میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
نظامِ حکمرانی کی بساط

نظامِ حکمرانی کی بساط

جرات ڈیسک
پیر, ۵ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

کیا ہم ایک سینس لیس معاشرے کے باسی ہیں جہاں بے شعور اور خوش فہم نابغے ہمارے حکمران ہیں جو نظام کی ناکامی کا علاج بھی کمال تجویز فرماتے ہیں:

160 بااختیار ضلعی حکومتیں بنا دو، یا پندرہ صوبے تراش دو!

عقل کے اندھے معمارانِ مملکت !

‘‘بااختیار’’ کا وہ نسخہ کیمیا کیا ہے ؟کیا اس بااختیاری سے نکلا ہوا وہی اختیار جو آج پارلیمنٹ کے پاس ہے؟جس کے اندر سے عوامی نمائندوں کو پولیس کے سپاہی گرفتار کرنے پہنچ جاتے ہیں ،یا وہی خودمختاری جو عدلیہ کے دامن میں ہے؟جو کہیں سے لکھا لکھایا فیصلہ سنانے میں دیر نہیں لگاتی یا وہی بے نیازی جو الیکشن کمیشن کے ایوانوں میں جلوہ فرما ہے؟ جس نے عوام کے اعتماد کے پر نوچے !کیا نئے ضلعوں اور صوبوں کے قیام کے ساتھ اختیار کے فرشتے آسمان سے نازل ہوں گے؟ کیا ہر نئے صوبے کے ساتھ ایک ایسا جبریلِ انتظام بھی تشریف لائے گا جو بدعنوانی کو نیست، اقرباپروری کو فنا اور قانون شکنی کو دفن کر دے گا؟

حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کا المیہ صوبوں کی قلت نہیں، حکمرانوں کے کردار پر لگا وہ سوالیہ نشان ہے جس میں جواب دہی کا فقدان ہے، نظامِ حکمرانی کی بدنیتی اور بدانتظامی کی بساط بچھی ہوئی ہے ،جس کے پاس رشوت اور سفارش نہیں وہ انصاف کے دروازے پر اپنی عمر، عزت اور جمع پونجی ہار دیتا ہے۔

تعلیم کا عالم یہ ہے کہ پنجاب میں چلتے ہوئے تعلیمی سرکاری ادارے اپنے من پسند لوگوں میں بانٹے جارہے ہیں، پنجاب کے نتائج دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امتحانات علم ناپنے کے لیے نہیں، ناکامی کی شرح دریافت کرنے کے لیے منعقد کیے جاتے ہیں ،سرکاری اسکولوں میں 72فیصد لڑکے اور 52فیصد لڑکیاں فیل ہوگئیں، ان نتائج کا ایک پس منظر یہ بھی ہے کہ سرکاری اسکولوں کو من پسند افراد کو بیچ کر تعلیمی اداروں کو تجارت گاہیں بنایا جاسکے۔

صحت کا شعبہ انتظامی بے حسی کا زندہ مرثیہ ہے،میانوالی سے لیکر جنوبی پنجاب تک عمران خان نے جو مدر اینڈ چائلڈ کے نام پر مراکز مسیحائی تعمیر کرائے، ان پر محترمہ کے نام کے ساتھ تصویر کی تختیاں آویزاں کرکے انہیں جنرل ہسپتالوں کا نام دیا جارہا ہے، دارالحکومت کے بڑے سرکاری ہسپتال میں نومولود بچوں کے زندہ جل جانے کا سانحہ پیش آتا ہے، مگر ریاستی مشینری پر ایسی خاموشی طاری رہتی ہے جیسے چند معصوم جانیں نہیں، کسی سرکاری فائل کے حاشیے پر چند بے معنی اعداد جل گئے ہوں۔

پھر فرماتے ہیں: پندرہ صوبے بنا دو!
جناب! پہلے ایک صوبے میں قانون، انصاف، تعلیم، صحت، بلدیاتی اختیار اور احتساب ڈیلیور کر کے دکھا دیجیے؛ پھر پندرہ صوبوں کا خواب بھی دیکھ لیجیے!
یہ انتظامی اصلاح نہیں، ناکامی کی تقسیم ہے!
ایک صوبہ ناکام ہے ۔ پندرہ کامیاب ہوجائیں گے!
ایک حکومت بے اختیار ہے، 160 با اختیارہونگیں،ایک ادارہ جواب دہ نہیں سینکڑوں نئے ادارے جوابدہ ہوں گے!
اور پھر بڑی متانت سے ایک خود ساختہ بیانیہ جنم لے گا!
‘‘دیکھیے! ہم نے نظام ٹھیک کر دیا ’’۔

نقشے پر نئی لکیریں کھینچنے سے ریاست مضبوط نہیں ہوتی؛
صوبے پندرہ ہوں یا پچاس، ضلعے 160 ہوں یا 1600

عوام وہی، مسائل وہی، حکمران وہی، اور تماشا بھی وہی رہے گا!

جمہوریت جمہور سے شروع ہوتی ہے، یہ اسکی فنڈامینٹل اکائی ہے،کیا ہم کامیاب ہیں؟ سوچیے اس ماں اور باپ کے بارے میں جنہوں نے اپنے معصوم بچے کو یہ کہہ کر گھر چھوڑا کہ وہ بازار جارہے ہیں اور دریا میں چھلانگ لگا کر اپنے معصوم بیٹے کو بے یارو مدد گار چھوڑ گئے ،ان کا مرنا کیسا ہو گا؟ ایک ایسے معاشرے میں جہاں حکمران آٹھ کروڑ روپے کی ادائیگی کرکے اٹلی سے اپنی فیملی کے لیے جفت ساز منگوائیں ، اپنے معصوم لخت جگر کے بارے میں سوچتے ہوئے ایک ماں کے آخری لمحات کتنے قیامت خیز ہوں گے ؟اس نظام کے رحم پر،اس نظام کے آقا رحم کے لفظ سے واقف نہیں، ایک ایسے انسان کے بارے میں سوچیے جو دنیا سے جانے والا ہے، اسے پتا ہے، لیکن اس کے چہرے پر ملال کسی آنکھ نے نہیں دیکھا!
اب کس کو کہاں پر کیا کچھ کرنا ہے، کیا کچھ سیکھنا اور تبدیل کرنا ہے۔۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں!!
سوشل آبزرویشنز کو لے کرجب تک انصاف نہیں آتا ، یہ امید لگانا چھوڑ دیجئے کہ کوئی بہت زیادہ باصلاحیت، ذمہ دار نسل پیدا ہو گی جو آگے بڑھ کر کمیونٹی اور قوم کا بھلا کرے گی، فنڈامینٹل اکائیوں پر کام کیجئے،جب عدلیہ آزاد ہوگی ،صحافت کا گلا نہیں گھونٹا جائے گا ، تب گلی محلے سے لے کر صوبائی و وفاقی اداروں اور اسمبلیوں تک سب کچھ ٹھیک ہونے لگے گا۔ خاندانی پارٹیوں کے ناخن کے نیچے، طبیعت کے آزاد لوگ پیدا کیجئے ،عرصہ پہلے ارمان عثمانی کا اخبار ریاست بہاولپور کے نواب نے سچ لکھنے پر بند کردیا تو ارمان عثمانی نے کہا تھا !
انصاف تو یہ ہے کہ زباں اس کی کٹے گی
انصاف کی جو بھی یہاں بات کرے گا

‘‘انصاف’’کو یہ کہہ کے ریاست نے کیا بند

انصاف ریاست میں رہا ہے ،نہ رہے گا


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں