میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
شاہراہ فیصل پر جلسے کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی، شرجیل میمن کا ایم کیو ایم کو چیلنج

شاہراہ فیصل پر جلسے کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی، شرجیل میمن کا ایم کیو ایم کو چیلنج

جرات ڈیسک
منگل, ۳ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

سندھ میں آٹے کی قیمت 17 روپے فی کلو کم ہونا شروع ہوگئی

سرکاری گندم کی ریلیز پرائس 5 ہزار سے کم کرکے 4 ہزار 500 روپے فی 40 کلوگرام مقرر کرنے کی منظوری

کراچی میں ٹریفک مینجمنٹ اتھارٹی اور اسمارٹ ٹریفک سسٹم قائم کیا جائے گا،

شاہراہ فیصل پر کسی سیاسی جماعت کو جلسے کی اجازت نہیں ہوگی، سینئر وزیر

 

سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ کابینہ نے سرکاری گندم کی ریلیز پرائس 5 ہزار روپے سے کم کرکے 4 ہزار 500 روپے فی 40 کلوگرام کرنے کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں آٹے کی قیمت میں 17 روپے فی کلو کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ کراچی میں سندھ کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ کابینہ نے لیڈی ڈفرن اسپتال ٹرسٹ کو سندھ ٹرسٹ ایکٹ 2020 کے تحت رجسٹر کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔ اس کے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے سندھ کے پانچ ڈویڑنل ہیڈ کوارٹرز میں شہری ترقی کے لیے ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تیاری سے متعلق پروگرام کی بعد از وقت منظوری دی گئی ہے۔ اس پروگرام کے تحت پانی کی فراہمی، نکاسی آب، صفائی اور سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے منصوبے تیار کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے سندھ چیریٹیز رجسٹریشن اینڈ ریگولیشن ایکٹ 2019 کے تحت خیراتی اداروں کی رجسٹریشن اور نگرانی کے لیے ڈرافٹ رولز 2026 کی بھی منظوری دی ہے۔ ضلع جامشورو کی پانچ ترقیاتی اسکیموں کے لیے 502.409 ملین روپے کے اضافی فنڈز منظور کیے گئے ہیں، جن میں سیہون شہر کی واٹر سپلائی اسکیم اور آر او پلانٹس کی تنصیب کے لیے فنڈز بھی شامل ہیں۔شرجیل میمن کے مطابق کابینہ نے نوابشاہ ٹاؤن، ضلع شہید بینظیر آباد میں پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے 2 ارب 99 کروڑ 34 لاکھ 26 ہزار روپے کی لاگت سے ترقیاتی اسکیم کی منظوری دی ہے۔ کچی آبادیوں سے متعلق معاملات کے حل کے لیے کابینہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جو اس شعبے میں ون ونڈو آپریشن کے قیام کے لیے قوانین اور تجاویز مرتب کرے گی۔

کراچی میں ٹریفک کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سینئر وزیر نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ شہر میں ٹریفک مینجمنٹ اتھارٹی قائم کی جائے گی اور اس مقصد کے لیے قانون جلد منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ اسمارٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم بھی متعارف کرایا جائے گا تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر بنانے اور قوانین کی خلاف ورزیوں کی نگرانی ممکن ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ فینسی اور غیر قانونی نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی ہوگی، جبکہ اسلحے کی نمائش کرنے والوں کے خلاف بھی سخت قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔ سادہ لباس میں اسلحے کی نمائش کرنے والوں کو گرفتار کیا جائے گا اور اسلحہ رکھنے والے گارڈ کے ساتھ متعلقہ گاڑی کے مالک کو بھی حراست میں لیا جائے گا۔شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ہر معاملے کی ذمہ داری حکومت پر ڈالنا درست نہیں، شہریوں کو بھی قانون کی پابندی کرنا ہوگی۔ کم عمر بچوں کا گاڑی یا موٹر سائیکل چلانا قانوناً ممنوع ہے، اس کے باوجود شہر کے پوش علاقوں میں ون ویلنگ جیسے خطرناک کرتب دکھائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ون وے کی خلاف ورزی کے سنگین نتائج ہوسکتے ہیں، اس لیے شہریوں کو ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔انہوں نے ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ ٹریفک قوانین کی پابندی سے متعلق عوامی آگاہی مہم میں اپنا کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ اور ٹریفک حادثات کی روک تھام ہے، اس لیے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ تجاوزات سے متعلق سوال پر شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت کسی کا روزگار متاثر نہیں کرنا چاہتی، تاہم قانون کی عمل داری اور شہریوں کی سہولت پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت کے ساتھ عوام کو بھی اپنی ذمہ داریاں ادا کرنا ہوں گی۔ شہر کی سڑکوں سے تجاوزات کا خاتمہ یقینی بنایا جائے گا تاکہ آمدورفت میں شہریوں کو مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سیاسی جلسوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی جماعت کو جلسہ کرنے کے لیے متعلقہ حکام سے باقاعدہ اجازت حاصل کرنا ہوگی اور سرگرمی پْرامن و قانونی طریقے سے انجام دینا ہوگی۔ شاہراہ فیصل پر کسی بھی سیاسی جماعت کو جلسے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے ایم کیو ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شاہراہ فیصل پر جلسے کی اجازت ہرگز نہیں ہوگی اور 12 مئی جیسے واقعات دہرانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سینئر وزیر نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی سرگرمیاں انجام دینے کی آزادی حاصل ہے، تاہم کوئی فریق حکومت پر اپنا فیصلہ مسلط نہیں کرسکتا۔ حکومت تصادم اور بدامنی کی فضا پیدا نہیں ہونے دے گی اور آئین و قانون کی بالادستی ہر صورت مقدم رہے گی۔

صوبوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت اپنا مؤقف واضح کرچکی ہیں۔ ان کے مطابق سندھ اسمبلی سے بالاتر کوئی قانون یا فیصلہ نہیں ہوسکتا اور منتخب صوبائی اسمبلی اس معاملے پر اپنا فیصلہ دے چکی ہے۔ انہوں نے مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور خالد مقبول کے بارے میں تنقیدی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کی عوامی حیثیت ایسی نہیں کہ وہ کونسلر بھی منتخب ہوسکیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ رہنما براہ راست عوامی ووٹوں کے بجائے بیک ڈور طریقے سے اسمبلیوں میں پہنچے ہیں۔ گھوٹکی، کندھ کوٹ پل کی تعمیر سے متعلق سینئر وزیر نے بتایا کہ دریائے سندھ پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت تعمیر ہونے والے اس پل کا 75 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور منصوبے پر کام تیزی سے جاری ہے۔تھرپارکر ایمبولینس واقعے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کے لیے امدادی رقم کا اعلان کیا ہے۔ واقعے کے بعد حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ضروری اقدامات کیے۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کے سندھ میں ترقیاتی منصوبوں کے دوروں کے حوالے سے شرجیل میمن نے کہا کہ صدر مملکت صوبے بھر میں جاری منصوبوں کا دورہ کرکے ان کی پیش رفت کا جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ایک زیر تعمیر سڑک کا بیشتر کام مکمل ہوچکا ہے اور صرف مختصر حصہ باقی ہے۔ نومبر کے آخر تک 100 سے زائد الیکٹرک بسیں سندھ پہنچ جائیں گی، جبکہ ڈبل ڈیکر بسیں بھی جلد صوبے میں پہنچ جائیں گی۔ ریڈ لائن بی آر ٹی کے ڈپو کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں