میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
خالد مقبول صدیقی ایک پریس کانفرنس کی مار ہیں، مصطفی کمال

خالد مقبول صدیقی ایک پریس کانفرنس کی مار ہیں، مصطفی کمال

جرات ڈیسک
هفته, ۱۱ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

ایم کیو ایم کی چیئرمین کیلئے انتخاب میں ضرور حصہ لوں گا،

بغاوت ہمیشہ بہت بڑے لوگوں اور بڑے لیڈرز کے خلاف ہوتی ہے،جب بانیِ تحریک قوم کے خلاف گئے تو انہوں نے انہیں بھی چھوڑ دیا تھا،وفاقی وزیر صحت

میری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، اگر میرٹ پر الیکشن کرا کر کوئی دوبارہ چیئرمین بن جائے تو کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ کوئی سوال اٹھائے،خصوصی بات چیت

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے کہا ہے کہ بغاوت بڑے لوگوں کیخلاف ہوتی ہے، خالد مقبول صدیقی ایک پریس کانفرنس کی مار ہیں۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے خصوصی گفتگو میں پارٹی کے اندرونی اختلافات پر بات کرتے ہوئے کنوینر خالد مقبول صدیقی اور پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے پر کڑی تنقید کی۔

پارٹی میں بغاوت کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ "بغاوت ہمیشہ بہت بڑے لوگوں اور بڑے لیڈرز کے خلاف ہوتی ہے، جیسے ماضی میں بانیِ تحریک کے خلاف بنتی تھی، خالدمقبول کیخلاف بغاوت والی بات آئے گی ہی نہیں، وہ تو صرف ایک پریس کانفرنس کی مار ہیں۔‘‘

انہوں نے واضح کیا کہ میری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، لیکن جب بانیِ تحریک قوم کے خلاف گئے تو انہوں نے انہیں بھی چھوڑ دیا تھا۔

مصطفی کمال نے پارٹی کے موجودہ فیصلوں اور پروٹوکول پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خالد مقبول کے بعد پارٹی میں ان کا پروٹوکول بنتا ہے، لیکن صورتحال یہ ہے کہ انہیں پارٹی کے فیصلوں کا ٹی وی دیکھ کر پتہ چلتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "دنیا کو چیزوں کا پتہ ہو اور ہمیں ہی نہ پتہ ہو، ایسے گھر نہیں چلتے، ہم نے ماضی میں اس جبر سے جان چھڑائی تھی جہاں غلط اور صحیح سب کچھ ماننا پڑتا تھا۔ ہم دوبارہ اسی جبر کو تسلیم اور برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘

آنے والے بلدیاتی انتخابات اور پیپلز پارٹی سے حقوق لینے جیسے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ پارٹی میں ان اہم مسائل پر آپس میں بات ہی نہیں کی جاتی، ایم کیو ایم تب ہی متحد ہوگی جب میرٹ پر انٹرا پارٹی الیکشن ہوں گے۔ اگر میرٹ پر الیکشن کرا کر کوئی دوبارہ چیئرمین بن جائے تو کسی کی مجال نہیں ہوگی کہ کوئی سوال اٹھائے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اکتوبر میں ہونے والے ایم کیو ایم کے انتخابات میں چیئرمین کے عہدے کے لیے ضرور حصہ لیں گے۔ تاہم مستقبل میں پارٹی کا چیئرمین ہوں گا یا نہیں اس پر کوئی بات نہیں کرسکتا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں