میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
پیٹرول کی قیمت کا کھیل، عالمی منڈی سے پاکستانی پمپ تک، اربوں روپے کس کی جیب میں جاتے ہیں؟

پیٹرول کی قیمت کا کھیل، عالمی منڈی سے پاکستانی پمپ تک، اربوں روپے کس کی جیب میں جاتے ہیں؟

جرات ڈیسک
بدھ, ۴ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

باسط علی
۔۔۔۔
قسط اول

٭عام صارف کے نزدیک پیٹرول کی قیمت وہ رقم ہے جو اسے پمپ پر ادا کرنا پڑتی ہے ۔ لیکن معاشیات میں یہ آخری قیمت کئی الگ قیمتوں، اخراجات اور سرکاری وصولیوں کا مجموعہ ہوتی ہے

٭اگر ایک ہی فیصلے سے صارف کو فائدہ اور ریفائنری کو نقصان پہنچ رہا ہے تو حکومت کا کردار کیا ہے ؟ کیا اس نے اپنی آمدن قربان کی، یا ایک معاشی فریق کی آمدن دوسرے فریق کو منتقل کرنے کا انتظام کیا؟

٭یہ تصور درست نہیں کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت معلوم ہوتے ہی پیٹرول کی مناسب قیمت بھی معلوم ہو جاتی ہے ۔پیٹرول کی بین الاقوامی قیمت اس کی اپنی طلب و رسد سے متعین ہوتی ہے

(ایک ایسے نظام کی دستاویزی چھان بین، جس میں عالمی منڈی قیمت کا حوالہ فراہم کرتی ہے ، حکومت قواعد بناتی ہے ، ریفائنریاں منافع کماتی ہیں اور بالآخر صارف پوری قیمت ادا کرتا ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پندرہ روپے کا ریلیف یا پندرہ ارب روپے کی منتقلی؟
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کے گرد جاری تنازع بظاہر چند روپے فی لیٹر کے اضافے یا کمی کا معاملہ ہے ، لیکن اس کی تہہ میں ریاستی مالیات، صنعتی منافع، درآمدی تجارت اور معاشی حکمرانی کے ایسے سوالات پوشیدہ ہیں جن کا جواب دیے بغیر کسی بھی نئے فارمولے کو عوامی مفاد کی ضمانت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حکومت کہتی ہے کہ اس نے پیٹرول کی قیمت میں پندرہ روپے کا ممکنہ اضافہ روک دیا۔ ریفائنریاں کہتی ہیں کہ ان پر اربوں روپے کا غیر متوقع بوجھ ڈال دیا گیا۔ معاشی ماہرین سوال اٹھاتے ہیں کہ جب صارف کو ریلیف دینا مقصود تھا تو حکومت نے اپنی پیٹرولیم لیوی میں براہِ راست کمی کیوں نہیں کی؟یہ تینوں مؤقف بیک وقت کسی حد تک درست ہو سکتے ہیں۔ اور یہی اس تنازع کی سب سے اہم حقیقت ہے ۔
30 ؍اکتوبر 2026کو وفاقی کابینہ نے پیٹرول کی قیمت کے تعین کا طریقہ ایک بار پھر تبدیل کیا۔ نئے انتظام کے تحت پاکستان اسٹیٹ آئل، یعنی پی ایس او، کے متعلقہ درآمدی کارگو کی حقیقی لاگت کو درآمدی قیمت کی بنیاد بنایا گیا، جبکہ مقامی ریفائنریوں کی قیمت میں شامل تین مخصوص اجزاء کو 7؍مارچ 2026 کی سطح پر تیس دن کے لیے محدود کر دیا گیا۔ دونوں قیمتوں کے درمیان فرق ریفائنریوں سے پیٹرولیم لیوی کے مخصوص سرکاری حساب میں جمع کرانے کا فیصلہ ہوا۔وزیرپیٹرولیم علی پرویز ملک کے مطابق اس انتظام سے صارفین پر پندرہ روپے فی لیٹر کا ممکنہ اضافی بوجھ نہیں پڑا، جبکہ مقامی ریفائنریاں ایک ماہ میں تقریباً پندرہ ارب روپے برداشت کریں گی۔ یہاں تحقیق کا پہلا سوال پیدا ہوتا ہے ،اگر ایک ہی فیصلے سے صارف کو فائدہ اور ریفائنری کو نقصان پہنچ رہا ہے تو حکومت کا کردار کیا ہے ؟ کیا اس نے اپنی آمدن قربان کی، یا ایک معاشی فریق کی آمدن دوسرے فریق کو منتقل کرنے کا انتظام کیا؟اس سوال کا جواب قیمت کے فارمولے کی ساخت میں موجود ہے ۔

پیٹرول کی قیمت آخر بنتی کیسے ہے ؟
عام صارف کے نزدیک پیٹرول کی قیمت وہ رقم ہے جو اسے پمپ پر ادا کرنا پڑتی ہے ۔ لیکن معاشیات میں یہ آخری قیمت کئی الگ قیمتوں، اخراجات اور سرکاری وصولیوں کا مجموعہ ہوتی ہے ۔سب سے پہلے خام تیل اور تیار پیٹرول میں فرق سمجھنا ضروری ہے ۔ خام تیل ایک بنیادی صنعتی جنس ہے ، جبکہ پیٹرول اس سے تیار ہونے والی متعدد مصنوعات میں سے ایک ہے ۔ ریفائنری خام تیل سے پیٹرول کے علاوہ ڈیزل، جیٹ فیول، فرنس آئل اور دوسری مصنوعات بھی حاصل کرتی ہے ۔ ان مصنوعات کی مقدار، معیار اور قیمت مختلف ہوتی ہے ۔
اس لیے یہ تصور درست نہیں کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت معلوم ہوتے ہی پیٹرول کی مناسب قیمت بھی معلوم ہو جاتی ہے ۔پیٹرول کی بین الاقوامی قیمت اس کی اپنی طلب و رسد سے متعین ہوتی ہے ۔ خام تیل کی قیمت میں معمولی اضافہ ہو، لیکن ریفائنریوں کی پیداواری صلاحیت متاثر ہو جائے تو تیار پیٹرول کی قیمت کہیں زیادہ بڑھ سکتی ہے ۔ اس کے برعکس خام تیل مہنگا ہونے کے باوجود تیار مصنوعات کی کمزور طلب ریفائننگ مارجن محدود کر سکتی ہے ۔پاکستان جیسے ملک میں، جہاں مقامی پیداوار اور درآمد دونوں سے ضروریات پوری کی جاتی ہیں، قیمت کے حساب میں ایک اور پیچیدگی شامل ہو جاتی ہے ۔مقامی طور پر تیار پیٹرول کی قیمت کیا اس کی حقیقی پیداواری لاگت کے مطابق ہونی چاہیے ، یا اس قیمت کے مطابق جس پر وہی پیٹرول بیرونِ ملک سے خریدا جا سکتا ہے ؟یہ محض حساب کا اختلاف نہیں۔ اس کے نتیجے میں اربوں روپے کی آمدن ایک معاشی فریق سے دوسرے کی طرف منتقل ہو سکتی ہے ۔

درآمدی مساوی قیمت:ایک معاشی اصول جسے سمجھنا ضروری ہے
پیٹرولیم کی بین الاقوامی تجارت میں ایک معروف تصور Import Parity Pricing ہے ، یعنی درآمدی مساوی قیمت۔اس اصول کے مطابق مقامی طور پر تیار ہونے والی کسی شے کی قیمت اس متبادل لاگت سے منسلک کی جاتی ہے جو اسی معیار کی شے بیرونِ ملک سے درآمد کرنے پر برداشت کرنا پڑتی۔فرض کیجیے پاکستان میں تیار پیٹرول کی بین الاقوامی حوالہ جاتی قیمت 100روپے فی لیٹر ہے ۔ اسے بیرونِ ملک سے منگوانے پر قابلِ اطلاق پریمیم، سمندری نقل و حمل، بیمہ اور دیگر اخراجات مزید 15روپے بنتے ہیں۔ اس صورت میں درآمدی مساوی قیمت 115روپے ہو سکتی ہے ، اگرچہ مقامی ریفائنری نے تیار پیٹرول درآمد نہیں کیا۔پہلی نظر میں یہ عجیب محسوس ہوتا ہے ۔ مقامی ریفائنری کو ایسے اخراجات کی بنیاد پر قیمت کیوں ملے جو اس نے براہِ راست برداشت نہیں کیے ؟اس کا معاشی جواب متبادل حصول کی لاگت، یعنی Opportunity Cost میں ہے ۔اگر ملک کو اضافی پیٹرول 115روپے میں درآمد کرنا پڑے ، تو مقامی پیٹرول کی معاشی قدر بھی اسی متبادل سے متاثر ہوگی۔ درآمدی مساوی قیمت کا مقصد مقامی اور درآمدی پیداوار کے لیے ایک مشترک حوالہ فراہم کرنا اور سرمایہ کاری و پیداوار کے فیصلوں کو بین الاقوامی مارکیٹ سے منسلک رکھنا ہوتا ہے ۔لیکن اس اصول کی ایک نہایت اہم شرط ہے :درآمدی مساوی قیمت حقیقی، قابلِ تصدیق اور متعلقہ متبادل لاگت کی نمائندگی کرے ۔اگر اس میں غیر ضروری اخراجات، غیر نمائندہ کارگو پریمیم یا ایسی ڈیوٹیاں شامل ہوں جن کی معاشی حیثیت واضح نہ ہو، تو قیمت میں پیدا ہونے والا فرق معمول کی مسابقتی آمدن کے بجائے ریگولیٹری فائدے کی شکل اختیار کر سکتا ہے ۔یہاں ایک اور باریک فرق بھی ہے ۔ کسٹمز ڈیوٹی حکومت کی وصولی ہے ، جبکہ شپنگ اور بیمہ خدمات کی لاگت ہیں۔ ان دونوں کو یکساں معاشی خرچ سمجھنا درست نہیں۔ ڈیوٹی سے پیدا ہونے والا قیمت کا فرق ریاستی پالیسی کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ درآمدی مساوی قیمت میں کسٹمز ڈیوٹی شامل کرنے کا جواز محض حسابی نہیں، مالیاتی اور صنعتی پالیسی سے بھی متعلق ہے ۔یہی وجہ ہے کہ کسی مقامی ریفائنری کو درآمدی مساوی قیمت دینا بذاتِ خود غلط نہیں، لیکن اس قیمت کے ہر جزو کی آزادانہ جانچ ناگزیر ہے ۔

  • قیمت کا فارمولا اسی وقت قابلِ اعتماد ہوگا جب اس کے بنیادی اعداد، حساب کے قواعد، استثنائی فیصلے ، وصولیوں کا ریکارڈ اور صارف کو منتقل ہونے والے فوائد آزادانہ جانچ کے لیے دستیاب ہوں۔30اکتوبر کے فیصلے سے ایک اہم بات ضرور سامنے آئی ہے ۔پیٹرول کی قیمت کے وہ اجزاء جنہیں عام صارف اکثر عالمی منڈی کی ناگزیر حقیقت سمجھتا ہے ، ان میں بعض حکومتی قواعد اور پالیسی فیصلوں سے بھی متعین ہوتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت ہر قیمت اپنی مرضی سے مقرر کر سکتی ہے ، یا عالمی منڈی کی لاگت غیر متعلقہ ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی قیمت اور صارف کی قیمت کے درمیان موجود فاصلہ معاشی تحقیق اور عوامی جواب دہی کا جائز موضوع ہے ۔

دنیا میں یہ نظام کہاں استعمال ہوتا ہے ؟
پاکستان درآمدی مساوی قیمت کا اصول استعمال کرنے والا واحد ملک نہیں۔ جنوبی افریقہ اس کی ایک نمایاں مثال ہے ۔جنوبی افریقہ کے سرکاری نظام میں بنیادی ایندھن قیمت، یعنی Basic Fuel Price، بین الاقوامی تیار مصنوعات کی قیمت، شپنگ، بیمہ اور متعلقہ درآمدی اخراجات سے اخذ ہوتی ہے ۔ اس میں مقامی ٹیکس، نقل و حمل اور منظور شدہ مارجن شامل کر کے صارف کی قیمت بنتی ہے ۔اہم بات یہ ہے کہ جنوبی افریقہ میں بنیادی قیمت کا حساب روزانہ کیا جاتا ہے ، لیکن پیٹرول کی سرکاری ریٹیل قیمت عموماً ماہانہ تبدیل ہوتی ہے ۔ وہاں کے سرکاری محکمے کے مطابق یہ نظام درآمدی مساوی قیمت کے اصول پر کھڑا ہے ۔اس مثال سے دو نتائج سامنے آتے ہیں۔پہلا یہ کہ درآمدی مساوی قیمت کوئی پاکستانی ایجاد نہیں۔ دوسرا یہ کہ قیمت کا روزانہ حساب اور روزانہ صارف قیمت میں تبدیلی دو مختلف انتظامی فیصلے ہیں۔پاکستان میں روزانہ قیمت کے تعین کو دنیا کا منفرد تجربہ قرار دینے کے لیے اس فرق کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ پاکستان روزانہ حساب کے لیے کون سا ڈیٹا استعمال کرتا ہے ، اس کی تصدیق کون کرتا ہے ، اور قیمت میں تبدیلی کا فائدہ یا نقصان کتنی جلدی صارف تک منتقل ہوتا ہے ۔جنوبی افریقہ کے سرکاری طریقہ کار میں ایک اور قابلِ غور پہلو موجود ہے ۔بنیادی قیمت کے حساب کے لیے ایک نسبتاً غیر جانب دار ادارہ مقرر ہے اور ماہانہ حسابات کے آزادانہ آڈٹ کا انتظام بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کے موجودہ تنازع میں قیمت کے بنیادی اعداد، سرکاری ہدایات اور صنعتی اعتراضات کے درمیان شفافیت کا سوال پوری شدت سے سامنے آیا ہے ۔یہ موازنہ ظاہر کرتا ہے کہ مسئلہ صرف فارمولا منتخب کرنے کا نہیں، اصل اہمیت اس ادارہ جاتی نظام کی ہے جو فارمولے کو قابلِ اعتماد بناتا ہے ۔

پی ایس او کا کارگو پورے ملک کی قیمت کا معیار کیوں؟
پاکستان کے نئے انتظام کا ایک مرکزی پہلو یہ ہے کہ درآمدی پیٹرول کی قیمت متعین کرنے کے لیے پی ایس او کے متعلقہ کارگو کی حقیقی درآمدی لاگت استعمال ہوگی۔ اگر کسی روز یہ معلومات دستیاب نہ ہوں تو آخری دستیاب کارگو کے پریمیم، ضمنی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی سے مدد لی جائے گی۔بظاہر یہ فیصلہ قیمت کو اندازوں کے بجائے حقیقی خریداری سے منسلک کرتا ہے ۔ لیکن یہاں ایک اہم معاشی سوال پیدا ہوتا ہے ۔کیا کسی ایک درآمد کنندہ کے کارگو کی لاگت پوری ملکی مارکیٹ کی نمائندہ قیمت قرار دی جا سکتی ہے ؟ایک ہی دن مختلف کمپنیوں کے درآمدی کارگو کی قیمتیں مختلف ہو سکتی ہیں۔ کسی کمپنی نے طویل مدتی معاہدے کے تحت خریداری کی ہوگی، دوسری نے فوری مارکیٹ سے مال خریدا ہوگا۔ کسی کا پریمیم زیادہ ہوگا، کسی کی شپنگ لاگت کم۔ کارگو کا حجم، بندرگاہ، معیار، ادائیگی کی شرائط اور خریداری کا وقت بھی قیمت پر اثرانداز ہوتے ہیں۔اگر پی ایس او کا کوئی کارگو غیر معمولی مہنگا خریدا گیا ہو تو اس کی لاگت کو عمومی معیار بنانے سے پوری مارکیٹ میں قیمت بڑھ سکتی ہے ۔ اگر وہ غیر معمولی سستا ہو تو دوسری کمپنیوں کی حقیقی درآمدی لاگت پوری نہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے ۔معاشیات میں اسے Benchmark Risk کہا جا سکتا ہے ، یعنی حوالہ جاتی قیمت کا اصل مارکیٹ کی نمائندگی نہ کرنا۔ایک مضبوط نظام میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ حوالہ جاتی قیمت کتنے سودوں کی نمائندگی کرتی ہے ، ان کا حجم کیا ہے ، اور غیر معمولی سودوں کو حساب میں کس طرح برتا جاتا ہے ۔
پی ایس او کے کارگو کی حقیقی لاگت کو بنیاد بنانا اس وقت زیادہ قابلِ اعتماد ہوگا جب کارگو کی خریداری مسابقتی اور قابلِ آڈٹ ہو، اس کی قیمت مارکیٹ کے عمومی حالات کی نمائندگی کرے اور مختلف درآمد کنندگان کی لاگت کے درمیان فرق کی باقاعدہ جانچ کی جائے ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ پی ایس او کی خریداری میں کوئی بے ضابطگی ثابت ہو چکی ہے ۔ مطلب صرف یہ ہے کہ ایک حقیقی قیمت لازماً نمائندہ قیمت نہیں ہوتی۔یہ فرق نئے فارمولے کی معاشی جانچ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔

30 ؍اکتوبر کا فیصلہ:کیا بدلا، کیا نہیں بدلا؟
اس فیصلے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ حکومت نے مقامی ریفائنریوں کی پوری قیمت منجمد نہیں کی۔ اس نے قیمت میں شامل پریمیم، ضمنی اخراجات اور کسٹمز ڈیوٹی کو 7؍مارچ 2026 کی سطح پر محدود کیا۔یہ فرق غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے ۔اگر عالمی مارکیٹ میں تیار پیٹرول کی بنیادی حوالہ جاتی قیمت بڑھتی ہے تو مقامی ریفائنری کی قیمت میں اس کا اثر برقرار رہ سکتا ہے ۔ پابندی مخصوص اضافی اجزاء پر لگائی گئی ہے ، پوری مصنوعات کی قیمت پر نہیں۔حکومتی مراسلے کے مطابق درآمدی قیمت اور مقامی ریفائنری کی مقررہ قیمت کے درمیان فرق سرکاری حساب C03901میں پیٹرولیم لیوی کے تحت جمع ہونا ہے ۔ ریفائنریوں کو روزانہ مقامی فروخت کا ریکارڈ اور ادائیگی کے چالان بھی جمع کرانے ہیں۔اس انتظام کی معاشی نوعیت کو سمجھنے کے لیے ایک مثال کافی ہے ۔فرض کریں درآمدی قیمت 150روپے اور مقامی ریفائنری کے لیے منظور شدہ قیمت 120روپے فی لیٹر ہے ۔ دونوں میں 30روپے کا فرق ہے ۔ نئے انتظام میں یہ فرق ریفائنری کی قابلِ استعمال آمدن بننے کے بجائے حکومت کے مخصوص حساب میں منتقل ہوگا۔اگر یہ رقم صارف کی قیمت میں مساوی کمی کے لیے استعمال ہوتی ہے تو صارف کو فائدہ ہوگا۔ لیکن اس فائدے کی مالی ذمہ داری ریفائنری برداشت کرے گی، نہ کہ لازماً وفاقی خزانہ۔اس لیے یہاں حکومت کی اپنی مالی قربانی اور حکومت کے ذریعے منظم کردہ مالی منتقلی میں فرق رکھنا ضروری ہے ۔

پندرہ روپے کا دعویٰ:اصل حساب کیا بتاتا ہے ؟
31 ؍اکتوبر سے نافذ قیمتوں کے بارے میں شائع شدہ اعداد اس تنازع کو محض نظری بحث نہیں رہنے دیتے ۔بزنس ریکارڈر کی 31؍اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پیٹرول کی ایکس ریفائنری حوالہ جاتی قیمت 267.13روپے سے بڑھ کر 282.26روپے فی لیٹر ہوئی، یعنی 15.13روپے کا اضافہ۔ اس کے باوجود صارف کے لیے پیٹرول کی قیمت 377.91روپے فی لیٹر برقرار رکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 14.71 روپے فی لیٹر کی ایڈجسٹمنٹ ریفائنریوں کے ذریعے پیٹرولیم لیوی کے انتظام سے کی گئی۔یہ اعداد حکومتی مؤقف کے ایک اہم حصے کی تائید کرتے ہیں۔قیمت کے بنیادی حساب میں اضافہ ہوا، لیکن صارف کی اعلان کردہ قیمت نہیں بڑھائی گئی۔تاہم اس سے تین باتیں خودبخود ثابت نہیں ہوتیں۔
اول، یہ کہ قیمت میں اضافہ نہ ہونے کا پورا فائدہ مستقل طور پر صارف کو ملے گا۔
دوم، یہ کہ ریفائنریوں سے تمام مطلوبہ رقم حقیقتاً وصول ہو چکی ہے ۔
سوم، یہ کہ حکومت کے پاس ریلیف فراہم کرنے کا یہی واحد راستہ تھا۔
یہاں ایک اور دلچسپ حساب سامنے آتا ہے ۔اسی رپورٹ کے مطابق پیٹرول پر پیٹرولیم لیوی 80روپے اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر تھی۔ یعنی دونوں مدوں میں مجموعی طور پر 85روپے وصول کیے جا رہے تھے ۔ 377.91روپے کی صارف قیمت میں یہ تقریباً 22.5فیصد بنتے ہیں۔ اس حساب میں دوسرے قابلِ اطلاق ٹیکسوں اور وصولیوں کو شامل نہیں کیا گیا۔گویا حکومت کے پاس اپنی مقرر کردہ وصولیوں میں تبدیلی کا راستہ بھی موجود تھا، اگرچہ اس کے مالیاتی نتائج الگ ہوتے ۔حکومت نے اس کے بجائے ریفائنریوں سے مالی منتقلی کا طریقہ اختیار کیا۔اس فیصلے کو سمجھنے کے لیے ایک اور بنیادی فرق اہم ہے ۔قیمت نہ بڑھانا اور قیمت کم کرنا ایک جیسے نتائج نہیں رکھتے ۔اگر پیٹرول 377.91روپے پر برقرار رہتا ہے تو صارف کو سابقہ قیمت کے مقابلے میں کوئی نقد بچت نہیں ہوتی۔ اسے اس متبادل صورتحال کے مقابلے میں فائدہ ہوتا ہے جس میں قیمت بڑھ سکتی تھی۔یہ حقیقی معاشی تحفظ ہو سکتا ہے ، لیکن اس کی مقدار ایک قابلِ تصدیق متبادل قیمت کے حساب سے ہی ثابت کی جا سکتی ہے ۔

ریفائنریوں کا غیر معمولی منافع: کاروباری کامیابی یا قیمت کا فائدہ؟
حکومت نے اپنے فیصلے کے دفاع میں ریفائنریوں کے غیر معمولی منافع کا حوالہ دیا۔بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق جولائی سے ستمبر 2026 کی سہ ماہی میں اٹک ریفائنری کا خالص منافع 18.65ارب، نیشنل ریفائنری کا 11.57ارب اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کا 13.97ارب روپے رہا۔ ایک سال پہلے اسی مدت میں ان تینوں کمپنیوں کا مجموعی منافع تقریباً 3.50ارب روپے تھا، جو بڑھ کر 44.19 ارب روپے ہوگیا۔ یہ اعداد بی بی سی کی رپورٹ کردہ مالی معلومات پر مبنی ہیں۔یہ غیر معمولی اضافہ ضرور ہے ، لیکن اس کی معاشی تشریح کے لیے خالص منافع سے آگے جانا ہوگا۔ریفائنری کا منافع صرف پیٹرول سے نہیں بنتا۔ اس کا تعلق خام تیل کی خریداری، تیار مصنوعات کی قیمتوں، پیداواری ترکیب، ذخیرے کی قدر، مالیاتی اخراجات اور مختلف مصنوعات کے مارجن سے ہوتا ہے ۔خاص طور پر Crack Spread یا خام تیل اور تیار مصنوعات کی قیمتوں کا فرق نہایت اہم ہے ۔ اگر عالمی مارکیٹ میں ڈیزل کی قلت پیدا ہو جائے تو ڈیزل کی قیمت خام تیل سے زیادہ تیزی سے بڑھ سکتی ہے ۔ اس سے ریفائنری کا مجموعی مارجن بہتر ہو سکتا ہے ، خواہ اس نے اپنی پیداواری کارکردگی میں کوئی غیر معمولی بہتری نہ کی ہو۔اسی طرح کم قیمت پر خریدے گئے خام تیل کے ذخیرے کی قدر بڑھنے سے انوینٹری گین حاصل ہو سکتا ہے ۔ لیکن حسابی ذخیرہ جاتی فائدے ، فروخت سے حاصل شدہ نقد منافع اور مستقل پیداواری منافع میں فرق ہوتا ہے ۔اس لیے تین ماہ کا غیر معمولی منافع دیکھ کر یہ نتیجہ نکالنا کہ ریفائنریاں آئندہ بھی کسی قیمت پر پیٹرول فروخت کر سکتی ہیں، معاشی طور پر درست نہیں۔دوسری طرف ریفائنریوں کا یہ کہنا بھی کافی نہیں کہ ان کا سارا منافع جائز کاروباری سرگرمی کا نتیجہ ہے ۔ اگر قیمت کے سرکاری فارمولے سے ایسی اضافی آمدن پیدا ہوئی جس کا تعلق ان کی حقیقی لاگت یا متعلقہ متبادل درآمدی قیمت سے نہیں تھا، تو اس آمدن کی نوعیت کی جانچ ضروری ہے ۔اصل سوال منافع زیادہ ہونے کا نہیں، منافع پیدا ہونے کے ذرائع کا ہے ۔

حکومت، ریفائنریاں اور صارف:تین الگ حساب
اس پورے تنازع میں ایک بنیادی معاشی اصول بار بار سامنے آتا ہے ۔کسی رقم کا قانونی طور پر کون ادا کنندہ ہے ، اور اس کا حتمی معاشی بوجھ کون اٹھاتا ہے ، یہ دو مختلف سوال ہیں۔حکومت ریفائنری پر وصولی عائد کر سکتی ہے ، لیکن اس کا حتمی اثر ریفائنری کے منافع، مستقبل کی سرمایہ کاری، پیداوار، قرض کی لاگت یا کسی بعد کی قیمت میں ظاہر ہو سکتا ہے ۔اسی طرح حکومت پیٹرولیم لیوی کم کر سکتی ہے ، لیکن اس سے وفاقی آمدن متاثر ہوگی۔ اگر آمدن کا خسارہ دوسرے ٹیکسوں یا قرض سے پورا کیا جائے تو اس کے الگ معاشی نتائج ہوں گے ۔اس لیے صارف کو فوری ریلیف دینے کا کوئی بھی فیصلہ صرف آج کی پمپ قیمت سے نہیں جانچا جا سکتا۔ اس کے لیے کم از کم تین حساب ضروری ہیں۔
پہلا، صارف کو ملنے والا حقیقی اور متبادل قیمت کے مقابلے میں فائدہ۔ دوسرا، حکومت کی مجموعی خالص آمدن میں تبدیلی۔ تیسرا، صنعت کی پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاری پر ممکنہ اثر۔
اگر حکومت ان تینوں حسابات کو الگ الگ شائع کرے تو قیمت کے فیصلے کا معاشی بوجھ زیادہ واضح ہو سکتا ہے ۔

اصل مسئلہ: قیمت کا فارمولا یا اسے چلانے والا نظام؟
پاکستان کے موجودہ تنازع سے ایک اہم نتیجہ سامنے آتا ہے ۔ پیٹرول کی قیمت کا تعین محض عالمی نرخوں کو روپے میں تبدیل کرنے کا عمل نہیں۔ یہ ایک ایسا انتظامی فیصلہ بھی ہے جس میں درآمدی معیار، مقامی صنعت کی آمدن، ٹیکسوں کی شرح اور صارف کو منتقل ہونے والے اخراجات طے کیے جاتے ہیں۔درآمدی مساوی قیمت کا اصول اپنی جگہ معاشی جواز رکھتا ہے ۔ حقیقی درآمدی لاگت استعمال کرنے کا فیصلہ بھی قابلِ فہم ہے ۔ غیر معمولی منافع کے دوران صارفین کو تحفظ دینا بھی ایک جائز پالیسی مقصد ہو سکتا ہے ۔لیکن ان میں سے کسی ایک اصول کا درست ہونا پورے نظام کی شفافیت ثابت نہیں کرتا۔قیمت کا فارمولا اسی وقت قابلِ اعتماد ہوگا جب اس کے بنیادی اعداد، حساب کے قواعد، استثنائی فیصلے ، وصولیوں کا ریکارڈ اور صارف کو منتقل ہونے والے فوائد آزادانہ جانچ کے لیے دستیاب ہوں۔30اکتوبر کے فیصلے سے ایک اہم بات ضرور سامنے آئی ہے ۔پیٹرول کی قیمت کے وہ اجزاء جنہیں عام صارف اکثر عالمی منڈی کی ناگزیر حقیقت سمجھتا ہے ، ان میں بعض حکومتی قواعد اور پالیسی فیصلوں سے بھی متعین ہوتے ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ حکومت ہر قیمت اپنی مرضی سے مقرر کر سکتی ہے ، یا عالمی منڈی کی لاگت غیر متعلقہ ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی قیمت اور صارف کی قیمت کے درمیان موجود فاصلہ معاشی تحقیق اور عوامی جواب دہی کا جائز موضوع ہے ۔
پاکستان کے لیے بنیادی سوال یہ نہیں کہ پیٹرول کی قیمت روزانہ بدلی جائے ، پندرہ دن بعد یا مہینے میں ایک بار۔ اصل سوال یہ ہے کہ قیمت کا تعین کرنے والے ہر روپے کی معاشی بنیاد کیا ہے ، اس سے فائدہ کسے پہنچتا ہے ، اور اس کی قیمت کون ادا کرتا ہے ۔جب تک یہ حساب واضح نہیں ہوتا، ہر نیا فارمولا اپنے ساتھ ایک نیا تنازع لے کر آئے گا۔
اور یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ فیصلے کی بحث پاکستان کی پیٹرولیم قیمتوں کی طویل تاریخ سے جا ملتی ہے ۔
٭٭٭

 


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں