جیو نیوز کیس میں غفلت کے مرتکب ملازمین پر تاحیات پابندی، پیمرا کی انتظامیہ کو سخت ہدایت
شیئر کریں
جیو جن ملازمین کو فارغ کرے گا، وہ کسی دوسرے ادارے میں بھی نوکری نہیں کرسکیں گے،
یہ افراد پیمرا کی زیر نگرانی کسی لائسنس یافتہ، رجسٹرڈ یا مجاز سروس سے کسی حیثیت میں کبھی منسلک نہیں ہوسکیں گے، متن
پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے جیو نیوز کی ڈاکیومینٹری ‘سفرِ عشق’ کی 10 محرم الحرام کی نشریات میں متنازعہ مذہبی تصویری کشی کے کیس کا حتمی فیصلہ جاری کر دیا،
پیمرا اتھارٹی نے جیو نیوز پر 1 کروڑ روپے کا بھاری جرمانہ عائد کرتے ہوئے آج رات 12 بجے کے بعد نشریات بحال کرنے کی مشروط اجازت دے دی، فیصلے کے تحت غفلت کے مرتکب الیکٹرانک میڈیا کے ملازمین کے خلاف تاحیات پابندی کا سخت ترین فیصلہ بھی سامنے آیا۔
اطلاعات کے مطابق پیمرا اتھارٹی نے اپنے 191 ویں اجلاس میں اس حساس معاملے کا تفصیلی جائزہ لیا، اس فیصلے میں کونسل آف کمپلینٹس لاہور کی سفارشات، کارروائی کے مکمل ریکارڈ، لائسنس ہولڈر کے تحریری و زبانی مؤقف، پیمرا آرڈیننس 2002ء اور الیکٹرانک میڈیا کوڈ آف کنڈکٹ 2015ء کی تمام متعلقہ شقوں کو مدنظر رکھا گیا، کونسل نے 30 جون، 2 جولائی اور 10 جولائی 2026ء کو ہونے والے اپنے اجلاسوں میں اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے اور جیو نیوز کے نمائندوں کا مؤقف سننے کے بعد سفارشات اتھارٹی کو پیش کی تھیں۔
پیمرا اتھارٹی نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جیو نیوز کی جانب سے کی جانے والی خلاف ورزی انتہائی سنگین نوعیت کی ہے، جو ذمہ دارانہ نشریات کے تقاضوں اور پیمرا قوانین کے سراسر منافی ہے، اگرچہ پیمرا نے جیو نیوز کی جانب سے غفلت کے اعتراف، اظہارِ ندامت اور تمام میڈیا پلیٹ فارمز پر غیر مشروط معذرت کو تخفیفی عوامل قرار دیا،
تاہم واضح کیا کہ یہ معذرت خلاف ورزی کے قانونی نتائج کو ختم نہیں کرتی، 27 جون 2026ء کو جیو کا لائسنس 15 روز کے لیے معطل کرنے کا فیصلہ درست تھا، جو 11 جولائی رات 12 بجے تک برقرار رہے گا،
نشریات کی بحالی 1 کروڑ روپے جرمانے کی ادائیگی سے مشروط ہوگی۔پیمرا نے جیو نیوز انتظامیہ کو سخت ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ناکام رہنے والے اور اس غفلت کے مرتکب تمام متعلقہ ملازمین کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی مکمل کر کے انہیں فوری ملازمت سے برطرف کرے، اس کارروائی کے نتیجے میں نوکری سے فارغ کیے جانے والے افراد پیمرا کی زیرِ نگرانی کسی بھی لائسنس یافتہ، رجسٹرڈ یا مجاز سروس ٹی وی، ریڈیو یا دیگر پلیٹ فارمز سے براہِ راست یا بالواسطہ کسی بھی حیثیت میں دوبارہ کبھی بھی منسلک نہیں ہو سکیں گے۔
پیمرا نے جیو نیوز کو حتمی طور پر مطلع کیا ہے کہ اگر آئندہ ایسی کسی بھی قسم کی غفلت یا کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی برتی گئی تو ان کا نشریاتی لائسنس مستقل طور پر منسوخ کر دیا جائے گا، اس کے ساتھ ہی پیمرا نے جیو نیوز سمیت ملک کے تمام لائسنس یافتہ چینلز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایک غیر جانبدار اور باصلاحیت ان ہاؤس مانیٹرنگ کمیٹی یا ایڈیٹوریل بورڈ تشکیل دیں، جس کی تفصیلات پیمرا کو فراہم کی جائیں تاکہ ہر نشریاتی مواد کی پیشگی ادارتی جانچ کو یقینی بنایا جا سکے۔
پیمرا اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ تمام لائسنس یافتگان کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے ازخود نوٹس کیس نمبر 28 آف 2018 (PLD 2019 SC 1) کے تاریخی فیصلے پر سختی سے عملدرآمد کرنے کے لیے ایک علیحدہ جامع ہدایت نامہ جاری کیا جائے گا،
اتھارٹی نے تمام میڈیا ہاؤسز کو خبردار کیا ہے کہ آئندہ کسی بھی چینل کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی صورت میں قانون کے مطابق اس سے بھی زیادہ سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔


