میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
انصاف طاقت ور کی مرضی مگر سیاسی وفاداری؟

انصاف طاقت ور کی مرضی مگر سیاسی وفاداری؟

جرات ڈیسک
پیر, ۱۴ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پاکستان میں نئے عدالتی سال کا آغاز ہے ۔ مگر کیا کبھی انصاف کا سال بھی شروع ہوگا؟

عدالت دراصل اس یقین کا نام ہے کہ طاقتور اور کمزور، حکومت اور شہری، اکثریت اور اقلیت، حاکم اور محکوم سب قانون کے سامنے برابر ہیں۔ کیا واقعی ہیں؟ اگر کسی ملک میں یہ یقین ختم ہوجائے تو عدالتیں اپنی عمارتوں سمیت قائم رہ سکتی ہیں، مگر انصاف کا ادارہ اندر سے کھوکھلا ہوجاتا ہے۔ ہمارا المیہ شاید یہی ہے۔ یہاں قانون موجود ہے، عدالتیں موجود ہیں، آئین موجود ہے، جج موجود ہیں، وکیل موجود ہیں، مقدمات موجود ہیں۔ بس سوال یہ ہے کہ فیصلہ کس کا چلتا ہے ؟

تحریک انصاف عدالتوں میں دربدر ہے، ان کے لیے انصاف کی آواز اُٹھانا گویا دیواروں سے سر ٹکرانا ہے۔ سماج کے لاشعور نے ان پر روا ظلم کو مباح بنا لیا ہے۔ آج تحریک انصاف کے ساتھ جو کچھ عدالتوں میں ہورہا ہے، اسے صرف تحریک انصاف کی حمایت یا مخالفت کے چشمے سے دیکھنا خطرناک ہوگا۔ اصل سوال سیاسی جماعت سے بڑا ہے۔ اگر آج تحریک انصاف کے لیے انصاف کا دروازہ تنگ ہے تو کل یہی دروازہ کسی اور سیاسی جماعت کے لیے تنگ ہوسکتا ہے۔ ریاست اگر عدالت کو سیاسی مخالف کو قابو کرنے کا ذریعہ بنا دے تو سب سے پہلے عدالت کمزور ہوتی ہے، پھر قانون کمزور ہوتا ہے اور آخرکار شہری کا اعتماد مر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سہیل آفریدی کے گرد اس وقت جو قانونی دائرہ بنتا دکھائی دے رہا ہے، اسے الگ الگ مقدمات کی فہرست سمجھنا کافی نہیں۔ ایک طرف شیر افضل مروت کی آئینی درخواست ہے، جس میں سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ کی قانونی حیثیت چیلنج کی گئی ہے۔ دوسری طرف عمران خان کے لیے ‘‘رہائی فورس’’ کے قیام سے متعلق سہیل آفریدی کا بیان قانونی سوال بن چکا ہے۔ تیسری طرف 9؍مئی کے مقدمات ہیں، جہاں خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے کارروائی آگے بڑھانے یا مقدمات ختم کرنے کے معاملے پر عدالت کی مداخلت سامنے آئی ہے۔ تین مقدمات۔ تین قانونی راستے۔ اور ایک وزیراعلیٰ۔ اب سوال یہ نہیں کہ ہر مقدمہ اپنی جگہ قانونی ہے یا نہیں۔ سوال یہ ہے، یہ تینوں راستے عین اس وقت کیوں کھل رہے ہیں جب سہیل آفریدی 27؍ستمبر کے لانگ مارچ کی تیاریوں میں مرکزی کردار ادا کررہے ہیں؟ یہ سوئے اتفاق ہے یا حسن انتظام؟

سیاست میں بعض اوقات اتفاقات کی تعداد بھی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ سوال پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ آئینی شکنجہ ہے یا محض قانونی عمل؟ شیر افضل مروت کی درخواست پر ہی غور کرلیجیے۔ اگر سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ اس لیے متنازع ہے کہ انہیں عمران خان کی ہدایت پر نامزد کیا گیا تھا تو پھر سوال یہ ہے کہ عمران خان کی سیاسی ہدایت کی آئینی حیثیت صرف سہیل آفریدی کے معاملے میں کیوں تبدیل ہوگئی؟ شیر افضل مروت خود قومی اسمبلی تک کس سیاسی قوت کے ذریعے پہنچے؟ علی امین گنڈا پور وزیراعلیٰ کیسے بنے؟ کیا عمران خان کی سیاسی حمایت، پارٹی فیصلے اور نامزدگی کا ان دونوں معاملات میں کوئی کردار نہیں تھا؟ اگر کسی سیاسی رہنما کی ہدایت محض اس لیے غیر مؤثر ہوجاتی ہے کہ وہ سزا یافتہ ہے، تو پھر اس اصول کا اطلاق ماضی کی ان تمام سیاسی نامزدگیوں پر بھی کیوں نہیں جن میں اسی سیاسی رہنما کی رائے بنیادی حیثیت رکھتی تھی۔ پھر نواز شریف بھی سزا یافتہ ہو کر تمام ریاستی امور میں دخیل رہ چکے ہیں، کیوں؟ کیا نہیں؟ جب عدالتیں مخصوص اشاروں پر حرکت کا تاثر پیدا کرلے تو پھر قانون اصول کے بجائے چنیدہ اصول بن جاتا ہے جسے انصاف نہیں طاقت کی حرکیات میں ریاست کی نفسیات سمجھا جانے لگتا ہے۔

یہ سب کچھ کسی خلا میں نہیں ہو رہا۔ پہلے 26 ویں اور 27 ویں ترمیم نے عدالت کے نین نقش نکالے۔ پاکستان کے عدالتی چہرے کے خد و خال کو بدلا۔ 26 ویں ترمیم نے ججز کی تقرری کے نظام، چیف جسٹس کے انتخاب اور سپریم کورٹ کے آئینی اختیار میں نمایاں تبدیلیاں کیں۔ 27 ویں ترمیم نے اس کے بعد وفاقی آئینی عدالت قائم کردی اور آئینی مقدمات کے ایک بڑے حصے کو سپریم کورٹ سے الگ فورم میں منتقل کردیا۔ اب معاملہ یہاں تک پہنچ گیا ہے کہ عدالتی آزادی کا مسئلہ اس پر بھی انحصار نہیں کر رہا کہ جج اچھا ہے یا بُرا؟ ادارہ جاتی ڈھانچے نے امید کے خلاف بھی کسی امید کو باقی نہیں رہنے دیا۔ اب تو انصاف کے مردے کو عدالت سے اُٹھانے کے لیے بھی یہ سوال پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ مردہ اُٹھانے کے لیے کسی اگلی ترمیم کا انتظار ہے؟ اب کیلنڈر دیکھ لیجیے! آج 14؍ستمبرکو سہیل آفریدی کی وزارتِ اعلیٰ کے خلاف درخواست نے آئینی عدالت میں جھرجھری لی ہے۔ دو روز بعد 16؍ستمبر کوسپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہین عدالت کی ایک درخواست زیر سماعت ہے، حکومت نے سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود عمران خان کو شفا انٹر نیشنل اسپتال منتقل نہیں کیا تھا۔ اور 27؍ستمبرکو تحریک انصاف کا لانگ مارچ۔ تین تاریخیں۔ تین عدالتی و سیاسی محاذ۔ اور درمیان میں ایک وزیراعلیٰ جو بیک وقت حکومت بھی چلانا چاہتا ہے، عمران خان سے وفاداری بھی دکھانا چاہتا ہے اور اپنی جماعت کا احتجاج بھی منظم کرنا چاہتا ہے۔ یہاں 27 ویں ترمیم کے بعد آرٹیکل 189 بھی اہم ہوجاتا ہے ۔ موجودہ آئینی بندوبست میں وفاقی آئینی عدالت کے وہ فیصلے جو قانون کا سوال طے کریں یا اصولِ قانون بیان کریں، سپریم کورٹ سمیت دوسری عدالتوں کو اپنا پابند بنالیں گے۔ گویا آج ہی سپریم کورٹ کے 16؍ستمبر کی تاریخ کا مقام بھی طے ہو سکتا ہے۔ اگرچہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی ایک اہم رائے میں سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کو ہم مرتبہ عدالتیں قرار دے چکے ہیں۔ یعنی دونوں کی آئینی حدود الگ الگ ہیں، نہ کہ ایک لازماً دوسری کی ماتحت۔ اب معاملہ یا تو بہت ہی سادہ ہے یا بہت زیادہ پیچیدہ۔ یعنی 14 ستمبر کا کوئی بھی فیصلہ خودبخود 16ستمبر کی سپریم کورٹ کی کارروائی روک دے گا یا نہیں روک پائے گا۔ دونوں صورتوں میں تنازعات اور تضادات دونوں ہی جنم لیں گے۔ ایک طرف آرٹیکل 189کا پابند بنانے کا اثر۔ دوسری طرف دو اعلیٰ عدالتوں کے درمیان اختیار کی نئی حد بندی۔ اور درمیان میں وہ مقدمات جن کا تعلق براہِ راست عمران خان، تحریک انصاف اور سہیل آفریدی سے ہے۔ کیا پھر پس پردہ اڈیالہ جیل میں ملاقاتوں کی خبریں واقعی خبریں ہیں، اگر ان عدالتوں میں کچھ اور نہیں ہو رہا تو پھر اسے خبریں نہیں، افواہیں ہی کہا جائے گا۔

اب سہیل آفریدی کے پاس بظاہر دو راستے ہیں۔ پہلا راستہ وزارتِ اعلیٰ بچانے کا ہے۔ وہ طاقتور حلقوں کو ناراض نہ کریں، احتجاج کو محدود رکھیں، ریاستی اداروں کے ساتھ تصادم سے بچیں اور 27 ستمبر کو ایک ایسا احتجاج ہونے دیں جس سے کسی کو حقیقی خطرہ محسوس نہ ہو۔ علی امین گنڈا پور کچھ عرصہ تک یہی کرتے ہوئے اپنی کرسی بچاتے رہے، مگر پھر انہیں اپنے انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ سہیل آفریدی کے پاس دوسرا راستہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے کا ہے۔ وہ پارٹی کے احتجاج کو پوری سیاسی آزادی کے ساتھ آگے بڑھائیں، کارکنوں کو متحرک کریں، 27؍ستمبر کو ایک حقیقی سیاسی اجتماع بننے دیں اور یہ ثابت کریں کہ ان کی وزارتِ اعلیٰ کا سرچشمہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ عمران خان کا سیاسی اعتماد بھی تھا۔ اس راستے میں سیاسی قد بڑھ جائے گا۔ مگر کرسی خطرے میں آسکتی ہے۔ ایک طرف کرسی ہے، دوسری طرف وفاداری۔ اور پاکستان کی طاقت پر مبنی سیاست میں اس سے مشکل انتخاب شاید کوئی نہیں۔ یہ تو واضح ہے کہ یہاں انصاف، طاقت ور کی مرضی کا نام ہے۔ مگر وفاداری کس کا نام ہے، یہ سہیل آفریدی کے انتخاب سے واضح ہوگا۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں