جماعت اسلامی کا گرینڈ کشمیر امن جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ
شیئر کریں
حکومت مذاکرات کا آغاز کرے، آزاد کشمیر میں مزید خون خرابہ نہیں دیکھ سکتے
گرینڈ جرگہ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت سے رابطہ کرے گا، حافظ نعیم الرحمٰن
…………….
مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان نے آزاد کشمیر کی صورتحال میں بہتری ، مذاکرات کے آغاز اور امن کے قیام کے لیے گرینڈ کشمیر امن جرگہ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی صدارت میں ہونے والے مرکزی شوری کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ گرینڈ جرگہ عوامی ایکشن کمیٹی اور حکومت سے رابطہ کرے گا۔
آزاد کشمیر مسائل کا حل اور ہر صورت امن کا قیام جرگہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے لائحہ عمل پر پیش رفت کے لیے نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں کمیٹی بھی قائم کی ہے۔
ڈاکٹر محمد مشتاق خان امیر جماعت اسلامی آزاد کشمیر اور سابق امراء آزاد کشمیر عبدالرشید ترابی اور ڈاکٹر خالد محمود کمیٹی کے ذمہ داران میں شامل ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ آزادکشمیر کے حالات کو معمول پر لانے کے لیے ہر صورت میں مذاکرات کا آغاز کرے۔
قبل ازیں امیر جماعت اسلامی کی صدارت میں منعقدہ مجلس شوریٰ اجلاس نے آزاد کشمیر کے حالات کا بغور جائزہ لیا اور خطہ میں جاری صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
ممبران شوری نے واضح کیا قضیہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا ، جماعت اسلامی کے کارکنان اور دیگر لاکھوں لوگوں نے کشمیر کے لیے خون بہایا ، آزاد کشمیر کی صورت حال سے مقبوضہ کشمیر کی تحریک آزادی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جا رہا ہے ایسے میں جماعت اسلامی خاموش نہیں بیٹھ سکتی۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا ہے کہ کشمیر ، پاکستان کی شہ رگ ہے ، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، ریاست ماں کا کرداد ادا کرے ، ناراض لوگوں کو گلے لگائے، بلوچستان ، کے پی کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور اب آزاد کشمیر کے حالات خراب بنا دئیے گے، پاکستان اپنے گھر میں ہی مزید دشمنیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے جماعت اسلامی کی جانب سے پہلے سے تشکیل شدہ کمیٹی کو مزید وسعت دینے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں آزاد کشمیر کے سابق سول بیوروکریٹس، ریٹائرڈ ججز ، عسکری شخصیات اور سول سوسائٹی کے افراد کو شامل کیا جائے گا اور کمیٹی جلد راولاکوٹ جا کر جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کرکے حالات کو معمول پر لانے کی بھرپور کوشش کرے گی۔
حافظ نعیم الرحمن نے مزید واضح کیا کہ اگرچہ بارہ سیٹوں کے مسئلہ پر مظاہرین کے چند اعتراضات کافی حد تک جائز ہیں تاہم یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ آزاد کشمیر اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر اور مہاجرین کی نمائندگی ہی نہ ہو، جماعت اسلامی اگرچہ مسئلہ پر ثالث کا کردار ادا کررہی ہے تاہم نمائندگی کے معاملہ پر کسی سمجھوتہ کی قائل نہیں۔
ان کا کہنا تھا بارہ سیٹوں کے مسئلہ پر بات چیت ضرور ہوگی اور اس کا کوئی قابل عمل حل بھی نکل آئے گا، حکمران جان لیں کہ کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہوتا، ضد اور انا کو ایک طرف کیجیے، جماعت اسلامی کا اس مسئلہ میں کوئی سیاسی مفاد نہیں ہے، ہم قضیہ کشمیر کے حل کے لیے سب کچھ کررہے ہیں، طرفین میں سے کسی کا بھی خون بہے یہ قابل افسوس و مذمت ہے۔انھوں آزاد کشمیر میں مزید خون خرابہ نہیں دیکھ سکتے ۔


