میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
میر رضا کیس، مشکوک گاڑیوں، ریکی اور کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق اہم انکشافات

میر رضا کیس، مشکوک گاڑیوں، ریکی اور کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق اہم انکشافات

جرات ڈیسک
منگل, ۶ اکتوبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

29 جولائی کی شب مسجد خضراء کے قریب دو مشکوک گاڑیاں دیکھنے کی تصدیق

سی سی ٹی وی فوٹیجز میں تعاقب کا تاثر،  جوڈیشل کمیشن میں گواہ محمد ریاض کا بیان،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میر رضا کیس کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے دوران مشکوک گاڑیوں، مبینہ ریکی، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق اہم معلومات سامنے آگئیں۔ گواہ محمد ریاض نے بیان دیا کہ اس نے 29 جولائی کی رات مسجد خضراء کے قریب آلٹو اور ایکسلیو سمیت دو سفید گاڑیاں دیکھی تھیں۔ گواہ کے مطابق ایک گاڑی میں موجود شخص نے گاڑی میر رضا پر چڑھانے کی کوشش کی، جبکہ اس سے قبل اس نے ان گاڑیوں کو علاقے میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔کارروائی کے دوران جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے مشکوک گاڑی کا نمبر پولیس کو فراہم کیا تھا، تاہم پولیس کے مطابق گاڑی کا رجسٹریشن ریکارڈ طارق نامی شخص کے نام پر سامنے آیا۔ جبران ناصر کا کہنا تھا کہ پولیس نے گاڑی میں موجود افراد کو جھگڑا نمٹانے کیلئے آنے والے افراد قرار دیا تھا۔کمیشن کے سامنے صحافیوں کی جانب سے پیش کی گئی معلومات کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیجز سے بظاہر میر رضا کی ریکی اور تعاقب کا تاثر ملتا ہے۔ صحافی بابر سلیم اور صولت جعفری نے بتایا کہ گلستان جوہر سے ایک گاڑی میر رضا کی گاڑی کے پیچھے جاتی دکھائی دی، جبکہ تعاقب کرنے والی گاڑی گیسٹ ہاؤس کے باہر بھی رکی تھی۔ صولت جعفری کے مطابق 28 اور 29 جولائی کو ایک مشکوک آلٹو گاڑی علاقے میں گھومتی رہی۔جبران ناصر نے بتایا کہ سی پی ایل سی کے ریکارڈ کے مطابق میر رضا صبح 4 بج کر 25 منٹ تک رابطے میں تھا، جبکہ 11 اگست تک پولیس سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل نہیں کرسکی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافیوں نے پولیس سے پہلے سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کرلی تھیں۔کارروائی کے دوران میر رضا کی کرپٹو ٹریڈنگ سے متعلق بھی معلومات پیش کی گئیں۔ صولت جعفری کے مطابق میر رضا کا کرپٹو ٹریڈنگ اکاؤنٹ 2021ء میں بنایا گیا تھا اور ایک سال کے دوران تقریباً 8 کروڑ روپے کی کرپٹو ٹریڈنگ سامنے آئی، جبکہ مجموعی طور پر تقریباً 3 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ جبران ناصر کے مطابق میر رضا نے آخری تین ماہ کے دوران تقریباً 90 لاکھ روپے کرپٹو میں لگائے تھے۔جبران ناصر نے مؤقف اختیار کیا کہ کرپٹو ٹریڈنگ میں ہونے والے نقصانات کو بنیاد بناکر خودکشی کا بیانیہ بنایا گیا۔ صحافی بابر سلیم کے مطابق این سی سی آئی اے فیصل آباد نے بھی میر رضا کو فراڈ ٹرانزیکشن کے معاملے میں طلب کیا تھا۔بابر سلیم نے کمیشن کو بتایا کہ تحقیقاتی ادارے اپنی غلطیاں تسلیم کرنے سے انکاری ہیں، جبکہ جبران ناصر کا کہنا تھا کہ پولیس حکام اپنی ٹیم میں ڈیٹا لیک کرنے والے شخص کا سراغ نہیں لگا سکے۔اس موقع پر جسٹس عمر سیال نے ریمارکس دیے کہ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے معلومات کی فراہمی سے کیس خراب نہیں ہوتا۔کمیشن کے معاون تجمل لودھی نے ایڈیشنل آئی جی کراچی، ڈی آئی جی عامر فاروقی اور ڈی آئی جی ایسٹ فرخ لنجار کے سیل شدہ جوابات بھی کمیشن میں جمع کرا دیے۔جوڈیشل کمیشن نے صحافیوں کو سی سی ٹی وی فوٹیجز اور تحقیقاتی مواد پر پریزنٹیشن دینے کیلئے طلب کرلیا ہے۔ کمیشن کی کارروائی بدھ تک ملتوی کردی گئی، جبکہ کمیشن کے مطابق بدھ کو سماعت کا آخری دن ہوگا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں