میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارتی دلتوں کو مشکلات کا سامنا

بھارتی دلتوں کو مشکلات کا سامنا

جرات ڈیسک
پیر, ۱۴ ستمبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

عالمی جریدے یو سی اے نیوز کی بھارت میں ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک اور دلت برادری کو درپیش مسائل سے متعلق جار ی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دلت برادری کو آج بھی مساوی حقوق اور مواقع کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، جسے بھارت میں ذات پات پر مبنی امتیازی سلوک کی موجودگی کا ثبوت قرار دیا گیا ہے۔ بھارتی آئین میں مساوات کی ضمانت کے باوجود زمینی صورتِ حال مختلف دکھائی دیتی ہے۔رپورٹ میں اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ 2022 میں دلتوں کے خلاف تشدد کے 57 ہزار 500 سے زائد مقدمات درج کیے گئے، جن میں سب سے زیادہ 15 ہزار سے زائد کیسز اتر پردیش میں رپورٹ ہوئے۔ بھارت میں اونچی ذات سے تعلق رکھنے والی خواتین کے خلاف جرائم پر فوری ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے، تاہم دلت برادری کے خلاف مبینہ مظالم کے معاملات میں انصاف کی فراہمی پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔دوسری جانب کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سے وابستہ بعض عناصر کھلے عام دلتوں کے خلاف امتیازی سوچ کو فروغ دے رہے ہیں۔چوں کہ دلت ہندومت کے چار ورنوں پر مشتمل نظام سے خارج ہیں اور انھیں ”اوارن” کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس لیے ان کا یہاں الگ سے جائزہ لیا گیا ہے۔ دلت (جس کا مطلب ہے ٹوٹا ہوا، سنسکرت میں بکھرا ہوا) ان لوگوں کا نام ہے جو بھارت میں سب سے نچلی جاتی (پیشہ ورانہ ذات) سے تعلق رکھتے تھے۔ انھیں ”اچھوت” کہا جاتا ہے کیوں کہ انھیں مذہبی طور پر ناپاک سمجھا جاتا ہے، اور دلتوں کے ساتھ جسمانی لمس یا سماجی میل جول ایک ہندو شخص کی ذات کی پاکیزگی کو آلودہ کرتا ہے۔ دلتوں کے لیے ایک اور اصطلاح، جسے مہاتما گاندھی نے وضع کیا اور اسے فروغ دیا، ہریجن ہے۔ ہری ہندو دیوتا کرشن کا دوسرا نام ہے اور اس طرح گاندھی دلتوں کو کرشنا کے عقیدت مندوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

ماہر اقتصادیات، سیاست دان اور سماجی مصلح بی آر امبیدکر (1891-1956)، جو خود ایک دلت پس منظر رکھتے تھے، اور عام طور پر بابا صاحب کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے کہا تھا کہ اچھوت ہونے کا تصور ہندوستانی سماج میں 400 عیسوی کے آس پاس آیا، اور اس کی وجہ بدھ مت اور برہمنوں کی زبردست طاقت (جسے برہمنیت کہتے ہیں) کے درمیان بالا دستی کی جدوجہد تھی۔ امبیدکر، جنھوں نے ہندوستان کے پہلے وزیر قانون و انصاف کے طور پر خدمات انجام دیں اور ہندوستان کے آئین کے معمارِ اعلیٰ مانے جاتے ہیں، نے اپنی موت سے عین قبل دلتوں کے بڑے پیمانے پر بدھ مت میں منتقلی کی قیادت کی۔

بھارت 20 کروڑ سے زیادہ دلتوں کا گھر ہے، دلت برادری نہ صرف کسی بھی ہندو ورن سے بلکہ بھارت میں مسلم کمیونٹی سے بھی بڑی ہے۔ وہ پورے بھارت میں رہتے ہیں، عام طور پر دیہات اور قصبات کے مضافات میں الگ الگ محلوں کی صورت میں۔ بھارت کی 2011 کی مردم شماری کے مطابق دلت برادریاں ملک کی آبادی کا 16.6 فی صد پر مشتمل ہیں۔اتر پردیش (21 فی صد)، مغربی بنگال (11 فی صد)، بہار (8 فی صد) اور تامل ناڈو (7 فی صد) ملک کی کْل دلت آبادی کا تقریباً نصف ہیں۔ ان کی شرح شمال مشرقی بھارت میں سب سے کم ہے کیوں کہ وہاں کی مقامی آبادی ہندو نہیں ہے، اور وہ ذات پات کے نظام کی پیروی نہیں کرتے۔ بنگالی تارکین وطن نے دلتوں کی قلیل تعداد کو اپنی سوسائٹی میں متعارف کرایا ہے۔ اسی طرح کے گروہ بقیہ برصغیر پاک و ہند میں بھی پائے جاتے ہیں؛ پاکستان کی 2 فی صد سے بھی کم آبادی ہندو ہے، جن میں 70-75 فی صد دلت ہیں۔ بنگلا دیش میں 2010 میں 50 لاکھ دلت تھے، جن میں اکثریت بے زمین اور دائمی غربت میں تھی۔دلت اپنے پیشے کے لحاظ سے اپنے اندر بھی مختلف جاتیوں میں بہت زیادہ تقسیم ہیں۔ دلتوں کے مختلف گروہوں کے درمیان سماجی تفریق بھی بہت ہے، کچھ اپنے آپ کو سماجی طور پر دوسروں سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ بھارت میں دلت صفائی ستھرائی کے کارکنوں کے طور پر کام کرتے رہتے ہیں: خاک روب (بھنگی)، نالیوں کی صفائی کرنے والے، کوڑا اٹھانے والے، اور سڑکوں کی صفائی کرنے والے۔ دیگر پیشوں میں لیدر ورکر، ٹینرز (چمڑا رنگنے والے)، چمڑا اتارنے والے، موچی، زرعی مزدور اور ڈھول پیٹنے والے شامل ہیں۔

برہمنوں نے اپنی حکمرانی کو سہارا دینے اور اسے دوام بخشنے کے لیے پاکیزگی اور نجاست کے تصور کا استعمال کیا۔ اس عمل میں، مقامی غیر آریائی آبادی (اکثر سیاہ جلد والے قبائلی لوگ) کو ورن نظام میں شامل نہیں کیا گیا اور صدیوں کے دوران وہ اچھوت بن گئے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ورن ہندوؤں کو ان سے جسمانی طور پر رابطہ کرنے، ان کا تیار کردہ کھانا لینے، اور ان سے پانی لینے کی اجازت نہیں تھی۔ یہ خیال کہ چمڑے کے جوتے نجس ہوتے ہیں (خواہ ان پر کیچڑ نہ بھی ہو) اس تصور سے آیا کہ چمڑا، یعنی گائے کی کھال اور جس نے جوتے بنائے ہیں وہ بھی نجس ہیں۔ چناں چہ بے عزتی یا نفرت کے اظہار کے لیے ایک دوسرے پر جوتے پھینکنے کا تعلق ہندو مت کے اسی باب سے ہے۔

انسانوں میں عدم مساوات کی طرح چھوت چھات کی سماجی حقیقت اور اس کے تصور پر سب سے پہلے بدھ مت اور جین مت دونوں نے تنقید کی۔ اسلام اور عیسائیت جیسے ابراہیمی مذاہب بھی اصولی طور پر انسانوں کی عدم مساوات کو مسترد کرتے ہیں لیکن برصغیر میں یہ تصور ہندوؤں کے اثر سے بگڑ چکا ہے۔ جب انگریز ہندوستان آئے تو انھوں نے اچھوت پرستی، ستی (بیوہ کو جلانے)، بچوں کی شادی اور دیگر سماجی رسومات پر تنقید شروع کر دی۔اس سے ہندوؤں میں ‘خود تنقیدی’ نگاہ پیدا ہوئی، اور ہندو اصلاحی تحریکوں نے جنم لیا، جیسا کہ برہمو سماج اور انیسویں صدی میں بنگالی نشاۃ ثانیہ کے بانئین، جنھوں نے ذات پات کے نظام کو مسترد کر دیا، لیکن جب بات ان کی اپنی بیٹیوں کی شادی کی آتی تو انھیں اسے قبول کرنا پڑتا۔ اس لیے سماجی اصلاح کی تحریکیں کامیاب نہ ہو سکیں۔آزاد بھارت میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز ممنوع ہے اور چھوت چھات کو بھارتی آئین نے ختم کر دیا ہے۔ اس کے فوراً بعد بھارت نے دلتوں کی صلاحیت بڑھانے کے لیے بھی ریزرویشن سسٹم متعارف کرایا، تاکہ وہ سیاسی نمایندگی، سرکاری ملازمتیں اور تعلیم حاصل کر سکیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں