میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اہرامِ مصر: پتھروں میں دفن راز

اہرامِ مصر: پتھروں میں دفن راز

جرات ڈیسک
بدھ, ۴ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تاریخ کے جھروکے سے

 

وہ خفیہ خلا جسے 4500سال تک کسی انسان نے نہیں دیکھا!

کیا آپ یقین کریں گے کہ دنیا کی سب سے مشہور قدیم عمارت کے اندر ایک ایسی عظیم خالی جگہ موجود تھی جس کا راز ہزاروں سال تک انسان کی نظروں سے پوشیدہ رہا؟
مصر کے صحرا میں کھڑا عظیم اہرام بظاہر پتھروں کا ایک دیوہیکل پہاڑ ہے ، مگر اس کے اندر ایسی خاموش دنیا آباد ہے جہاں تاریک راستے ، بند گزرگاہیں اور صدیوں پرانے سوال آج بھی موجود ہیں۔یہ تقریباً 4500 سال پہلے فرعون خوفو کے دور میں تعمیر کیا گیا تھا۔اس کے معمار مر گئے ، مزدور مٹی میں مل گئے ، سلطنتیں ختم ہوگئیں، لیکن اہرام اپنی جگہ کھڑا رہا۔اور پھر ایک دن جدید سائنس نے اس کے سینے میں چھپا ایک ایسا راز دریافت کیا جس نے دنیا کو حیران کردیا۔
یہ نومبر 2017کی بات ہے ۔

بین الاقوامی تحقیقی منصوبے ScanPyramidsسے وابستہ سائنس دانوں نے ایک حیرت انگیز اعلان کیا۔انہوں نے عظیم اہرام کے اندر کم از کم 30 میٹر لمبی ایک نامعلوم خالی جگہ دریافت کرلی تھی!یہ جگہ اہرام کی مشہور عظیم گیلری کے اوپر واقع تھی۔لیکن سب سے عجیب بات یہ تھی کہ کسی محقق نے وہاں قدم نہیں رکھا تھا۔کسی نے دیوار نہیں توڑی تھی۔کسی نے خفیہ دروازہ نہیں کھولا تھا۔پھر انہیں اس کا علم کیسے ہوا؟اس راز کی کنجی زمین پر نہیں، آسمان سے آنے والے ذرات میں چھپی تھی!سائنس دانوں نے ایسے آلات استعمال کیے جو کائناتی شعاعوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے نہایت باریک ذرات، جنہیں‘‘ میونز’’کہا جاتا ہے ، کی پیمائش کرتے ہیں۔یہ ذرات موٹے پتھروں سے بھی گزر سکتے ہیں۔ ان کی تعداد میں فرق دیکھ کر سائنس دان اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پتھروں کے پیچھے کہاں ٹھوس ساخت موجود ہے اور کہاں خالی جگہ۔جب مختلف آلات کے نتائج کا موازنہ کیا گیا تو ایک حیران کن حقیقت سامنے آئی۔اہرام کے اندر ایک وسیع خلا موجود تھا جسے جدید دور کی تحقیق نے اس سے پہلے شناخت نہیں کیا تھا۔
مگر آخر اس خالی جگہ میں کیا تھا؟
کوئی خفیہ تدفینی کمرہ؟
کسی نامعلوم تعمیراتی منصوبے کا حصہ؟
یا پتھروں کا وزن سنبھالنے کے لیے بنائی گئی ایک غیرمعمولی ساخت؟
سائنس دانوں کے پاس اس کے مقصد کا کوئی قطعی جواب نہیں تھا۔پھر مارچ 2023 میں اہرام نے ایک اور راز ظاہر کیا۔اس مرتبہ محققین نے شمالی حصے میں تقریباً نو میٹر لمبی ایک پوشیدہ راہداری کی تصدیق کی۔خصوصی آلات اور ایک چھوٹے کیمرے سے اس کے اندر جھانکا گیا۔سامنے پتھروں سے بنی ایک خاموش راہداری تھی۔اس کی چھت ڈھلوان پتھروں سے بنی تھی اور آخری سرے پر پتھریلی رکاوٹ دکھائی دیتی تھی۔وہاں نہ سونے کے ڈھیر تھے ، نہ کسی بادشاہ کا تخت، نہ کسی ممی کی باقیات۔لیکن سوال پھر بھی اپنی جگہ موجود تھا۔آخر قدیم معماروں نے یہ بند راہداری کیوں بنائی تھی؟کیا یہ اہرام کے وزن کو تقسیم کرنے کا انتظام تھا؟ کیا اس کے پیچھے تعمیراتی حکمت کا کوئی ایسا پہلو پوشیدہ تھا جسے ہم ابھی پوری طرح نہیں سمجھ سکے ؟

یہاں ایک اہم حقیقت جاننا ضروری ہے ۔
2017 میں دریافت ہونے والا بڑا خلا اور 2023میں سامنے آنے والی راہداری دو الگ ساختیں ہیں۔ ابھی تک ان کے درمیان کسی رابطے کا ثبوت نہیں ملا۔اور 2017والے بڑے خلا کی مکمل اندرونی شکل اور اصل مقصد بھی قطعی طور پر معلوم نہیں۔

ذرا سوچیے !
انسان چاند پر قدم رکھ چکا ہے ، دوسرے سیاروں تک خلائی جہاز بھیج چکا ہے ، لیکن زمین پر کھڑی ایک ساڑھے چار ہزار سال پرانی عمارت کے اندر موجود ایک بڑی خالی جگہ کا مقصد ابھی تک پوری طرح معلوم نہیں کرسکا۔یہی اہرامِ مصر کا اصل سنسنی خیز پہلو ہے ۔آخر قدیم مصری معمار اس عظیم عمارت کی اندرونی ساخت کے بارے میں کتنا جانتے تھے ؟

اور سب سے بڑا سوال!!
کیا عظیم اہرام کے اندر ابھی مزید ایسی نامعلوم جگہیں موجود ہیں جنہیں سائنس نے دریافت ہی نہیں کیا؟
اس سوال کا جواب ابھی مستقبل کے پردے میں چھپا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(تاریخی حوالہ:اس تحریر کی بنیاد 2نومبر 2017کو سائنسی جریدے Natureمیں شائع ہونے والی تحقیق اور مارچ 2023 میں شائع ہونے والی راہداری کی تحقیق پر ہے ۔)


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں