میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
سندھ ،تعلیمی اداروں ،مدارس میں طلبہ پرجسمانی تشددجرم قرار

سندھ ،تعلیمی اداروں ،مدارس میں طلبہ پرجسمانی تشددجرم قرار

ویب ڈیسک
منگل, ۴ اکتوبر ۲۰۲۲

شیئر کریں

ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن کی ایڈیشنل ڈائریکٹر پروفیسر رفیعہ ملاح نے نجی تعلیمی اداروں میں طلبہ کو جسمانی سزا کے دینے کا سخت نوٹس لے لیا۔ ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشن کی ایڈشنل ڈائریکٹر پروفیسر رفیعہ ملاح نے تمام نجی اسکولوں کو مراسلہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ فارم ‘B’ (رجسٹریشن سرٹیفکیٹ)کی شرط ‘4(h)’ کے تحت طلبہ کو کسی بھی صورت میں جسمانی سزا نہ دی جائے۔انہوں نے مراسلے میں بتایا ہے کہ اس حوالے سے محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی ۔ حکومت سندھ نے مذکورہ ایکٹ کے تحت قواعد بنائے ہیں، تمام ادارے پابند ہیں کہ ان قواعد پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے۔انہوں نے متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی بھی اسکول میں اس نوعیت کا کوئی بھی واقعہ پیش آیا تو سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول)آرڈیننس 2001، ترمیمی ایکٹ 2003 کے سیکشن-8 (رجسٹریشن کے سرٹیفکیٹ کی منسوخی/ معطلی)کے تحت سخت کارروائی کرنے کی مجاز ہوگی۔واضح رہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ پر جسمانی تشدد کے قابل تشویش واقعات کثرت سے پیش آرہے ہیں جس کے پیش نظر گزشتہ برس حکومت سندھ نے سندھ پروہبیشن آف کارپورل پنشمنٹ ایکٹ 2016 بل پیش کیا گیا تھا۔مذکورہ قانون کے تحت تعلیمی اداروں اور مدارس میں بچوں کو سزا دینا، جسمانی، ذہنی و جذباتی نقصان پہنچانا جرم ہوگا۔قانون کے تحت بچوں کو جنسی استحصال کرنے کے خلاف بھی سخت سزا دی جاسکتی ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں