قابض میئر ادارہ نور حق کی ملکیت کے حوالے سے جھوٹے الزامات ثابت کریں، ورنہ مستعفی ہو جائیں، سیف الدین ایڈوکیٹ
شیئر کریں
قابض میئر نے الزامات ثابت کردیئے تو وہ بطور اپوزیشن لیڈر مستعفی ہوجا ئیں گے ،مرتضیٰ وہاب کے الزامات پر شدید ردعمل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے قابض میئر کی جانب سے ادارہ نورحق کی ملکیت کے حوالے سے جھوٹے الزامات پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرتضیٰ وہاب اپنے الزامات ثابت کریں، نہیں تو مستعفی ہوجائیں، اگر انہوں نے الزامات ثابت کردیئے تو وہ بطور اپوزیشن لیڈر مستعفی ہوجا ئیں گے۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ سٹی کونسل اجلاس کے ایجنڈے میں اورنگی ٹاؤن، بلدیہ اور کلفٹن کی اربوں روپے مالیت کی زمینیں اور پلاٹ ٹھکائے لگا نے کی باریک کارروائی کی جارہی تھی،جماعت اسلامی نے اعتراض کیا تو مرتضیٰ وہاب بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے اور ادارہ نور حق کو کے ایم سی کی ملکیت قرار دے دیا، مرتضیٰ وہاب دروغ گوئی اور مکاری چھوڑ دیں اور اپنے الزامات پر معافی مانگیں،جماعت اسلامی قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ سیف الدین ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کے دفاتر کے ایم سی کی ملکیت نہیں،ہم پیپلزپارٹی والے نہیں جو کسی بیوہ کے مکان پر قبضہ کرکے دفاتر بنالیں، پیپلز پارٹی قائدین کالونی میں ہی واقع پیپلز سیکریٹریٹ کی ملکیت کے ثبوت پیش کرے ، انہوں نے کہا کہ قابض میئر اپنے قریب ترین لوگوں کو قیمتی املاک فراہم کرنے کی کرپشن کا جواب نہ دے سکے ، میئر کراچی نے اپنی کرپشن چھپانے کے لئے جماعت اسلامی پر جھوٹا الزام لگایا،503 قائدین کالونی تحریک آزادی کے رہنما سر ابراہیم ہارون جعفر کی ملکیت تھا،جماعت اسلامی نے پلاٹ 503 ادارہ نورحق ٹرسٹ کے نام پر 1988 میں بذریعہ سیل ڈیڈ خریدا،سیل ڈیڈ پر ابراہیم ہارون کے 5 بیٹوں کے دستخط موجود ہیں،504 قائدین کالونی کا گراونڈ اور پہلی منزل الگ الگ مالکان سے خریدا گیا ہے ، 504 قائدین کالونی کا گراونڈ فلور اکتوبر 2001 میں خریدا گیا، 504 قائدین کالونی کی پہلی منزل اکتوبر 2001 میں خریدی گئی۔یہ دونوں جائیدادیں طویل عرصہ قبل ان کے اس وقت کے مالکان سے باضابطہ سیل ڈیڈ کے ذریعے خریدیں گئیں، خریداری کے وقت جماعت اسلامی نے کارکنان سے انفاق کی اپیل کی اور کارکنان نے بڑھ چڑھ کر اس نیک کام میں حصہ لیا، کے ایم سی کی جانب سے ان پلاٹس کی الاٹمنٹ کا دعویٰ نہ صرف سفید جھوٹ اور دروغ گوئی ہے بلکہ اپنی کرپشن کو چھپانے کی ناکام کوشش۔ خریداری کے تمام کاغذات کے ایم سی میں بھی موجود ہیں، جس کی بنیاد پر کے ایم سی نے یہ جائیدادیں ٹرانسفر کیں لیکن مرتضیٰ وہاب نے بد نیتی سے ان کا غذات کو چھپایا جس سے ان کی یہ بدنیتی کھل کر سامنے آگئی۔


