پی ٹی آئی کی آر یا پار اسٹریٹ موومنٹ کیلئے فائنل کال
شیئر کریں
اب وقت آ گیا ہے جب کارکنان باہر نکلیں گے تو مطالبات کی منظوری تک واپس گھروں کو نہیں جائیں گے، ہمیں ہر حال میں عمران خان کیلئے باہر نکلنا ہوگا،علیمہ خان
کارکنان اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو چلائیں گے،ایجنسیاں باتیں پھیلا رہی ہیں پی ٹی آئی میں گروپنگ ہو چکی،پارٹی متحد ہے،تیمرگرہ میں تنظیمی کنونشن سے خطاب
پاکستان تحریکِ انصاف کے بانی عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خانم نے پارٹی کارکنوں اور قیادت کو آر یا پار کی اسٹریٹ موومنٹ کے لیے فائنل کال دے دی،
انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے جب کارکنان باہر نکلیں گے تو مطالبات کی منظوری تک واپس گھروں کو نہیں جائیں گے۔ تیمر گرہ میں تنظیمی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب عام کارکنان اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو چلائیں گے کیوں کہ ارکانِ اسمبلی کو یہ خوف ہے کہ اگر وہ نکلے تو شاید عوام ان کا ساتھ نہ دے، اس لیے اب کارکنان خود اپنے نمائندوں کے پاس جائیں، انہیں نکلنے کی یقین دہانی کروائیں اور ان پر دباؤ بڑھائیں،
ایجنسیاں یہ باتیں پھیلا رہی ہیں کہ پی ٹی آئی میں گروپنگ ہو چکی، ہم اس کی سخت تردید کرتے ہیں، پارٹی متحد ہے اور سب لوگ نکلنے کی بھرپور تیاری کریں۔علیمہ خانم کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان انتظامی، معاشی اور عدالتی محاذ پر مکمل طور پر منہدم کر چکی ہے، ملک کے حالات سب کے سامنے ہیں،
اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے، اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو جا کر کہیں کہ آپ آگے بڑھیں، کارکنان آپ کی پشت پر کھڑے ہیں، ہمیں ہر حال میں عمران خان کے لیے باہر نکلنا ہوگا، عمران خان نے ایک سال پہلے ہی خیبر پختونخواہ میں پارٹی تنظیم کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی تھی اور سہیل آفریدی کو اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا ٹاسک دیا،
اب وہ وقت آ گیا ہے کہ تحریک کو پوری طاقت سے آگے بڑھایا جائے اور تنظیم کو فعال کیا جائے۔پارٹی کے اندر اور باہر جاری بات چیت کی افواہوں پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب ہم سنتے ہیں کہ بات چیت ہو رہی ہے، تو لگتا ہے کہ یہ لوگ بھیک مانگ رہے ہیں، کس چیز کی بات چیت؟
جب 80 فیصد پاکستان عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے تو پہلے سڑکوں پر اپنی عوامی طاقت دکھاؤ، پھر طاقت کی پوزیشن پر آ کر بات چیت کرنا، عمران خان نے کبھی نہیں کہا میرے لیے بھیک مانگو، انہوں نے ہمیشہ یہی کہا ہے کہ ‘میں جیل میں مر جاؤں گا لیکن یزید کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا’، تحریک کا اصل مقصد حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے اور ہمیں یہ دباؤ ہر صورت قائم کرنا ہوگا۔
علیمہ خانم نے بتایا کہ عمران خان کو گزشتہ 8 مہینوں سے قیدِ تنہائی میں رکھا ہوا ہے کیونکہ یہ حکمران عمران خان سے خوف کھاتے ہیں، یہ خوف اس لیے ہے کیونکہ عمران خان کروڑوں عوام کی حقیقی آواز بن چکے ہیں، اڈیالہ جیل کے چکر کاٹ کاٹ کر اب پنجاب کے لوگوں کے دلوں سے بھی خوف کا بت ٹوٹ چکا ہے اور وہ بھی اب کھڑے ہونے کو تیار ہیں، یہاں اتنی بڑی تعداد دیکھ کر دلی حوصلہ ملا ہے اور اب یہ جدوجہد مزید تیز ہو گی۔


