میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ بلڈنگ، لطیف آباد میں تعمیراتی لاقانونیت عروج پر، قوانین پامال

سندھ بلڈنگ، لطیف آباد میں تعمیراتی لاقانونیت عروج پر، قوانین پامال

جرات ڈیسک
بدھ, ۴ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

پلاٹ نمبر221-Aپر ایکسٹرا لینڈ پر تعمیرات تیز، ڈی ڈی ساجد قائم خانی ملوث

محمود گارڈن میں انکروچمنٹ کے بعد نئے تعمیراتی منصوبے پر خاموشی کیوں؟

لطیف آباد یونٹ نمبر 02آٹو بھان روڈ پر واقع پلاٹ نمبر221-A، جس کا مجموعی رقبہ ایک ہزار گز بتایا جاتا ہے ، پر مبینہ طور پر 500گز سے زائد اضافی اراضی (ایکسٹرا لینڈ) پر تعمیرات کا سلسلہ جاری ہے ۔ رہائشی پلاٹ کو مبینہ طور پر کمرشل حیثیت دے کر اضافی زمین پر تعمیرات کیے جانے کے معاملے نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی نگرانی اور متعلقہ افسران کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کردیے ہیں۔ذرائع کے مطابق مذکورہ تعمیراتی منصوبے کے حوالے سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد قائم خانی کی مبینہ سرپرستی کے الزامات بھی سامنے آرہے ہیں۔ الزام ہے کہ متعلقہ حکام کی مبینہ چشم پوشی کے باعث تعمیراتی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم ان الزامات کی آزادانہ تحقیقات اور متعلقہ افسر کا مؤقف سامنے آنا ضروری ہے ۔قابلِ ذکر امر یہ ہے کہ اسی علاقے میں محمود گارڈن کے معاملے میں بھی اضافی زمین اور تجاوزات کے حوالے سے عدالتی احکامات کے تحت انکروچمنٹ کی کارروائی کا معاملہ سامنے آچکا ہے ۔ ایسے میں یہ سوال انتہائی اہمیت اختیار کرگیا ہے کہ اگر اضافی زمین اور تجاوزات کے خلاف عدالتی احکامات پر کارروائی ممکن ہے تو پلاٹ نمبر 221-A پر مبینہ طور پر 500 گز سے زائد اضافی زمین پر جاری تعمیرات کو ابتدائی مرحلے میں روکنے کے لیے متعلقہ ادارے متحرک کیوں نہیں ہوئے ؟شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مذکورہ منصوبے کی تعمیرات غیر قانونی ہیں تو انہیں مکمل ہونے سے پہلے روکنا ضروری ہے ، کیونکہ تعمیراتی منصوبہ مکمل ہونے کے بعد اس میں متعدد خاندانوں کی جمع پونجی اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری شامل ہوسکتی ہے ۔ بعدازاں اگر کسی عدالتی حکم یا انکروچمنٹ کارروائی کے نتیجے میں تعمیرات متاثر ہوتی ہیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان عام خریداروں اور سرمایہ کاروں کو اٹھانا پڑے گا۔شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا متعلقہ ادارے کسی بڑے مالی نقصان اور ممکنہ تنازعے کے بعد حرکت میں آئیں گے یا بروقت کارروائی کرکے عوام کی سرمایہ کاری کو تحفظ فراہم کیا جائے گا؟عوامی و سماجی حلقوں نے ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، محکمہ اینٹی کرپشن سندھ اور دیگر متعلقہ اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پلاٹ نمبر 221-A کا اصل ملکیتی ریکارڈ، منظور شدہ نقشہ، زمین کی قانونی حدود، رہائشی سے کمرشل تبدیلی کی منظوری اور مبینہ ایکسٹرا لینڈ پر تعمیرات کی قانونی حیثیت کی فوری تحقیقات کرائی جائیں۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ساجد قائم خانی سمیت تمام متعلقہ افسران کے کردار کا تعین کیا جائے اور اگر کسی قسم کی غیر قانونی منظوری، اختیارات کے ناجائز استعمال یا مالی بدعنوانی کے شواہد سامنے آئیں تو ذمہ داران کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی کرتے ہوئے تعمیراتی کام روکا جائے ۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں