کراچی میں آٹا سرکاری نرخ سے مہنگا فروخت ہونے لگا
شیئر کریں
اوپن مارکیٹ میں مہنگی گندم کی خریداری سے سرکاری نرخوں پر آٹے کی فروخت ممکن نہیں
چھوٹی چکیوں کی بندش کا خدشہ، فلور ملز، چکی مالکان کا حکومت سے فوری مذاکرات کا مطالبہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کراچی میں آٹے کے نئے سرکاری نرخوں کے اجرا کے بعد فلور ملز اور آٹا چکی مالکان نے حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر اوپن مارکیٹ میں گندم کی موجودہ قیمتوں کو مدنظر رکھے بغیر سرکاری نرخ نافذ کرنے پر اصرار کیا گیا تو شہر میں آٹے کی قلت، مارکیٹ میں افراتفری اور چھوٹی فلور ملز و چکیوں کی بندش جیسے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں۔
فلور ملز ایسوسی ایشن اور آٹا چکی ایسوسی ایشن کے نمائندوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ گندم کی اصل لاگت، پیداواری اخراجات اور مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری طور پر نرخوں پر نظرثانی کی جائے، بصورت دیگر آٹے کی مسلسل فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن جنید عزیز نے کہا کہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی قیمت 116 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جبکہ فلور ملز کو سرکاری گندم دستیاب نہیں۔ ایسے حالات میں سرکاری نرخوں پر آٹا فروخت کرنا معاشی طور پر ممکن نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت سپر ریگولر آٹے کی ایکس مل قیمت تقریباً 135 روپے جبکہ فائن آٹے کی ایکس مل قیمت 144 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، اس لیے مقررہ سرکاری نرخ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف آٹے کی سپلائی متاثر ہوگی بلکہ نان، روٹی، ڈبل روٹی، بسکٹ، بیکری مصنوعات اور آٹے سے تیار ہونے والی دیگر اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا براہ راست بوجھ عام شہری پر پڑے گا۔
دوسری جانب آٹا چکی ایسوسی ایشن کے رہنما محمد انیس نے کہا کہ چکی مالکان کو گندم تقریباً 125 روپے فی کلو کے حساب سے مل رہی ہے، جس میں پسائی، بجلی، مزدوری، ٹرانسپورٹ اور دیگر اخراجات شامل کرنے کے بعد فی کلو آٹے کی لاگت تقریباً 160 روپے تک پہنچ جاتی ہے۔
ایسے میں سرکاری نرخ پر آٹا فروخت کرنا کسی بھی چکی کے لیے ممکن نہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ فوڈ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ چھوٹی آٹا چکیوں کے خلاف بلاجواز کارروائیاں کر رہی ہیں، بغیر پیشگی نوٹس کے چھاپے مار کر چکیاں سیل کی جا رہی ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ کارروائی سے قبل نوٹس جاری کیا جائے اور متعلقہ اداروں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے۔
فلور ملز اور آٹا چکی مالکان نے حکومت سندھ، محکمہ خوراک اور کمشنر کراچی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشترکہ اجلاس طلب کرکے قابل عمل نرخ مقرر کیے جائیں، تاکہ شہریوں کو آٹے کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جا سکے اور ممکنہ بحران سے بچا جا سکے۔


