میگزین

Magazine

ای پیج

e-Paper
وسط مدتی انتخاب اور صدرٹرمپ کامحاسبہ

وسط مدتی انتخاب اور صدرٹرمپ کامحاسبہ

جرات ڈیسک
اتوار, ۸ نومبر ۲۰۲۶

شیئر کریں

تین نومبر2026کوہونے والے وسط مدتی انتخابات ، امریکی سیاست کااہم موڑ ہیں۔ کانگریس کے دونوں ایوانوں ،ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں صدرڈونلڈ ٹرمپ کی جماعت ری پبلکن اکثریت سے محروم ہوچکی ہے اور اب اِن کاکنٹرول ڈیموکریٹک کے پاس آگیا ہے۔ یہ انتخابی نتائج محض نشستوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں،طرزِ حکمرانی اور عوامی ترجیحات کے درمیان بڑھتے فاصلے کی عکاسی کرتے ہیں۔ نتائج کے ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق ڈیموکریٹس کی سینیٹ میں کم ازکم سات نشستوں میں اضافہ ہواہے جبکہ ری پبلکن سے ایوانِ نمائندگان کی دودرجن سے زائد نشستیں بھی چھن گئی ہیں۔ دستیاب نتائج کے مطابق اب ایوانِ نمائندگان میں ڈیمو کریٹس کی 251 جبکہ ری پبلکنز کے پاس صرف155نشستیں رہ گئی ہیں۔ کچھ حلقوں میں ابھی گنتی جاری ہے۔ یوں100رُکنی سینیٹ میں دو آزاد ارکان کے شامل ہونے سے ڈیمو کریٹس کی مجموعی تعداد 54ہوگئی ہے ۔الاسکااور مسیسیپی کی دواہم نشستوں کے نتائج ابھی مکمل نہیں ہوئے ،مگر ڈیموکریٹس کوحریف امیدواروں پرکچھ برتری حاصل ہے ۔اگر یہ دونوں نشستیں بھی ڈیموکریٹس جیت جاتے ہیں تو سینیٹ میں اُن کی عددی برتری مزید مستحکم ہوجائے گی جہاں پہلے ہی اُنھیں غلبہ حاصل ہو چکا ہے ۔

امریکی نظام میں وسط مدتی انتخابات صدر کے چار سالہ دورِ حکومت کے درمیان منعقد ہوتے ہیں۔ اِن انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435نشستوں اور سینیٹ کی تقریباََ ایک تہائی نشستوں پر ووٹ ڈالے جاتے ہیں۔ اِس مرتبہ سینیٹ کی 35نشستیں انتخابی عمل کا حصہ تھیں جبکہ 36ریاستوں میں گورنروں کے انتخاب ہوئے۔ وسط مدتی انتخابات میں صدر خود اُمیدوار نہیں ہوتے لیکن اُن کی کارکردگی انتخابی مُہم کا اہم موضوع ہوتی ہے۔ وسط مدتی انتخابات کو صدر کی مقبولیت اور عوامی اعتماد کاامتحان سمجھا جاتا ہے۔ اِس امتحان میں صدرٹرمپ عوامی اعتماد کھوبیٹھے ہیں جس سے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگیسیتھ کونااہل اور بدعنوان کہنے کا مطالبہ شدت اختیارکرنے لگاہے۔ اِس کا مطلب جلد برطرفی ہے ۔مواخذے کے حامیوں میں کچھ ری یپبلکن تک شامل ہیں ۔

ڈیموکریٹس کی کامیابی کا اہم پہلویہ ہے کہ وہ ایسی ریاستوں میں بھی کامیاب ہوئے جہاں سے ٹرمپ نے نمایاں حیثیت سے برتری حاصل کی تھی۔ ٹیکساس ،کنساس،آئیووا،اوہائیواور شمالی کیرولائنامیں سینیٹ کی نشستیں ڈیموکریٹس کومل چکی ہیں، ٹیکساس میں جیمزٹالاریکو اور کنساس میں ایڈم ہیملٹن کی کامیابی کافی حیران کُن ہے کیونکہ مذکورہ ریاستوں میں ری پبلکن جماعت طویل عرصے سے مقبول اورمضبوط رہی ہے ۔علاوہ ازیں کئی ریاستوں میں ڈیمو کریٹک گورنروں کی کامیابی نے انتخابی نتائج کو مزید اہم بنا دیا ہے ،جس سے صدر ٹرمپ کے لیے بقیہ مدت کے دوران مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

عوام نے ٹرمپ کی جماعت سے آخر کیوں منہ موڑ لیا ہے؟انتخابی تجزیوں میں مہنگائی ،پٹرول اور توانائی کی بلند قیمتوں کے ساتھ روزمرہ اخراجات اور ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات کو اہم عوامل قراردیاجارہا ہے۔ امریکی ووٹرز کی اکثریت کوابتدامیں توقع تھی کہ ٹرمپ انتظامیہ مہنگائی پر قابو پائے گی اور روزمرہ کے اخراجات کو کم کرے گی لیکن ایسا نہیں ہوسکا جس سے حکمران جماعت کی عوامی مقبولیت متاثر ہوئی ۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے انتخابی سروے میں دس میں سے سات ووٹروں کا خیال تھا کہ صدر کے اختیارات پر کانگریس مناسب نگرانی نہیں کررہی جوظاہر کرتا ہے کہ حکومتی احتساب کا مطالبہ بھی عوامی سطح پر انتخابی فیصلے میں اہم رہا ہے۔

نتائج کے بعداب اہم سوال یہ ہے کہ ٹرمپ حکومت کے لیے مستقبل میں کیا راستہ ہوگا؟ قانون سازی، بجٹ،حکومتی اخرجات اور انتظامیہ کی نگرانی میں امریکی کانگریس کا بنیادی کردار ہوتا ہے جہاں اب ڈیموکریٹس ٹرمپ کے کئی قانون سازی کے منصوبوں کو روکنے، بجٹ پر سخت مذاکرات کرنے ،اہم تقرریوں کی مخالف کرنے اور حکومتی اِداروں کی تحقیقات شروع کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں ۔اب نہ صرف ایوانِ نمائندگان میں کمیٹیوں کی سربراہی تبدیل ہوگی بلکہ کانگریس کے سامنے وائٹ ہاؤس کو زیادہ جواب دہ ہونا پڑے گا۔ڈیمو کریٹک رہنما ہاکیم جیفریز کے ایوانِ نمائندگان کا اسپیکر بننے کا امکان بھی ہے، جس سے امریکی سیاست میں ایک تاریخی قسم کی تبدیلی رونما ہوسکتی ہے مگر یہ سمجھنا غلط ہوگا کہ کانگریس میں شکست کے بعد صدر کے اختیارات ختم ہو گئے ہیں۔ ٹرمپ بدستورصدر رہیں گے اور اپنے آئینی وانتظامی اختیارات بھی استعمال کرتے رہیں گے ۔خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے کئی معاملات میں صدر کا کردار کلیدی ہوتا ہے البتہ کانگریس کی مخالفت کی وجہ سے بجٹ،دفاعی اخراجات اور نئے قوانین کی منظوری میں مشکلات آسکتی ہیں لیکن مخالف قانون سازی کے جواب میں صدرکوحاصل ویٹوکااختیاربھی اہم ہے۔ البتہ اگردونوں جماعتوں میں کسی معاملے پر اتفاق نہیں ہوتا تو حکومتی شٹ ڈاؤن جیسے بحران جنم لیتے رہیں گے۔

امریکی خارجہ پالیسی پر حالیہ وسط مدتی انتخابات کے اثرات مرتب ہونے کا امکان موجود ہے ۔یوکرین جنگ ،مشرقِ وسطیٰ ،ایران،چین اورنیٹو کے ساتھ ایسے معاملات ہیں جن پر امریکی فیصلے ساری دنیا کو متاثر کرتے ہیں ۔ڈیموکریٹس، ٹرمپ انتظامیہ سے ایران کے ساتھ جنگ،دفاعی اخراجات،اور اتحادی ممالک سے تعلقات کے بارے میں وضاحت طلب کرنے کی پوزیشن میں آگئے ہیں مگر یہ توقع رکھنا کہ کانگریس کی تبدیلی کے ساتھ ہی امریکی خارجہ پالیسی مکمل طورپر بدل جائے گی، ایساممکن نہیں کیونکہ اِس کا انحصار صدر کے فیصلوں ، کانگریس کی قانون سازی اور عالمی حالات پر ہوگا۔

وسط مدتی انتخابی نتائج 2028کے صدارتی انتخابات کے لیے بھی اہم اِشارہ ہیں ۔ڈیمو کریٹس کے لیے کانگریس میں کامیابی یہ ثابت کرنے کے لیے اچھاموقع ہے کہ وہ صرف صدر ٹرمپ کی مخالفت ہی نہیں کرتے بلکہ عوامی مسائل کا قابلِ عمل حل بھی رکھتے ہیں۔ دوسری طرف ری پبلکن کو اپنی شکست کا جائزہ لینا اور سمجھنا ہوگا کہ مہنگائی،روزگاراور عوامی ضرویات کو نظر انداز کرنے کی بھاری سیاسی قیمت چکانا پڑتی ہے۔ امریکی انتخابات کا دنیا کی دوسری جمہوریتوں کے لیے بھی سبق ہے کہ جمہوریت میں اقتدار مستقل اختیار کا نام نہیں بلکہ یہ عوام کے سامنے جواب دہی کانظام ہے۔ مضبوط پارلیمان حکومت کی تائید کرنے کے ساتھ اِس کی نگرانی اور احتساب بھی کرتی ہے۔ امریکی ووٹرز نے اپنے ووٹ کے ذریعے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی صدر اور کوئی بھی جماعت عوامی فیصلے سے بالاتر نہیں۔ ٹرمپ سے یہ نتائج بقیہ صدارتی مدت میں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی اور سیاسی مفاہمت کا تقاضا کرتے ہیں، جبکہ ڈیمو کریٹس کے لیے یہ کامیابی ایک نئی ذمہ داری کا آغاز ہے ۔
٭٭٭


مزید خبریں

سبسکرائب

روزانہ تازہ ترین خبریں حاصل کرنے کے لئے سبسکرائب کریں