عدالت کے ساتھ چھپن چھپائی برداشت نہیں،چیف جسٹس
شیئر کریں
جسٹس یحییٰ خان فریدی کا3 سال تک پیش نہ ہونیوالے ملزم کو سرینڈر کا حکم
قتل کیس میںعمر قید کی سزاکیخلاف درخواست ناقابل سماعت قرار،خارج کردی
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ خان فریدی نے کہا ہے کہ3سال تک عدالت کے ساتھ کھیل نہیں سکتے۔ عدالت کے ساتھ 3سال سے چھپن چھپائی کھیل رہے ہیں، جائیں سرینڈر کریں اور اپنا بیان ریکارڈ کروائیں، عدالت کے ساتھ ایسا نہ کریں۔ خاندانی معاملات میں ماتحت عدالتوں نے حقائق کاتعین کیاہوتا ہے ہم کیوں مداخلت کریں، اگر فیملی کورٹ نے کوئی فیصلہ دیا ہے توایپلٹ کورٹ کے پاس فیصلہ کالعدم قراردینے کاختیارہے۔ جب خاتون خلع نہ مانگے تو پھر عدالت خود سے خلع کی بنیاد پر شادی ختم نہیں کرسکتی۔ جبکہ بینچ نے شاہنواز کی جانب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے ریڈر کو فون کر کے جج اور اُن کے اہلخانہ کو قتل کرنے کی دھمکی دینے پر ٹیلی گراف ایکٹ 1885کی دفعہ 25-Dکے تحت درج مقدمہ میں دائر درخواست ضمانت قبل ازگرفتاری پر فریقین کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا۔ جبکہ بینچ نے اپنے سسر کوقتل کرنے والے ملزم شاہد خان کی جانب سے عمر قید کی سزاکے خلاف دائر درخواست ناقابل سماعت قراردیتے ہوئے خارج کردی۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں جسٹس شکیل احمد پرمشتمل2رکنی بینچ نے منگل کے روز سپلیمٹر ی اور فائنل کاز لسٹ میں شامل کل 21کیسز کی سماعت کی ۔بینچ نے نان ونفقہ کے معاملہ پر طالب رضاخان کی جانب سے مسمات تعبیرہ رباب المعروف شیریں خان اوردیگر کے خلاف دائر درخواست پرسماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے سلمان حیدربطور وکیل پیش ہوئے۔


