میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
محکمہ اطلاعات، اشتہارات میں من پسند اور کم ریٹنگ والے چینلز پر نوازشیں

محکمہ اطلاعات، اشتہارات میں من پسند اور کم ریٹنگ والے چینلز پر نوازشیں

جرات ڈیسک
بدھ, ۴ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

فی اشتہاری مہم میں 12ٹی وی چینلز کا معیار نظرانداز، 44سے 60چینلز پر اشتہارات کی بارش

ایک ارب 27کروڑکے اشتہارات پر سنگین آڈٹ اعتراضات، ریلیز آرڈرز، کیو آر کوڈز غائب

 

(رپورٹ:اسد آرائیں)محکمہ اطلاعات حکومت سندھ میں سرکاری اشتہارات کی تقسیم میں مبینہ بے ضابطگیوں، من پسند میڈیا چینلز کو نوازنے اور سرکاری خزانے کے غیر موثر استعمال کا انکشاف ہوا ہے ۔ مالی سال 2024-25کی آڈٹ رپورٹ میں محکمہ اطلاعات کی اشتہاری پالیسی، میڈیا پلاننگ اور مالیاتی نظم و ضبط پر سنگین اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔آڈٹ رپورٹ کے مطابق محکمہ اطلاعات نے مختلف اشتہاری مہمات پر مجموعی طور پر ایک ارب 27کروڑ 10 لاکھ 46 ہزار روپے خرچ کیے ، تاہم اتنی بڑی رقم کے استعمال کے باوجود اشتہارات کے لیے ٹی وی چینلز کے انتخاب، ان کی ناظرین تک رسائی اور اخراجات کی افادیت کے حوالے سے کوئی مستند دستاویزی جواز پیش نہیں کیا جا سکا۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ محکمہ اطلاعات نے فی اشتہاری مہم 44سے 60ٹی وی چینلز کا انتخاب کیا، جبکہ اشتہارات کی پالیسی 2015کے تحت موثر تشہیر کے لیے 12ٹی وی چینلز کا معیار مقرر تھا۔ آڈٹ حکام کے مطابق چینلز کی غیر معمولی تعداد منتخب کرنے کے حق میں نہ ناظرین کا سروے پیش کیا گیا اور نہ ہی ویورشپ کا کوئی مستند تجزیہ فراہم کیا گیا۔کم ویورشپ والے چینلز کو صرف پرائم ٹائم نشریات کے دوران 4کروڑ 58 لاکھ 58ہزار روپے کی ادائیگیاں کی گئیں، تاہم ان چینلز کو ترجیح دینے کے لیے کوئی تقابلی جائزہ، تحریری جواز یا مجاز اتھارٹی کی منظوری کا ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔رپورٹ میں اشتہاری مہمات Work for Sindh، Heatwave Awareness اور Journalists Review کے حوالے سے بھی دستاویزی خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ متعدد ٹی وی چینلز کی اشتہارات سے متعلق سی ڈیز اور نشریاتی ریکارڈ آڈٹ حکام کو فراہم نہیں کیے گئے ، جن میں ٹی وی ٹوڈے، ایل ٹی این فیملی، پی این این/ ایک نیوز اور این ٹی این شامل ہیں۔ بعض فراہم کردہ ریکارڈ میں بھی اشتہارات کے نشر ہونے کے پروگراموں اور اوقات کی تفصیلات موجود نہیں تھیں، جس سے ان کی حقیقی نشریات کی تصدیق ممکن نہ ہوسکی۔آڈٹ حکام نے اشتہارات کے ریلیز آرڈرز کیو آر کوڈز کے بغیر جاری کرنے اور میڈیا چینلز کو جاری کیے گئے اشتہارات کا باقاعدہ رجسٹر برقرار نہ رکھنے پر بھی اعتراض اٹھایا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ان خامیوں کے باعث اشتہارات کی تقسیم، نشریات کی نگرانی اور مالیاتی شفافیت کا نظام متاثر ہوا۔اب اصل سوال یہ ہے کہ محکمہ اطلاعات سندھ میں سرکاری اشتہارات کی تقسیم کے نام پر مبینہ بے ضابطگیوں، من پسند میڈیا اداروں کو نوازنے اور اشتہاری پالیسی کو نظرانداز کرنے کے معاملے پر اب تک موثرکارروائی کیوں نہیں کی گئی؟ ایک ارب 27کروڑ روپے سے زائد کے اشتہاری اخراجات پر سنگین آڈٹ اعتراضات سامنے آنے کے باوجود سیکریٹری اطلاعات اور متعلقہ حکام کی خاموشی بھی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے ۔تحقیقاتی ادارے اشتہارات کی تقسیم، ادائیگیوں اور منظوریوں کی مکمل تحقیقات کرکے ذمہ دار افسران کا تعین کریں اور قومی خزانے کے ممکنہ نقصان پر قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں، تاکہ سرکاری اشتہارات کی تقسیم میں شفافیت، میرٹ اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ اطلاعات


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں