میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
جان بچانے والی ادویات غریب عوام کی پہنچ سے باہر

جان بچانے والی ادویات غریب عوام کی پہنچ سے باہر

ویب ڈیسک
هفته, ۹ مئی ۲۰۲۶

شیئر کریں

قیمتوں میں 100 سے 200 فیصد تک اضافہ ،سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی قلت
متعدد مریض علاج سے بھی محروم ، نجی میڈیکل اسٹورز سے مہنگی دوائیاں خریدنے پر مجبور

جان بچانے والی ادویات غریب عوام کی پہنچ سے باہر، قیمتوں میں 100 سے 200 فیصد تک اضافہ ، سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی قلت۔ تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح کراچی میںبھی زندگی بچانے والی ادویات سمیت ضروری ادویات کی قیمتوں میں حالیہ دنوں کے دوران 100 سے 200 فیصد تک اضافے نے غریب اور متوسط طبقے کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے، پہلے ہی سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو مطلوبہ ادویات فراہم نہیں کی جاتیں جس کے باعث غریب مریض نجی میڈیکل اسٹورز سے مہنگی دوائیاں خریدنے پر مجبور تھے تاہم اب ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد متعدد مریض علاج سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں، شہر کے مختلف میڈیکل اسٹورز پر دل، شوگر، بلڈ پریشر، بخار، انفیکشن اور دیگر جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل جو دوائی 500 روپے میں ملتی تھی وہ اب 1000 سے 1500 روپے تک فروخت ہو رہی ہے جبکہ بعض انجکشن اور اینٹی بائیوٹکس کی قیمتیں دگنی سے بھی زیادہ ہوچکی ہیں، شہریوں نے کہا کہ سرکاری اسپتالوں میں پہلے ہی ادویات دستیاب نہیں ہوتیں، ڈاکٹر باہر سے ادویات لکھ کر دیتے ہیں اور غریب لوگ قرض لے کر علاج کرواتے ہیں، اب مہنگائی کے اس دور میں دوائیاں بھی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں، شہریوں نے کہا کہ انسان اپنی زندگی بچانے کے لیے دوائی استعمال کرتا ہے اگر دوائی ہی اتنی مہنگی ہو جائے کہ خرید نہ سکے تو غریب آدمی کیا کرے جبکہ روزانہ استعمال ہونے والی ادویات کی قیمتیں بڑھنے سے گھریلو بجٹ مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے ، شہریوں، سماجی حلقوں اور مریضوں نے حکومت، محکمہ صحت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے، سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور میڈیکل اسٹورز پر قیمتوں کی سخت نگرانی کی جائے تاکہ غریب عوام کو ریلیف مل سکے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں