میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
اگر وقت تھک کر بیٹھ جائے ۔۔۔؟

اگر وقت تھک کر بیٹھ جائے ۔۔۔؟

ویب ڈیسک
جمعه, ۵ جون ۲۰۲۶

شیئر کریں

بے لگام / ستار چوہدری

ذرا تصور کیجیے !! ایک صبح آپ کی آنکھ کھلے اور دیوار پر لگی گھڑی کی سوئیاں اسی جگہ ٹھہری ہوں جہاں رات کو تھیں۔ آپ موبائل اٹھائیں،
اس کی اسکرین پر بھی وقت منجمد ہو، شہر کی تمام گھڑیاں خاموش ہوں، مسجدوں کے اوقات بے معنی ہو جائیں، دفاتر کی حاضریاں ختم ہو
جائیں، اسکولوں کی گھنٹیاں بجنا بھول جائیں اور دنیا پہلی بار وقت کے بغیر جاگے ۔عجیب بات یہ ہے کہ سورج پھر بھی طلوع ہو رہا ہو، ہوائیں
پھر بھی چل رہی ہوں، پرندے پھر بھی اڑ رہے ہوں، مگر انسان بے چین ہو۔ کیوں؟ کیونکہ انسان کو اصل میں زندگی سے زیادہ وقت کی فکر
ہوتی ہے ۔ ہم نے زندگی کو کبھی منٹوں، گھنٹوں اور کیلنڈروں سے الگ ہو کر دیکھا ہی نہیں،ہم صبح اس لیے نہیں جاگتے کہ ایک نیا دن شروع ہوا ہے ، بلکہ اس لیے جاگتے ہیں کہ گھڑی نے ہمیں جگایا ہے ۔ ہم کھانا بھوک سے کم اور وقت پر زیادہ کھاتے ہیں، ہم اپنے بچوں کو بڑھتے
ہوئے نہیں دیکھتے ، ہم صرف ان کی عمریں گنتے ہیں۔ ہم اپنے والدین کے سفید ہوتے بالوں کو محسوس نہیں کرتے ، ہم صرف یہ کہتے ہیں کہ
وقت بہت تیزی سے گزر گیا۔ شاید اسی لیے اگر وقت ایک دن تھک کر بیٹھ جائے تو سب سے پہلے انسان بے نقاب ہوگا۔ اسے معلوم ہوگا
کہ وہ برسوں سے زندگی نہیں جی رہا تھا، وہ صرف وقت کے پیچھے دوڑ رہا تھا۔ اور ممکن ہے اسی خاموش دن میں، جب گھڑیاں بولنا چھوڑ دیں،
انسان پہلی بار اپنے دل کی آواز سن لے ۔وقت کے رک جانے کا سب سے بڑا نقصان شاید معیشت کو نہ ہو، کاروبار کو نہ ہو، بلکہ ان بہانوں کو ہو جو ہم نے اپنی زندگی کے گرد لپیٹ رکھے ہیں۔
”میرے پاس وقت نہیں ہے ” ۔ یہ ایک ایسا جملہ ہے جو ہم دن میں کئی بار بولتے ہیں، اور آہستہ آہستہ اس پر یقین بھی کر لیتے ہیں۔
ماں باپ بچوں کو وقت نہیں دے پاتے ، اولاد بوڑھے والدین کے پاس نہیں بیٹھ پاتی، دوست دوست سے نہیں مل پاتا، اور انسان اپنے
آپ سے بھی نہیں مل پاتا۔ ہر طرف ایک ہی عذر سنائی دیتا ہے ” وقت نہیں ہے ” ۔مگر اگر ایک دن وقت واقعی رک جائے تو کیا ہوگا؟
شاید پہلی بار انسان کو احساس ہو کہ مسئلہ وقت کی کمی نہیں تھا، ترجیحات کی کمی تھی۔ جس باپ نے برسوں اپنے بیٹے سے کہا کہ بیٹا، !!ابھی
مصروف ہوں، وہ اچانک اس کے سامنے بیٹھا ہوگا اور اس کے پاس مصروف ہونے کا کوئی بہانہ نہیں ہوگا۔ جس بیٹے نے اپنی بوڑھی ماں
سے کہا تھا کہ امی !! فرصت ملی تو آؤں گا، وہ دیکھے گا کہ فرصت تو ہمیشہ موجود تھی، بس دل کہیں اور لگا ہوا تھا۔ اور پھر شاید بہت سے رشتے
خاموشی سے انسان کا محاسبہ شروع کر دیں، کیونکہ رشتے وقت نہیں مانگتے ، توجہ مانگتے ہیں، ہم نے وقت کو ایک دیوار بنا لیا ہے ، جس کے پیچھے
اپنی بے حسی، اپنی خود غرضی اور اپنی غفلت چھپا دیتے ہیں، حالانکہ سچ یہ ہے کہ بعض اوقات ایک لمحے کی محبت برسوں کی دوری پر بھاری پڑ
جاتی ہے ، اور بعض اوقات برسوں کی قربت بھی دلوں کے فاصلے کم نہیں کر پاتی، شاید وقت کے رک جانے کا سب سے خوبصورت منظر یہ ہو
کہ انسان دوڑنا چھوڑ دے ، وہ پہلی بار اپنے گھر کو گھر کی طرح دیکھے ، اپنے عزیزوں کو کیلنڈر کی تاریخوں کے بجائے دل کی نگاہ سے دیکھے ،
اور یہ سمجھے کہ زندگی کی اصل دولت بینک اکاؤنٹ میں نہیں، ان چہروں میں چھپی ہوتی ہے جو ہماری موجودگی کے منتظر رہتے ہیں۔ مگر سوال
یہ ہے کہ اگر وقت رک جائے تو کیا صرف رشتے بدلیں گے ۔؟ یا پھر اقتدار، دولت اور شہرت کے وہ تمام بت بھی گرنے لگیں گے جن کی عبادت انسان صدیوں سے کرتا آیا ہے ؟
وقت رک جائے تو شاید سب سے زیادہ خوف اُن لوگوں کو محسوس ہو جنہوں نے اپنی پوری زندگی گھڑی کی سوئیوں پر کھڑی کی ہوتی ہے ۔
وہ حکمران جو اقتدار کے دن گنتے ہیں، وہ تاجر جو منافع کے اعداد شمار میں جیتے ہیں، وہ سرمایہ دار جو ہر گزرتے لمحے کو دولت میں تبدیل کرنا
چاہتے ہیں، اچانک ایک ایسی دنیا میں کھڑے ہوں گے جہاں نہ کل قریب آرہا ہوگا اور نہ آج گزر رہا ہوگا، تب انسان ایک عجیب حقیقت سے ٹکرائے گا، وہ حقیقت یہ کہ اقتدار کی اصل طاقت وقت سے مستعار لی جاتی ہے ۔ بادشاہ اس لیے طاقتور ہوتا ہے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ
اس کے پاس ابھی وقت ہے ۔ امیر اس لیے دولت جمع کرتا ہے کہ اسے لگتا ہے ابھی اور جمع کی جاسکتی ہے ۔ لالچی اس لیے مطمئن نہیں ہوتا
کہ اسے امید ہوتی ہے اگلا دن مزید کچھ دے جائے گا، مگر جب وقت آگے بڑھنے سے انکار کردے تو ”مزید ”کا لفظ اپنی موت مر جاتا ہے ،
پھر نہ کوئی اگلا الیکشن رہتا ہے ، نہ اگلی ترقی، نہ اگلا عہدہ، نہ اگلا منصوبہ۔ انسان پہلی بار اُس مقام پر کھڑا ہوتا ہے جہاں اس کے پاس صرف
وہی کچھ بچتا ہے جو اس نے واقعی حاصل کیا تھا، نہ کہ وہ جو حاصل کرنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ اور شاید یہی لمحہ سب سے تکلیف دہ ہو۔ کیونکہ
انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ اس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اُن چیزوں کے پیچھے دوڑتے ہوئے گزار دیا جو ہمیشہ مستقبل میں تھیں۔ وہ حال
میں کبھی رہا ہی نہیں۔ وہ بچپن میں جوانی کا انتظار کرتا رہا، جوانی میں کامیابی کا، کامیابی کے بعد مزید کامیابی کا، اور پھر ایک دن بڑھاپے میں
بیٹھ کر سوچتا رہا کہ زندگی آخر گئی کہاں۔؟ وقت اگر تھک کر بیٹھ جائے تو شاید وہ انسان سے یہی سوال پوچھے ، تم مجھے پکڑنے کی کوشش کرتے رہے ، مگر کیا کبھی زندگی کو بھی پکڑنے کی کوشش کی تھی؟ اور اس سوال کا جواب شاید بہت کم لوگوں کے پاس ہو!!!
اور پھر، جب گھڑیاں خاموش ہوئے کافی دیر گزر چکی ہو، جب انسان اپنی دوڑ، اپنی مصروفیتوں، اپنے منصوبوں اور اپنے خوابوں کے
ملبے پر بیٹھ کر خود کو دیکھنے لگے ، تب شاید ایک اور حقیقت آہستہ آہستہ اس پر آشکار ہونے لگے ۔ وقت دراصل ہمارا دشمن نہیں تھا، ہم ساری عمر
وقت کو کوستے رہے ، کبھی کہا وقت کم ہے ، کبھی کہا وقت خراب ہے ، کبھی کہا وقت ساتھ نہیں دے رہا، مگر جب وقت خاموش ہوا تو معلوم ہوا کہ
مسئلہ وقت نہیں تھا، مسئلہ ہمارا طرزِ زندگی تھا، وقت تو ایک دریا کی طرح بہتا رہا، ہمیں موقع دیتا رہا کہ ہم محبت کرلیں، معاف کر دیں، سیکھ
لیں، بدل جائیں، کسی کا ہاتھ تھام لیں، کسی کے آنسو پونچھ دیں، کسی خواب کو حقیقت بنا لیں، مگر ہم دریا کے کنارے کھڑے صرف اس کی
رفتار ناپتے رہے ، ہم نے زندگی کو جینے کے بجائے ناپنے میں گزار دیا۔ اور شاید وقت کے رک جانے کا سب سے بڑا سبق یہی ہو کہ زندگی
کیلنڈر کے صفحات میں نہیں رہتی، وہ ان لمحوں میں رہتی ہے جو دل پر نقش ہو جائیں۔ انسان کی عمر اس کے سالوں سے نہیں، اس کے
احساسوں سے بنتی ہے ۔ بعض لوگ چالیس برس میں بھی زندگی نہیں جیتے ، اور بعض لوگ چند لمحوں میں ایک پوری زندگی سمیٹ لیتے ہیں، پھر
شاید وقت، جو تھک کر بیٹھ گیا تھا، خاموشی سے اٹھ کھڑا ہو۔گھڑی کی سوئی دوبارہ حرکت کرے ، شہر میں زندگی لوٹ آئے ، دفاتر کھل جائیں،
بازار آباد ہو جائیں، سڑکوں پر شور واپس آ جائے ، مگر امید یہی ہوگی کہ اس ایک دن کی خاموشی نے انسان کو کچھ سکھا دیا ہو، یہ سکھا دیا ہو کہ
وقت کا پیچھا کرتے کرتے زندگی کو مت کھو دینا۔ کیونکہ المیہ یہ نہیں کہ وقت تیزی سے گزر جاتا ہے ، المیہ یہ ہے کہ اکثر لوگ وقت کے گزرنے
تک جینا ہی شروع نہیں کرتے ۔ اور جب انہیں زندگی کی حقیقت سمجھ آتی ہے تو گھڑی کی سوئیاں بہت آگے نکل چکی ہوتی ہیں۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں