میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
بھارتی اپوزیشن کا جمہوریت بچاؤ مارچ

بھارتی اپوزیشن کا جمہوریت بچاؤ مارچ

جرات ڈیسک
اتوار, ۸ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

بھارت میں ووٹر لسٹوں میں مبینہ دھاندلی اور ردوبدل کے خلاف یکم نومبر 2026 کو نئی دہلی میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ایک بڑا ‘جمہوریت بچاؤ مارچ’ نکالا گیا۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی سمیت اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں، طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں نے اس مارچ کی قیادت کی جو نئی دہلی کے وسطی علاقے سے شروع ہو کر رام لیلا میدان تک پہنچا۔اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں میں کی جانے والی متنازع نظرثانی اور لاکھوں/وڑوں ناموں کا اخراج حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔مظاہرین اور اپوزیشن رہنماؤں نے الیکشن کمیشن کے سربراہ سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے اور اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کا تقاضا کیا ہے۔

بھارتی الیکشن کمیشن اور حکمران جماعت بی جے پی نے ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ووٹر فہرستوں کو درست اور شفاف بنانے کے لیے قانون کے مطابق اقدامات کیے گئے ہیں۔نئی دہلی میں اس احتجاج کے پیش نظر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے اور کارروائی کے دوران کانگریس رہنما راہول گاندھی کو مختصر طور پر حراست میں بھی لیا گیا تھا۔بھارت میں بے روزگاری کے شکار اور پسے ہوئے طبقوں کے نوجوانوں کی آواز بننے والی کاکروچ پارٹی کی ملک گیر احتجاج کرنے کی دھمکی کارگر ثابت ہو گئی ہے۔ جس کے نتیجے میں الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹوں میں مبینہ گھپلوں کا جائزہ لینے کا حکم جاری کر دیا ہے۔کارکروچ پارٹی اس امر پر احتجاج کر رہی ہے کہ بھارتی الیکشن کمیشن کے سربراہ نے مبینہ طور پر ووٹر لسٹوں میں دھاندلی اور گھپلہ بازی کر کے لاکھوں ووٹرز کے نام غائب کر دیے ہیں۔الیکشن کمیشن کے سربراہ پر الزام ہے کہ وہ یہ سب کچھ بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی برتری کے لیے کر رہے ہیں۔ کاکروچ پارٹی نے حکومت مخالف ووٹروں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کی اس کوشش کو روکنے کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کے سربراہ گینیش کمار کے استعفے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے بصورت دیگر 2 اکتوبر سے ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ اس صورت حال کو زیادہ گھمبیر ہو جانے سے روکنے کے لیے الیکشن کمیشن سربراہ نے ووٹر لسٹ کے جائزے کا حکم دے دیا ہے۔گینیش کمار کو اس سے پہلے ان کے ماتحت الیکشن کمشنرز نے کئی بار متوجہ کیا تھا کہ ووٹر لسٹوں میں جاری تبدیلیوں سے لاکھوں بھارتی ووٹ کے حق سے محروم ہو جائیں گے۔ پچھلے دس ماہ کے دوران 14 بار الیکشن کمیشن کے سربراہ کے سامنے یہ مسئلہ رکھا گیا مگر وہ اس کو نظر انداز کرتے رہے۔ اب کاکروچ پارٹی کے احتجاج کے باعث انہیں ووٹر لسٹوں کے اس مبینہ گھپلے سے رکنا پڑا ہے۔الیکشن کمیشن نے اس معاملے کا جائزہ لینے کے کہا ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ آیا یہ ووٹر لسٹ الیکشن قوائد کے مطابق ہے یا نہیں۔ تاہم ابھی بھی یہ مسئلہ اٹھ سکتا ہے کہ الیکشن کمیشن اس معاملے کو بھارتی آئین میں دیے گئے شہریوں کے حق ووٹ کے تناظر میں کیوں دیکھنے کا کہنے سے گریزاں ہیں۔ وہ ووٹر لسٹ کو جمہوری اصولوں کے تحت کیوں دیکھنے سے بچ رہے ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں الزام لگاتی ہیں کہ الیکشن کمیشن میں ووٹر لسٹوں کے ساتھ یہ سارا کھلواڑ ‘بی جے پی’ کو انتخابی برتری دلواتے رہنے کے لیے کیا گیا ہے۔ جس پر خود الیکشن کمیشن کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ تاہم الیکشن کمیشن کے سربراہ کا موقف ہے کہ اداروں میں اختلاف رائے معمول کی بات ہے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے انتخابی فہرستوں میں بے ضابطگیوں کے حوالے سے الیکشن کمیشن سے وضاحت اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے،ووٹر فہرستوں میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی تبدیلی یا اہل ووٹروں کے نام خارج کیے جانے سے انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد متاثر ہوسکتا ہے۔دوسری جانب احتجاجی مارچ کے پیش نظر نئی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ بھارتی سکیورٹی اداروں نے رام لیلا میدان اور اس کے اطراف بڑی تعداد میں اہلکار تعینات کردیے ہیں۔ تعینات اہلکاروں کے پاس ڈھالیں اور لاٹھیاں موجود ہیں جبکہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق احتجاجی مارچ میں چیف الیکشن کمشنر گنیش کمار سے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جائے گا، انتخابی فہرستوں سے متعلق اٹھائے گئے اعتراضات کا مؤثر جواب دیا جائے اور انتخابی ادارے اپنی ذمہ داریاں غیر جانب دارانہ انداز میں ادا کریں۔

کانگریس رہنما راہول گاندھی اس سے قبل بھی انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور انتخابی عمل کی شفافیت کے معاملے پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔ اپوزیشن اتحاد اس احتجاج کے ذریعے اپنے تحفظات کو مشترکہ آواز دینے اور حکومت و الیکشن کمیشن پر معاملے کی وضاحت کے لیے دباؤ بڑھانا چاہتا ہے۔رام لیلا میدان میں ہونے والے جلسے میں اپوزیشن رہنماؤں کی جانب سے انتخابی اصلاحات، ووٹروں کے حقوق اور الیکشن کمیشن کی کارکردگی سے متعلق آئندہ کا لائحہ عمل پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ احتجاجی مارچ کو اپوزیشن اتحاد کی جانب سے انتخابی نظام میں شفافیت کے مطالبے پر مشترکہ سیاسی سرگرمی قرار دیا جارہا ہے۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں