میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
امریکی انتخابات میں ٹرمپ کو دھچکا، عالمی سیاست میں نئی تبدیلیوں کا امکان

امریکی انتخابات میں ٹرمپ کو دھچکا، عالمی سیاست میں نئی تبدیلیوں کا امکان

جرات ڈیسک
هفته, ۷ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

امریکا کے وسط مدتی انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن پارٹی کو بڑا سیاسی دھچکا لگا ہے ۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں کامیابی حاصل کرکے کانگریس میں اپنی برتری قائم کرلی ہے ۔ یہ نتائج محض دو سیاسی جماعتوں کے درمیان انتخابی مقابلے کا فیصلہ نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، طرزِ حکمرانی اور امریکی عوام کی ترجیحات کے بارے میں ایک اہم پیغام بھی ہیں۔ ان انتخابات نے واضح کردیا ہے کہ امریکی سیاست میں صدر کی مقبولیت اور اس کی جماعت کی انتخابی کامیابی ہمیشہ ایک دوسرے سے وابستہ نہیں رہتیں۔

امریکی نظام میں وسط مدتی انتخابات کو صدر کی کارکردگی پر عوامی رائے کا اظہار سمجھا جاتا ہے ۔ ان انتخابات میں عوام یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ صدر کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کے لیے پارلیمانی حمایت جاری رکھنی چاہیے یا کانگریس میں مخالف جماعت کو زیادہ اختیار دے کر حکومتی فیصلوں پر نگرانی کا کردار سونپنا چاہیے ۔ اس مرتبہ نتائج ٹرمپ انتظامیہ کے حق میں نہیں آئے ۔ ڈیموکریٹس نے نہ صرف ری پبلکن اکثریت ختم کی بلکہ ان ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی جہاں روایتی طور پر ری پبلکن پارٹی مضبوط سمجھی جاتی رہی ہے ۔ان نتائج کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انتخابی مہم میں ٹرمپ خود مرکزی کردار بنے رہے ۔ انہوں نے اپنی جماعت کے امیدواروں کی حمایت میں بھرپور مہم چلائی اور ووٹروں سے کہا کہ وہ انتخاب کو ان کی اپنی کارکردگی کے تناظر میں دیکھیں۔ اس طرح انتخابی مقابلہ مقامی امیدواروں اور ان کے منشور تک محدود نہیں رہا بلکہ ٹرمپ کی حکومتی پالیسیوں پر عوامی فیصلے کی صورت اختیار کرگیا۔ جب نتائج سامنے آئے تو ری پبلکن امیدواروں کی شکست کو صدر کی سیاسی حکمت عملی اور ان کے اثرورسوخ کے لیے بھی ایک امتحان سمجھا گیا۔

انتخابی نتائج کے اسباب میں سب سے نمایاں مسئلہ مہنگائی اور عوامی اخراجات کا دباؤ تھا۔ امریکی شہریوں کے لیے روزمرہ اشیائے ضرورت، ایندھن اور دیگر اخراجات میں اضافہ ایک اہم مسئلہ بن چکا تھا۔ ڈیموکریٹس نے اپنی انتخابی مہم میں عام شہریوں کی معاشی مشکلات کو مرکزی حیثیت دی اور ٹرمپ انتظامیہ کی تجارتی محصولات کی پالیسی کو بھی مہنگائی سے جوڑا۔ عوامی سیاست میں معاشی مسائل کا اثر اس لیے بھی گہرا ہوتا ہے کہ شہری حکومتی دعووں کے بجائے اپنی روزمرہ زندگی کے تجربات سے فیصلے کرتے ہیں۔ جب گھر کا بجٹ متاثر ہو تو خارجہ پالیسی کے بڑے دعوے بھی ووٹر کی ترجیحات میں ثانوی حیثیت اختیار کرسکتے ہیں۔

ایران کے ساتھ جنگ بھی انتخابی ماحول پر اثرانداز ہوئی۔ اس تنازعے نے امریکا میں ایندھن کی قیمتوں اور معاشی غیر یقینی صورت حال کو مزید اہم بنا دیا۔ جنگ کے اخراجات، اس کے ممکنہ پھیلاؤ اور امریکی عوام پر پڑنے والے معاشی اثرات کے بارے میں سوالات اٹھے ۔ ڈیموکریٹک امیدواروں نے اس معاملے کو حکومتی پالیسیوں پر تنقید کے لیے استعمال کیا۔ انتخابی نتائج سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکی ووٹر بیرونی محاذ پر طاقت کے مظاہرے کے ساتھ ساتھ اپنی معاشی سلامتی اور داخلی مسائل کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔

ٹرمپ کی انتخابی حکمت عملی کا ایک اور پہلو امیدواروں کے انتخاب میں ان کی ذاتی ترجیحات اور حمایت تھا۔ انہوں نے کئی اہم ریاستوں میں ایسے امیدواروں کی پشت پناہی کی جو ان کے سیاسی نظریات اور تحریک سے قریب تھے ۔ تاہم انتخابات نے دکھایا کہ کسی صدر کی حمایت امیدوار کی کامیابی کی ضمانت نہیں ہوتی۔ ووٹر امیدوار کی شخصیت، سیاسی ریکارڈ، مقامی مسائل اور حکومتی کارکردگی کو بھی دیکھتے ہیں۔ ری پبلکن جماعت کے لیے یہ نتیجہ اس سوال کو اہم بناتا ہے کہ آیا مستقبل میں بھی پارٹی کی انتخابی حکمت عملی ایک ہی شخصیت کے گرد گھومتی رہے گی یا اسے وسیع تر عوامی ترجیحات کے مطابق تبدیل ہونا پڑے گا۔

کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی کے بعد امریکی سیاست میں ایک نئے مرحلے کا آغاز ہوگا۔ اب ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی، بجٹ اور حکومتی تقرریوں سمیت کئی اہم معاملات میں ڈیموکریٹک قیادت سے مذاکرات کرنا ہوں گے ۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں میں مخالف جماعت کی اکثریت صدر کے لیے اپنی ترجیحات کو قانون کی شکل دینا مشکل بنا سکتی ہے ۔ اس کے علاوہ ڈیموکریٹس کانگریس کی نگرانی کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلوں، سرکاری اخراجات اور حکومتی اداروں کی کارکردگی کی تحقیقات کرسکتے ہیں۔ ان تحقیقات کے دوران وہ سرکاری حکام کو وضاحت کے لیے طلب کرنے ، اہم دستاویزات اور ریکارڈ حاصل کرنے اور عوامی سماعتیں منعقد کرنے کا اختیار بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ خاص طور پر صدر ٹرمپ کے کاروباری مفادات، ان کے قریبی ساتھیوں کے سرکاری معاملات میں کردار، سرکاری ٹھیکوں اور بعض حکومتی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔ اس عمل سے ٹرمپ انتظامیہ پر سیاسی اور انتظامی دباؤ بڑھے گا اور اسے کانگریس کے سامنے اپنے فیصلوں کا دفاع کرنا پڑے گا۔

امریکا کی کانگریس دراصل ملک کا قانون ساز ادارہ ہے ، جو دو ایوانوں پر مشتمل ہے ۔ ان میں ایوانِ نمائندگان (ایوانِ زیریں) اور سینیٹ (ایوانِ بالا) شامل ہیں۔ دونوں ایوان قانون سازی، بجٹ کی منظوری اور حکومتی معاملات کی نگرانی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ایوانِ نمائندگان میں عوام کی نمائندگی آبادی کے تناسب سے ہوتی ہے ، جبکہ سینیٹ میں ہر ریاست کو برابر نمائندگی حاصل ہے ۔ جب کسی ایک سیاسی جماعت کو دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل ہو جائے تو اسے قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر اثرانداز ہونے کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔سینیٹ میں ان کی اکثریت اہم سرکاری عہدوں کے لیے نامزدگیوں اور تقرریوں پر بھی اثرانداز ہوگی۔اس صورت حال میں ٹرمپ کو اپنی حکومتی حکمت عملی میں تبدیلی اور سیاسی مفاہمت کی ضرورت پیش آسکتی ہے ۔ تاہم یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ کانگریس میں ڈیموکریٹس کی کامیابی سے صدر کے تمام اختیارات ختم ہوگئے ہیں۔ امریکی آئین کے تحت صدر کے پاس انتظامی اختیارات موجود رہیں گے ، لیکن قانون سازی اور بجٹ کے معاملات میں کانگریس کا تعاون حاصل کرنا ضروری ہوگا۔ اگر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بڑھتے ہیں تو اہم قوانین کی منظوری رک سکتی ہے اور حکومت کے کئی منصوبے سیاسی تعطل کا شکار ہوسکتے ہیں۔

عالمی سیاست کے تناظر میں بھی ان نتائج کی اہمیت کم نہیں۔ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی پہلے ہی کئی ممالک کے لیے غیر یقینی صورت حال پیدا کرتی رہی ہے ۔ تجارتی محصولات، اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات، ایران کے ساتھ کشیدگی اور چین کے بارے میں امریکی حکمت عملی عالمی سطح پر زیرِ بحث رہی ہے ۔ اب کانگریس میں ڈیموکریٹس کی اکثریت ان پالیسیوں پر سوال اٹھانے اور انتظامیہ سے وضاحت طلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے ۔ اس سے امریکی خارجہ پالیسی کے اندر سیاسی بحث اور ادارہ جاتی نگرانی میں اضافہ ہوسکتا ہے ۔تاہم کانگریس کے نتائج کو امریکی خارجہ پالیسی میں فوری اور مکمل تبدیلی کا اعلان سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ صدر کے پاس سفارتی اور انتظامی فیصلوں کے لیے اپنے آئینی اختیارات موجود ہیں۔ اس لیے ایران، چین، روس، مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے بارے میں امریکی پالیسی کا مستقبل صرف انتخابی نتائج سے طے نہیں ہوگا بلکہ وائٹ ہاؤس، کانگریس اور عالمی حالات کے باہمی تعلق سے تشکیل پائے گا۔ البتہ اب صدر کو اپنی پالیسیوں کے دفاع کے لیے پہلے سے زیادہ سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے ۔

پاکستان کے لیے بھی یہ صورت حال اہم ہے ۔ امریکا پاکستان کا ایک اہم عالمی شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات میں سلامتی، تجارت، سرمایہ کاری، علاقائی استحکام اور سفارت کاری جیسے معاملات شامل ہیں۔ واشنگٹن میں سیاسی طاقت کے توازن کی تبدیلی سے پاکستان کو یہ دیکھنا ہوگا کہ امریکی انتظامیہ اور کانگریس میں پاکستان سے متعلق پالیسیوں پر کیا بحث ہوتی ہے ۔ پاکستان کو کسی ایک امریکی جماعت سے غیر معمولی توقعات وابستہ کرنے کے بجائے اپنے قومی مفادات، معاشی ترجیحات اور علاقائی ضروریات کی بنیاد پر تعلقات آگے بڑھانے چاہییں۔ خاص طور پر ایران کے ساتھ کشیدگی، افغانستان کی صورت حال اور خطے میں امن کے معاملات پاکستان کے لیے براہِ راست اہمیت رکھتے ہیں۔ان انتخابات کا ایک اہم سبق یہ بھی ہے کہ جمہوری معاشروں میں عوامی حمایت مستقل نہیں ہوتی۔ کوئی بھی سیاسی جماعت اگر عوامی مسائل کو نظرانداز کرے ، معاشی مشکلات کا مؤثر حل پیش نہ کرسکے یا اپنی سیاسی حکمت عملی کو عوامی ترجیحات سے الگ کرلے تو اسے انتخابی نتائج میں اس کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ سیاسی مقبولیت صرف جلسوں، نعروں اور قیادت کے دعووں سے قائم نہیں رہتی بلکہ اس کا تعلق عام شہری کی زندگی میں آنے والی بہتری سے ہوتا ہے ۔

امریکی وسط مدتی انتخابات نے ٹرمپ انتظامیہ کے لیے سیاسی چیلنج پیدا کردیا ہے ، لیکن ان نتائج کا اصل اثر آنے والے دنوں میں سامنے آئے گا۔ ڈیموکریٹس کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ صرف مخالف جماعت کی پالیسیوں پر تنقید نہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے قابلِ عمل قانون سازی اور سیاسی تعاون کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ٹرمپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کانگریس کے ساتھ محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرتے ہیں یا مفاہمت کے ذریعے اپنے باقی دورِ صدارت کو مؤثر بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ انتخابی فیصلہ امریکا کے جمہوری نظام میں طاقت کے توازن، عوامی احتساب اور سیاسی جواب دہی کی اہمیت کو نمایاں کرتا ہے ۔ دنیا کی بڑی طاقت ہونے کے باعث امریکا کی داخلی سیاست کے اثرات اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہتے ۔ اس لیے آنے والے دنوں میں واشنگٹن کی سیاسی کشمکش، حکومتی فیصلوں اور عالمی معاملات پر اس کے اثرات پوری دنیا کی توجہ کا مرکز رہیں گے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں