میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سفارتی ومعاشی مقابلہ

سفارتی ومعاشی مقابلہ

ویب ڈیسک
جمعرات, ۴ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

حمیداللہ بھٹی

خطے میں بالادستی کے خواہاں بھارت کو مشکلات کاسامنا ہے جوسفارتی اور معاشی مقابلے کی رفتارکو سُست کرنے کاباعث ہیں مگر دہلی حکومت اب بھی پرانی روش پر گامزن ہے اور مذہبی جنونیت کوہوا دینے میں مصروف ہے حالانکہ ایسی کوششیں اندرونِ ملک تو کسی حد تک فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہیں لیکن عالمی سطح پر مُضر ثابت ہوتی ہیں۔ بھارت کوکچھ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہے اندرونِ ملک سیاسی کامیابیوں کے باوجودکئی بیرونی محاذوں پر ہزیمت سے دوچارہے اب تو یہ سوال گردش کرنے لگا ہے کہ کیا چین کا بھارت سفارتی اور سیاسی مقابلہ کرنے کی سکت رکھتابھی ہے یا نہیں؟
مئی اور جون 2020 میں سرحدوں کی حفاظت پر مامور چینی اور بھارتی فوجی باہم دست وگریبان ہو گئے۔ معاہدے کے مطابق اسلحہ تو
استعمال نہ کیا گیا لیکن ہاتھاپائی کی شدت کااندازہ اِ س سے لگایا جا سکتا ہے کہ ڈنڈوں کے استعمال سے چینی فوجیوں نے بھارت کے بیس
فوجی مارکر درجنوں زخمی بھی کردیے جبکہ چین کاایک فوجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔یہ ایسی جھڑپ تھی جس پر بھارت نے چُپ سادھ لی اور اُس کے عسکری مہارت کے دعوے بے نقاب ہوئے۔ یہ واقعہ سکم کے قریب سرحد اور تبت جیسے خود مختار علاقے اور لداخ کے قریب پینگونگ جھیل کے نزدیک پیش آیا یہ وہی جگہ ہے جہاں 1962 کی چین وبھارت جنگ کے نتیجے میں سرحد کا تعین کیا اور دونوں ملکوں میں اتفاق ہوا کہ سرحدی محافظ اسلحے سے لیس ہوکر گشت نہیں کریں گے بلکہ غیر مسلح رہیں گے بیس فوجیوں کی ہلاکت کے باوجود بھارت کا خاموشی اختیار کرنا اور چین سے اعلیٰ سطحی روابط میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرناکمزوری کی طرف اِشارہ تھاجس سے دنیا جان گئی کہ چین سے بھارت خوفزدہ ہے اور میدان میںمقابلے سے فرار چاہتاہے۔
سرحدی جھڑپ میں بھاری جانی نقصان کے باوجود بھارت و چین میں تجارت ختم نہ ہوئی حالانکہ دہلی حکومت نے پوری کوشش کی کہ چین
کا متبادل تلاش کیا جائے لیکن بھارتی تاجر وں کاچین پر انحصار کم نہ ہوا۔سرحدی تنازعات اور گلوان وادی کی جھڑپوں کے باوجودتجارت
جاری رہی اور پھر پانچ برس کے تعطل کے بعد جب دونوں ممالک نے سرحدی تجارت کی بحالی پر مذاکرات شروع کیے توصورتحال یکدم ہی
بدلتی چلی گئی اگرمالی سال 2026کے اعدادوشمار پر طائرانہ نگاہ ڈالی جائے تو بھارت کا چین ایسا سب سے بڑاتجارتی شراکت دار نظر آتا ہے
جس نے امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ چین اور بھارت کا تجارتی حجم127ارب ڈالر ہے، اِس دوطرفہ تجارت میں بھارت کو سوارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے یہ صورتحال اِس امر کی عکاس ہے کہ بھارت کو چین کے مقابلے میں عسکری اور تجارتی حوالے سے بُری طرح
شکست کا سامناہے جس سے خطے میں اُس کے بالادستی کے دعوئوں کی نفی ہوتی ہے۔
ایک برس قبل ایک نام نہاد دہشت گردی کے واقعہ کو جواز بناکر بھارت نے پاکستان کی آزادی وخودمختاری کو پامال کرنے کی دھمکیاں دینا
شروع کردیں اور پھر مئی کے پہلے ہفتے میں عملی طورپر ایسا شروع بھی کردیامگر اُس کی توقعات پوری نہ ہوسکیں کیونکہ پاکستان نے نہ صرف غیر
متوقع طورپر سات لڑاکا طیارے مارگرائے جن میں فرانس کے جدید ترین رافیل بھی شامل ہیں بلکہ جلد ہی بھرپورجواب دینے کا عندیہ دیا ۔ یہ صورتحال بھارت کے لیے کسی ڈرائونے خواب سے کم نہ تھی نو اور دس مئی 2025کو پاکستان نے ایک بڑے حملے میں روس کے دفاعی نظام ایس 400 ، کئی فوجی اڈوں اور میزائل ذخیروں کوتباہ کردیاجب پاک بھارت جوہری ٹکرائو کاخدشہ پیداہوگیا توبھارتی التجاپر امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے دونوں ممالک میں فائربندی کرادی لیکن مئی کی جھڑپوں نے ثابت کردیاکہ عسکری طاقت کے بھارتی دعوے کھوکھلے ہیں۔ اِن جھڑپوں سے پاکستان کی عالمی ساکھ بہتر ہوئی اور اب اُسے خطے کا ایک اہم اور طاقتور ملک سمجھاجانے لگاہے ۔بھارت کی معاشی طاقت بھی اُسے سفارتی اہمیت دلانے میں معاون ثابت نہیں ہورہی۔ رواں دہائی کے ابتد میں دوبار عسکری ہزیمت سے دوچار ہوچکاہے جو اُس پر عالمی اعتماد میں کمی لانے کا باعث ہے۔
اِس وقت بھارت خطے میں امریکی معتمد ہونے کا دعویدار ہے لیکن بنگلہ دیش اور نیپال جیسے چھوٹے ہمسائے بھی نالاں ہیں۔ بنگلہ دیش میں بھارتی سامان کے بائیکاٹ کی مُہم کو عوامی پزیرائی حاصل ہوتی ہے جبکہ نیپالی وزیراعظم بلیندرشانے کالا پانی،لیپولیکھ اور لمپیادھورا جیسے سرحدی تنازعات کوحل کرنے کے لیے چین اور برطانیہ سے مداخلت کاباضابطہ مطالبہ کردیاہے۔ بھارت جو نیپال کو ہمیشہ اپنی طفیلی ریاست تصورکرتا تھا اور نیپالی جنرلز کو اپنے اعزازی جنرلز قرار دیتا ہے اِس کے باوجود تنائو خطے میں تبدیلی کی کروٹ کی طرف اِشارہ ہے۔ چین سے سفارتی اور معاشی مقابلے کے دعویدار بھارت کو ہمسائیگی میں مشکل صورتحال کا سامناہے ۔
بھارت نے یورپی یونین سے رواں برس کے آغاز جنوری میں مدرآف آل ڈیلز کے نام سے آزاد تجارتی معاہدہ کرلیاہے گزشتہ ماہ مئی میںبرکس وزرائے خارجہ کے اجلاس کی میزبانی بھی کر چکا۔ اب حال ہی میں کواڈ اجلاس کی میزبانی بھی حصے میں آئی جس میں امریکی، جاپانی اور آسٹریلوی وزائے خارجہ نے شرکت کی۔ میزبان بھارتی وزیرخارجہ جے شنکر میزبان مارکوروبیوسے اپنے موقف کی تائیداور پاکستان کے خلاف کچھ خاص اُگلوانہ سکے۔ البتہ اجلاس سے یہ تاثر دیا کہ کواڈ اتحاد کمزور یاغیرموثر نہیں ہوا ہے۔ یہ کوئی عسکری اتحاد نہیں محض مشترکہ مفادات پر مبنی شراکت داری ہے مگر اِسے چین کی سفارتی اور معاشی راہ روکنے کی کاوش کے طورپر دیکھاگیاکیونکہ جب مشرقِ وسطیٰ میں بھارت یو اے ای اور اسرائیل تک محدودہورہاہے تو اِن حالات میںانڈوپیسفک میں پیش قدمی کی توقع رکھناممکن نہیں لگتا۔
سفارتی اور معاشی مقابلے میں چین کو بھارت پر سبقت حاصل ہے۔ صدرٹرمپ اپنے چین کے دورے کے دوران میزبان صدر شی کی تعریف کرتے رہے اور اپنے ملک کی بڑی کمپنیوں کے مالکان کو ساتھ لیکر آنابھی شراکت داری کی خواہش ہی تھی۔ یہ چینی سبقت کو تسلیم کرنے کاغیر اعلانیہ اظہارسمجھا گیا ۔صدرٹرمپ کے فوری بعد روسی صدرپوٹن کا چین آنا اور پھر بھارت کے علاقائی حریف پاکستان کے وزیر اعظم شہبازشریف کی چین آمد کا مطلب ہے کہ چین طے شدہ ایسے منصوبے پر عمل پیرا ہے جس سے بھارت کی سفارتی ومعاشی مشکلات میں اضافہ ہو۔ مثال کے طورپر افریقہ سے محصولات کے بغیر تجارتی معاہدے سے چین کو افریقی معدنیات تک رسائی حاصل ہوچکی ہے اور چینی مصنوعات کے لیے براعظم افریقہ میں راستہ ہموار ہواہے جبکہ یورپی یونین سے آزاد تجارت کے معاہدے سے یورپی سامان کی بھارت میں کھپت بڑھے گی جس سے میک انڈیا پالیسی کا خاتمہ ہوسکتاہے ۔یورپی دفاعی سامان خریدنے کوسفارتی اور معاشی کامیابی کے طورپر دیکھنا مناسب نہیں ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں