میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
مشرقِ وسطیٰ میں دو روزہ لڑائی کے بعد ہتھیار خاموش

مشرقِ وسطیٰ میں دو روزہ لڑائی کے بعد ہتھیار خاموش

جرات ڈیسک
هفته, ۱۱ جولائی ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی، سفارت کاری کی بحالی کیلئے عالمی کوششیں تیز

واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات کے عمل کیلئے اب بھی پرعزم ہے، امریکی اہلکارکی گفتگو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ریاستہائے متحدہ امریکہ اور ایران کے درمیان دو دنوں تک جاری رہنے والی شدید اور خونریز فوجی کارروائیوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بالآخر ہتھیار خاموش ہو گئے ہیں۔ جنگ کے بادل چھٹنے کے بعد، اب ثالثی کا کردار ادا کرنے والے ممالک دونوں طاقتوں کے درمیان سفارتی ماحول کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں۔ ایک امریکی اہلکار نے قطری میڈیا نیٹ ورک ‘الجزیرہ’ کو تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن تہران کے ساتھ مذاکرات کے عمل کے لیے اب بھی پرعزم ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی سطح پر بات چیت کا سلسلہ پسِ پردہ تاحال جاری ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ بیان اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں فریقین مزید تباہ کن عسکری تصادم سے بچنا چاہتے ہیں۔ دو روزہ لڑائی کے نتیجے میں دنیا کے اہم ترین سمندری راستے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کی آمد و رفت میں تاریخی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس تعطل نے عالمی توانائی اور تیل کی مارکیٹوں کو ایک ایسے وقت میں شدید جھٹکا دیا ہے جب وہ پہلے ہی تاریخ کے سب سے بڑے سپلائی بحران سے نبرد آزما ہیں۔ جہاز رانی معطل ہونے سے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ جبکہ ایک طرف امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات ٹھنڈے ہو رہے ہیں۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں