میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

یلو لائن منصوبے میں 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی بے ضابطگیاں، اینٹی کرپشن نے چالان جمع کرادیا

جرات ڈیسک
منگل, ۳ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت چار افسران نامزد، ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیوں اور قواعد کی خلاف ورزیوں کا الزام

صوبائی اینٹی کرپشن عدالت میں یلو لائن منصوبے میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے مقدمے میں اینٹی کرپشن حکام نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت دیگر ملزمان کے خلاف چالان عدالت میں جمع کرادیا۔

چالان میں منصوبے کے دوران 8 ارب 56 کروڑ روپے سے زائد کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، غیر قانونی ادائیگیوں اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔چالان کے مطابق ملزمان نے عالمی بینک کے مالی تعاون سے جاری منصوبوں میں طے شدہ طریقہ کار کو نظرانداز کیا اور ٹھیکیداروں کو اربوں روپے کی پیشگی ادائیگیاں کیں۔

ٹھیکیداروں کو مجموعی طور پر 8 ارب 56 کروڑ 77 لاکھ 74 ہزار 416 روپے ایڈوانس ادا کیے گئے۔اینٹی کرپشن کے چالان میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی، ڈائریکٹر ٹیکنیکل طٰہٰ عزیز سید، ڈپٹی ڈائریکٹر پروکیورمنٹ سلیم حسین بھایو اور سابق ڈائریکٹر پروکیورمنٹ جہان داس کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

چالان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ملزمان نے عالمی بینک کے خریداری کے طریقہ کار اور تعمیراتی معاہدوں کی شرائط کی خلاف ورزی کی۔ منصوبوں کی فزیکل پیش رفت کے مقابلے میں مالی ادائیگیاں زیادہ کی گئیں اور ٹھیکیداروں کو قواعد و ضوابط کے برخلاف پیشگی رقوم جاری کی گئیں۔سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی پر اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال، سابق ڈائریکٹر پروکیورمنٹ جہان داس پر معاہدوں اور پروکیورمنٹ قواعد کی خلاف ورزی جبکہ ڈائریکٹر ٹیکنیکل طٰہٰ عزیز سید اور ڈپٹی ڈائریکٹر پروکیورمنٹ سلیم حسین بھایو پر ادائیگیوں میں مبینہ معاونت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔عدالت نے چالان کی روشنی میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر احمد عباسی سمیت دیگر نامزد ملزمان کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں