میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کیلئے روپے کی قدرگرائی ،وزیرخزانہ کااعتراف

آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کیلئے روپے کی قدرگرائی ،وزیرخزانہ کااعتراف

ویب ڈیسک
جمعه, ۱۵ اکتوبر ۲۰۲۱

شیئر کریں

وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف سے ٹیکنیکل لیول مذاکرات مکمل کرلئے ہیں،آئی ایم ایف کے ساتھ قرضے کی چھٹی قسط میرے دورے کا سب سے اہم جزوہے،کامیاب پاکستان پروگرام کے ذریعے چالیس لاکھ گھرانوں کو سستے قرضے دئے جائیں گے،پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ہم اقوام متحدہ کی قرار دوں کے تحت سمجھتے ہیں کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے، طالبان کے پاس کیش کی قلت ہے،اگر بین الاقوامی برادری نے مددنہ کی تو افغانستان میں بحران پیدا ہوسکتا ہے اس سے پاکستان سب سے زیادہ متاثر ہوگا،بین الاقوامی برادری کو افغانستان کی مدد کرنی چاہیے۔ انھوں نے کہاکہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی وجہ سے روپے کی قدر میں گراوٹ کی، ساٹھ کی دہائی میں پاکستان کی معیشت ایشیا کی چوتھی بڑی معیشت تھی، وقت کے ساتھ ہم نے معیشت کی سمت کھو دی۔ ہم نے ملکی معیشت کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔وفاقی وزیرخزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو ابتر حالت میں معیشت ورثے میں ملی، ہمارے قرضے غیر مستحکم سطح پر پہنچ گئے تھے، ہمیں معیشت کی سمت کو درست کرنے کیلئے مشکل اور غیر مقبول فیصلے کرنا پڑے، آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا اور کرنسی کی قدر میں گراوٹ کرنا پڑی۔ انہوںنے کہاکہ کورونا کی وبا نے عالمی معیشت کو بھی متاثر کیا،حکومت نے موثر انداز میں کورونا وباء کا مقابلہ کیا۔انہوںنے کہاکہ معاشی شرح نمو کو منفی صفر اعشاریہ پانچ فیصد سے چار اعشاریہ پانچ فیصد پر لے کرگئے انہوںنے کہاکہ ہمارے ساٹھ فیصد آبادی تیس سال سے کم عمر ہے۔ان کیلئے روزگار کا بندوبست کرنا ہے،ہم نے زراعت، صنعت، درآمدات اور ہاوسنگ میں اصلاحات کی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم اس سال پانچ فیصد کی شرح سے ترقی کریں گے،مستحق طبقے کو ترقی کے ثمرات پہنچائیں گے۔انہوںنے کہاکہ پاکستان گوادر میں بین الاقوامی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتاہے،ہم پائیدار بنیادوں پر ترقی کے حصول کیلئے کوشاں ہیں۔وزیر خزانہ نے کہاکہ ہم زراعت، گھرانوں کی تعمیر کیلئے سستے قرضے دے رہے ہیں،کمزورطبقے کو صحت کارڈ جاری کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ کامیاب پاکستان پروگرام کے ذریعے چالیس لاکھ گھرانوں کو سستے قرضے دئے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ آئی ایم ایف کے ساتھ قرضے کی چھٹی قسط میرے دورے کا سب سے اہم جزوہے،آئی ایم ایف سے ٹیکنیکل لیول مذاکرات مکمل کرلئے ہیں۔


مزید خبریں

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔  زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔  ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔  گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔  ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا،

دمشق: بشار الاسد کی شامی حکومت کے ڈرامائی زوال نے ان کی حکومت کے تاریک پہلوؤں کو بے نقاب کر دیا ہے، جن میں ممنوعہ منشیات کیپٹاگون کی صنعتی سطح پر برآمد شامل ہے۔ زرائع کے مطابق اپوزیشن فورسز نے ان اڈوں اور تقسیم کے مراکز پر قبضہ کر لیا ہے جہاں یہ نشہ آور گولیاں تیار کی جاتی تھیں اور پورے مشرق وسطیٰ میں بلیک مارکیٹ میں فروخت کی جاتی تھیں۔ ہیئت تحریر الشام کے زیر قیادت ان جنگجوؤں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے منشیات کی ایک بڑی کھیپ قبضے میں لے لی ہے اور اسے تباہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ایچ ٹی ایس کے جنگجوؤں نے اے ایف پی کے صحافیوں کو دمشق کے مضافات میں ایک کوئلے کے گودام تک رسائی دی، جہاں کیپٹاگون گولیوں کو برقی آلات کے پرزوں کے اندر چھپا کر برآمد کیا جا رہا تھا۔ گودام کے نیچے موجود ایک بڑے گیراج میں، ہزاروں کی تعداد میں مٹیالے رنگ کی کیپٹاگون گولیاں نئی گھریلو وولٹیج اسٹیبلائزرز کی تانبے کی کوائلز میں چھپائی گئی تھیں۔ ابو مالک الشامی نامی ایک نقاب پوش جنگجو نے کہا، "جب ہم نے گودام میں داخل ہو کر تلاشی لی، تو ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیکٹری ماہر الاسد اور اس کے ساتھی عامر خیتی کی ہے۔" ماہر الاسد سابق صدر بشار الاسد کا بھائی تھا، اب مفرور سمجھا جا رہا ہے۔ اس پر منشیات کی منافع بخش تجارت کے پیچھے ماسٹر مائنڈ ہونے کا الزام ہے۔ شامی سیاستدان عامر خیتی پر 2023 میں برطانوی حکومت نے پابندیاں عائد کی تھیں۔ 

Author One
جمعه, ۱۳ دسمبر ۲۰۲۴

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں