میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بنوریہ قبضہ گروپ نے بنوری ٹاؤن مدرسے کو بھی نہیں بخشا

بنوریہ قبضہ گروپ نے بنوری ٹاؤن مدرسے کو بھی نہیں بخشا

ویب ڈیسک
جمعه, ۹ ستمبر ۲۰۲۲

شیئر کریں

مفتی نعیم مرحوم نے ٹرسٹ میں ہیر پھیر کرکے خود حضرت بنوری کے خاندان کے غیر متعلق لوگوں کو استعمال کرنے کی مذموم سازش بھی کی
بنوری ٹاؤن پر قبضے کے لیے ظفر سولیجا کندھے کو استعمال کرنے کی بھونڈی کوشش کی، علمائے کرام کے ساتھ پراسرار واقعات پیش آئے
کراچی(نمائندہ جرأت) بنوریہ قبضہ گروپ سائٹ کی سب سے بدنام زمانہ اور قبیح حرکت مدارس کی دنیا کے قابلِ قدر اور محترم ادارے بنوری ٹاؤن پر قبضے کی کوشش تھی۔ نیو ٹاؤن پر واقع اس روشن ادارے سے انتہائی نامور شخصیات نے جنم لیا ہے، جن کے نام نامی نے علم ودین کے متعدد چراغ روشن کیے۔ جامعہ بنوریہ العالمیہ سائٹ کے مہتمم مفتی نعیم مرحوم کی مادر علمی بھی یہی ادارہ تھا۔ مگر مفتی نعیم مرحوم نے اس ادارے کو بھی نہ بخشا اور اِسے منظم طور پر قبضے میں لینے کے لیے ایسے ایسے داؤ پیچ اختیار کیے کہ مذہبی حلقے سراسیمہ دکھائی دینے لگے۔ بنوری ٹاؤن میں فتنوں کا ایک الاؤ بھڑکا کر خود علامہ یوسف بنوری ؒ کے خاندان میں رخنے ڈالنے کی بھونڈی کوشش کی۔ یہ ادارہ جوخود اُن کے نام نامی سے ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچا ، مفتی نعیم مرحوم نے اس کے ٹرسٹ میں ہیر پھیر کرنے کی کوشش کی اور اسکے لیے خود اس خاندان کے غیر متعلق لوگوں کو استعمال کرنے کی مذموم سازش بھی کی ۔ اس دوران میں بنوری ٹاؤن کی زمین کے مالک کے طور پر ظفر سولیجا کے کاندھے کو استعمال کرنے کی بھی بھونڈی کوشش کی۔ سازش کے اس عرصے میں بنوری ٹاؤن سے وابستہ جلیل القدر علمائے کرام کے ساتھ پراسرار واقعات بھی پیش آئے۔ مفتی نعیم اُن دنوں کراچی کو قتل وغار ت کی آگ میں دہکائے رکھنے والی جماعت ایم کیوایم کی ناک کا بال بنے ہوئے تھے۔ اور کراچی کی مختلف زمینوں پر قبضوں میں ایم کیوایم اُنہیں اور یہ ایم کیوایم کو استعمال کرتے تھے۔ اس دوران علمائے کرام میں رخنے ڈالنے اور اہم معاملات میں اجتماعی موقف کو نقصان پہنچانے کے لیے مفتی نعیم مرحوم کو استعمال کیا جاتا رہا۔ علمائے کرام اس کے باوجود مفتی نعیم مرحوم کے حوالے سے ایک عوامی پوزیشن لینے سے بوجوہ کتراتے رہے۔ مفتی نعیم مرحوم نے مدارس اور مساجد پر قبضوں کے بدترین دھندے میں اپنی مادر علمی کو بھی نہیں بخشا۔ سازش کا یہ پورا عرصہ بنوری ٹاؤن پر نہایت بھاری گزرا ۔ یہاں تک کہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحما ن کو بنوری ٹاؤن کی حفاظت کے لیے خود کراچی میںایک ہفتے سے زیادہ قیام کرنا پڑا۔ مفتی نعیم مرحوم کی زندگی کا یہ باب اتنا گندا ، گدلا اور گھناؤنا ہے کہ جس کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے اُنہیں ایک عالم دین سمجھنا بھی گراں گزرتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ اُن کے بیٹے مفتی نعمان قبضوں کی اسی مکروہ وراثت کو تحفظ دے رہے ہیں اور اُن کے دور میں قبضہ گروپ خوب پھل پھول رہا ہے۔


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں