران کی مبینہ چشم پوشی اس غیر قانونی سلسلے کو مزید تقویت دے رہی ہے ۔متاثرین نے وزیر بلدیات سندھ اور اعلیٰ حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس منظم مافیا کے خلاف بلا امتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے ، ملوث افسران کے خلاف شفاف تحقیقات کی جائیں اور رہائشی علاقوں کو ان کے اصل مقصد کے مطابق بحال کیا جائے ، تاکہ شہریوں کو درپیش مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں